کام پورا، تنخواہ آدھی! برطانیہ میں زندہ رہنا بھی مشکل

تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی
برطانیہ جیسے ملک میں کبھی یہ تصور تھا کہ اگر انسان محنت کرے، وقت پر کام پر جائے، اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور پورا ہفتہ ایمانداری سے نوکری کرے تو زندگی کم از کم سکون سے گزر سکتی ہے۔ ایک عام آدمی اپنے گھر کے اخراجات چلا لیتا تھا، بچوں کا مستقبل سوچ لیتا تھا اور مہینے کے آخر میں مکمل تباہی کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ مگر آج حالات اتنے بدل چکے ہیں کہ فل ٹائم نوکری بھی انسان کو ذہنی سکون نہیں دے پا رہی۔آج برطانیہ میں لاکھوں لوگ ہر صبح اندھیرے میں گھر سے نکلتے ہیں، گھنٹوں کام کرتے ہیں، جسمانی اور ذہنی تھکن برداشت کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود مہینے کے آخر میں ان کے بینک اکاؤنٹس خالی ہوتے ہیں۔ محنت اب کامیابی کی ضمانت نہیں رہی بلکہ صرف زندہ رہنے کی ایک مسلسل کوشش بن چکی ہے۔کبھی فل ٹائم جاب کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ آپ اپنے خاندان کے ساتھ عزت سے زندگی گزار سکتے ہیں۔ ایک چھوٹا سا گھر، مناسب کھانا، سال میں ایک بار چھٹی، اور گاڑی خراب ہونے پر مکمل خوف محسوس نہ کرنا ایک عام بات تھی۔ مگر اب ایک اچانک خرچہ پورے مہینے کا بجٹ تباہ کر دیتا ہے۔کرایوں کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ برطانیہ کے بڑے شہروں میں عام تنخواہ والا شخص مناسب گھر لینے کے قابل نہیں رہا۔ لوگ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ صرف کرایہ ادا کرنے میں لگا دیتے ہیں، اور پھر باقی رقم میں پورا مہینہ گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو صرف بلوں اور کرائے کی ادائیگی کے بعد تقریباً خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔بجلی، گیس اور پانی کے بل مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ہر چند مہینوں بعد نئی قیمتیں آ جاتی ہیں اور عام آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ آخر یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا۔ سردیوں میں ہیٹنگ چلانا بھی کئی لوگوں کے لیے ذہنی دباؤ بن چکا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگلا بل ان کی مالی حالت مزید خراب کرے گا۔خوراک کی قیمتوں نے بھی لوگوں کو پریشان کر دیا ہے۔ سپر مارکیٹ جانے والا ہر شخص محسوس کرتا ہے کہ وہی چیزیں جو چند سال پہلے آسانی سے خریدی جا سکتی تھیں، اب مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔ لوگ مذاق میں کہتے ہیں کہ قیمتیں سپر مارکیٹ کے موڈ کے مطابق بدلتی ہیں، مگر حقیقت میں یہ مذاق ایک تلخ سچائی بن چکا ہے۔تنخواہوں کا مسئلہ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ اخراجات ہر سال بڑھتے جا رہے ہیں مگر اجرتیں تقریباً وہیں کھڑی ہیں۔ کئی شعبوں میں لوگ برسوں سے کام کر رہے ہیں مگر ان کی تنخواہ اتنی نہیں بڑھی جتنی مہنگائی بڑھی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ فل ٹائم کام کرنے والا انسان بھی مالی طور پر پیچھے جا رہا ہے۔سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس صورتحال میں عام محنت کش خود کو قصوروار سمجھنے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے شاید وہ کافی محنت نہیں کر رہا، شاید وہ پیسے سنبھال نہیں سکتا، شاید اس کی پلاننگ خراب ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ فرد نہیں بلکہ پورا معاشی نظام ہے۔آج کے دور میں بچت کرنا بھی ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ لوگ مہینے کے آخر میں صرف یہ دعا کرتے ہیں کہ کوئی ایمرجنسی نہ آ جائے۔ گاڑی خراب ہو جائے، کوئی طبی مسئلہ پیدا ہو جائے یا گھر میں کوئی اضافی خرچہ نکل آئے تو پورا بجٹ بکھر جاتا ہے۔برطانیہ میں نوجوان نسل کے لیے گھر خریدنا تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے لوگ چند سال نوکری کر کے ڈپازٹ جمع کر لیتے تھے، مگر اب کرایہ اور روزمرہ اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ بچت کے لیے کچھ باقی ہی نہیں بچتا۔ بہت سے نوجوان اب یہ ماننے لگے ہیں کہ شاید وہ کبھی اپنا گھر خرید ہی نہ سکیں۔یہ صورتحال صرف کم آمدنی والوں تک محدود نہیں رہی۔ اب وہ لوگ بھی دباؤ میں ہیں جو مڈل کلاس کہلاتے تھے۔ اساتذہ، نرسز، ڈرائیورز، دفتری ملازمین اور دیگر فل ٹائم ورکرز بھی مسلسل مالی پریشانی محسوس کر رہے ہیں۔کئی والدین اپنے بچوں کے سامنے پریشان نہیں ہونا چاہتے مگر اندر ہی اندر ٹوٹ رہے ہوتے ہیں۔ وہ پوری کوشش کرتے ہیں کہ بچوں کو نارمل زندگی ملے، مگر مہنگائی اور مسلسل بڑھتے اخراجات انہیں ذہنی طور پر تھکا دیتے ہیں۔ذہنی صحت پر اس معاشی دباؤ کے اثرات واضح نظر آ رہے ہیں۔ لوگ ہر وقت بلوں، قرضوں اور اخراجات کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ رات کو سونے سے پہلے اور صبح اٹھتے ہی پہلا خیال اکثر پیسوں کا ہوتا ہے۔سوشل میڈیا نے بھی اس احساس کو مزید بڑھا دیا ہے۔ لوگ دوسروں کی چمکتی ہوئی زندگیاں دیکھتے ہیں اور خود کو ناکام محسوس کرنے لگتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں لاکھوں لوگ ایک ہی جدوجہد کا شکار ہیں۔کئی خاندان اب دو دو نوکریاں کر رہے ہیں مگر پھر بھی مالی سکون حاصل نہیں کر پا رہے۔ میاں بیوی دونوں کام کرتے ہیں، پورا دن محنت کرتے ہیں، مگر مہینے کے آخر میں پھر بھی یہی سوال سامنے کھڑا ہوتا ہے کہ اگلا مہینہ کیسے گزرے گا۔ایک وقت تھا جب برطانیہ کو استحکام اور مضبوط معیشت کی مثال سمجھا جاتا تھا۔ دنیا بھر کے لوگ وہاں بہتر زندگی کے خواب لے کر جاتے تھے۔ مگر اب خود برطانیہ کے شہری یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ آخر مسلسل محنت کے باوجود زندگی آسان کیوں نہیں ہو رہی۔مہنگائی، ہاؤسنگ بحران، توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور معاشی عدم تحفظ نے عام انسان سے سکون چھین لیا ہے۔ لوگ صرف زندہ رہنے کے لیے کام کر رہے ہیں، زندگی کو انجوائے کرنے کے لیے نہیں۔سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایمانداری سے کام کرنے والے لوگ بھی اب خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ فل ٹائم نوکری کبھی تحفظ کی علامت سمجھی جاتی تھی، مگر اب یہ صرف مسلسل تھکن اور ذہنی دباؤ کا دوسرا نام بنتی جا رہی ہے۔معاشرے میں ایک خاموش غصہ بڑھ رہا ہے۔ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ نظام ان کے خلاف کام کر رہا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ بڑی کمپنیاں منافع کما رہی ہیں، مگر عام ورکر کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔یہ کہنا غلط ہوگا کہ لوگ محنت نہیں کرنا چاہتے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ لوگ پہلے سے زیادہ کام کر رہے ہیں، زیادہ گھنٹے لگا رہے ہیں، زیادہ دباؤ برداشت کر رہے ہیں، مگر اس کے باوجود بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
آج برطانیہ میں لاکھوں لوگ صرف ایک چیز چاہتے ہیں: ایسی زندگی جہاں فل ٹائم کام کرنے کے بعد کم از کم اتنا سکون ہو کہ انسان ہر وقت خوف اور پریشانی میں نہ جیے۔ جہاں تنخواہ صرف بل ادا کرنے کے لیے نہ ہو بلکہ زندگی گزارنے کے لیے بھی کافی ہو۔انسان صرف زندہ رہنے کے لیے نہیں جیتا۔ وہ سکون، عزت، تحفظ اور بہتر مستقبل کی امید کے لیے بھی جیتا ہے مگر جب پورا نظام ہی انسان کو مسلسل دوڑاتے ہوئے بھی منزل نہ دے، تو پھر تھکن صرف جسم میں نہیں بل کہ روح میں بھی اتر جاتی ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow