تحریر سید ساجد علی شاہ
وطنِ عزیز پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے، وہ محض سیاسی یا معاشی چیلنجز نہیں بلکہ ایک گہری روحانی اور اخلاقی آزمائش بھی ہیں۔ بظاہر مسائل مختلف شکلوں میں نظر آتے ہیں مہنگائی، بے روزگاری، تعلیمی بحران، ادارہ جاتی تناؤ مگر اگر ہم ان سب کو اسلامی زاویے سے دیکھیں تو ایک ہی حقیقت سامنے آتی ہے: یہ سب ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ بار بار ہمیں متوجہ کر رہے ہیں کہ سنبھل جاؤ، اپنے راستے درست کرو، ورنہ انجام اچھا نہیں ہوگا۔قرآنِ کریم میں بارہا یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ آزمائشیں محض سزا نہیں ہوتیں بلکہ تنبیہ اور اصلاح کا ذریعہ بھی ہوتی ہیں۔ جب کوئی قوم غفلت میں مبتلا ہو جائے، حق سے دور ہو جائے اور اپنی ذمہ داریوں کو بھول جائے تو اللہ تعالیٰ اسے مختلف طریقوں سے جھنجھوڑتا ہے تاکہ وہ بیدار ہو جائے۔ آج ہمارے حالات بھی کچھ اسی طرح کے ہیں۔ ہم بظاہر ترقی کی دوڑ میں شامل ہیں مگر اخلاقی، دینی اور اجتماعی اقدار سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔تعلیم کے شعبے کو ہی دیکھ لیں۔ اسلام میں علم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ پہلی وحی ہی “اقرأ” کے لفظ سے شروع ہوتی ہے، جو اس بات کا اعلان ہے کہ ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد علم پر ہونی چاہیے۔ مگر افسوس کہ آج ہمارے ہاں سکولوں کی بندش ایک معمول بنتی جا رہی ہے۔ کبھی کسی بحران کے نام پر، کبھی کسی انتظامی فیصلے کے تحت، بچوں کی تعلیم کو روک دیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف تعلیمی نقصان کا باعث بنتی ہے بلکہ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کھو چکے ہیں۔
ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں، اور اسلام ہمیں امانت کی حفاظت کا حکم دیتا ہے۔ اگر ہم اپنی نسلوں کو معیاری تعلیم، اخلاقی تربیت اور درست سمت فراہم نہیں کر رہے تو ہم اس امانت میں کوتاہی کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف دنیاوی تعلیم کافی نہیں، بلکہ دینی شعور اور اخلاقی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ ایک ایسا نظام تعلیم درکار ہے جو علم کے ساتھ ساتھ کردار بھی تعمیر کرے۔اسی طرح “منی لاک ڈاؤن” جیسے اقدامات بھی ہمارے سامنے ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر کھڑے ہیں۔ اسلام ہمیں اعتدال اور توازن کا درس دیتا ہے۔ اگر کسی فیصلے سے وقتی فائدہ ہو مگر اس کے نتیجے میں عوام کی زندگی مشکل ہو جائے، مزدور کا چولہا بجھ جائے اور بچوں کی تعلیم رک جائے تو ہمیں اس فیصلے پر غور کرنا ہوگا۔ شریعت کا اصول یہی ہے کہ آسانی پیدا کی جائے، مشکلات نہیں۔ لہٰذا ہر پالیسی کو عوامی فلاح اور اجتماعی بہتری کے پیمانے پر پرکھنا ضروری ہے۔آج ایک اور افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اپنے ہی اداروں کو نشانہ بنانے لگے ہیں۔ پاک فوج جیسے ادارے، جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں، جن کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کرنا کسی طور درست نہیں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنے محسنوں کی قدر کریں، ان کے لیے دعا کریں اور ان کی عزت کا خیال رکھیں۔ اختلاف رائے ضرور ہو، مگر اس کا انداز مہذب اور تعمیری ہونا چاہیے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ جب قومیں اپنے محافظوں پر اعتماد کھو دیتی ہیں تو ان کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ دشمن کو ہمیں کمزور کرنے کے لیے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی، ہم خود ہی اندر سے ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اداروں کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کی اصلاح بھی چاہتے ہوں مگر ان کی تذلیل نہ کریں۔
معاشی حالات بھی ہمارے لیے ایک بڑی آزمائش بن چکے ہیں۔ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور وسائل کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ مگر اگر ہم اسلامی اصولوں کو دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ برکت کا تعلق صرف وسائل سے نہیں بلکہ نیت، دیانت اور انصاف سے ہوتا ہے۔ جب معاشرے میں جھوٹ، دھوکہ، سود اور ناانصافی بڑھتی ہے تو برکت ختم ہو جاتی ہے اور مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔زکوٰۃ، صدقہ، دیانتداری اور عدل یہ وہ اصول ہیں جو ایک اسلامی معیشت کی بنیاد ہیں۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنائیں تو نہ صرف ہماری معیشت بہتر ہو سکتی ہے بلکہ معاشرتی انصاف بھی قائم ہو سکتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہم نے ان اصولوں کو نظر انداز کر دیا ہے اور اسی کا نتیجہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی اس دور میں بہت اہم ہو چکا ہے۔ ایک خبر لمحوں میں پورے ملک میں پھیل جاتی ہے۔ مگر اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر خبر کو تحقیق کے بعد قبول کیا جائے۔ بغیر تحقیق کے بات آگے بڑھانا فتنہ کا سبب بن سکتا ہے۔ آج ہمیں اس تعلیم کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ جھوٹی خبریں اور افواہیں معاشرے کو تقسیم کر دیتی ہیں۔
اسلامی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب بھی امت نے اللہ پر بھروسہ کیا، اتحاد کو اپنایا اور اپنے اعمال کو درست کیا، اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت عطا فرمائی۔ اور جب بھی ہم نے غفلت اختیار کی، آپس میں اختلافات کو بڑھایا اور دنیاوی مفادات کو ترجیح دی، ہم کمزور ہو گئے۔آج بھی اللہ تعالیٰ ہمیں بار بار مختلف آزمائشوں کے ذریعے متوجہ کر رہے ہیں۔ کبھی قدرتی آفات، کبھی معاشی مشکلات، کبھی سماجی مسائل یہ سب ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے ہیں۔ یہ ایک پیغام ہے کہ ہم اپنی اصلاح کریں، اپنے رب کی طرف رجوع کریں اور اپنی زندگیوں کو اس کے احکامات کے مطابق ڈھالیں۔
یہ وقت صرف حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا بھی ہے۔ ہمیں بطور قوم یہ سوچنا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کہاں جانا چاہتے ہیں۔ کیا ہم نے دیانتداری کو اپنایا؟ کیا ہم نے اپنے فرائض پورے کیے؟ کیا ہم نے اپنے معاشرے میں انصاف کو فروغ دیا؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو ہمیں اپنی روش بدلنی ہوگی۔
وطنِ عزیز پاکستان ہمیں بڑی قربانیوں کے بعد ملا ہے۔ یہ صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، ایک امانت ہے۔ ہمیں اس امانت کی حفاظت کرنی ہے اور اسے ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جاگتے رہو، وقت بدل رہا ہے صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک الٰہی پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جھنجھوڑ کر بار بار کہہ رہے ہیں: سنبھل جاؤ، اپنے راستے درست کرو، ورنہ وقت تمہیں بدل دے گا۔اگر ہم نے اس پیغام کو سمجھ لیا، اپنے اعمال کو درست کر لیا اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان مشکلات سے نکل نہ سکیں۔ لیکن اگر ہم نے غفلت کو جاری رکھا تو یہ آزمائشیں مزید سخت ہو سکتی ہیں۔
لہٰذا آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں گے، اپنے کردار کو بہتر بنائیں گے، اپنے معاشرے کو سنواریں گے اور اپنے وطن کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ کیونکہ کامیابی اسی میں ہے کہ ہم دنیا میں بھی سرخرو ہوں اور آخرت میں بھی کامیاب
Latest Posts
انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، وزیراعلیٰ سندھفی لٹر قیمت میں 100 روپے اضافہ؟ حکومت کی جانب سے جلد عوام پر نیا پٹرول بم گرانے کی اطلاعاتسکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج کی نقل و حمل ناکام بنادی، 8 دہشت گرد ہلاکپنجاب حکومت کی صوبہ بھر میں گوبر پر بھی ٹیکس لگانے کی تیاریوزیرِ اعظم شہباز شریف کا شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کو خراج تحسین
