کیا ہمارا قلم امت کا درد رکھتا ہے؟

احمد شفیق
رات کی خاموشی میں جب ایک کورا کاغذ مجھے دیکھتا ہے تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ قلم کی نوک سیاہی سے کہیں زیادہ میرے ضمیر کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ ایک چبھتا ہوا سوال ذہن کے دریچوں پر مسلسل دستک دے رہا ہوتا ہے: کیا واقعی میرے اس قلم کی دھڑکنوں میں امت کا وہ درد باقی رہا بھی ہے یا نہیں! جو کبھی ہمارے اسلاف کی تحریروں کی جان ہوا کرتا تھا؟ آج جب میں اطراف میں دیکھتا ہوں تو امتِ مسلمہ ایک ایسا زخم خوردہ وجود دکھائی دیتی ہے جس کا ہر حصہ کسی نہ کسی کرب میں مبتلا ہے۔ غزہ کی بارود میں اٹی فضائیں ہوں یا کشمیر کی اداس اور خاموش وادیاں، بے بسی کا ایک طویل نوحہ ہے جو ہواؤں میں بکھرا پڑا ہے۔ لیکن کیا میری روشنائی میں اس نوحے کی کوئی تپش، کوئی حرارت موجود ہے؟ یہ سوالات میرے ذہن کو چیر دیتے ہیں۔ہم نے لفظوں کی جادوگری اور جملوں کی بنت تو خوب سیکھ لی ہے مگر ہم فروعی اختلافات، گروہی تعصبات اور دنیاوی منفعت کے لیے تو روزانہ دفتر کے دفتر سیاہ کرتے ہیں۔ مگر جہاں بات کسی مظلوم کی سسکی کو آواز دینے آ جائے، وہاں ہمارے قلم کی روانی کسی انجانے خوف یا مصلحت کا شکار ہو کر دم توڑ نظر اتا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں حرف بازاروں میں بکتے ہیں اور سوچ کی بولیاں لگائی جاتی ہیں اور میں سمجھتا ہوں اس بات میں کوئی شک نہیں،اب ایسے میں “”امتِ واحدہ“ کا تصور محض ایک رسمی نعرہ اور کتابی بات بن کر رہ گیا ہے، جسے ہم اپنی تحریروں میں محض آرائشِ خیال کے لیے برتتے ہیں۔یہ ایک اٹل سچائی ہے کہ اندرونی کرب کے بغیر لکھی گئی تحریر ایک بے روح جسم کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جب تک قلم کی نوک کسی بے گناہ کے بہتے لہو اور کسی چھت سے محروم خاندان کی آہ کو اپنا حرف نہ بنائے، یاد رکھیے گا تب تک وہ قلم نہیں، محض ایک کھوکھلا اوزار ہے۔ امت کا درد رکھنا صرف چند مخصوص ایام میں لفظی ماتم کرنے کا نام تو ہرگز نہیں بل کہ یہ ایک دائمی اور بے چین کیفیت ہے۔ یہ اس گہرے شعور کا نام ہے کہ جغرافیائی سرحدوں سے ماورا، اگر زمین کے کسی بھی ٹکڑے پر امت کے کسی فرد کو تکلیف پہنچے، تو اس کی کسک یہاں میرے قلم کی گردش میں محسوس کی جا سکے۔آج کڑے محاسبے کی گھڑی ہے۔ ہمیں اپنے قلم کی حرمت کو پہچاننا اور اس کا قبلہ درست کرنا تو اب لازمی ہوگا۔ اسے مفادات اور مصلحتوں کی دبیز تہوں سے باہر نکالنا ہوگا کیوں کہ کل جب وقت کی عدالت میں تاریخ کے اوراق الٹے جائیں گے، تو کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ ہمارے الفاظ کتنے سحر انگیز اور استعارے کتنے دلفریب تھے، بل کہ اصل سوال یہ ہوگا کہ جب امت لہولہان تھی، تب ہمارا قلم کیا لکھ رہا تھا؟ کیا وہ ظالم کے سامنے ایک برہنہ شمشیر بنا ہوا تھا یا محض طاق پر سجا ہوا ایک نمائشی کھلونا تھا؟

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow