تحریر: عبدالجبار سلہری، جویا شریف
انسانی تاریخ کے اوراق اگر تدبر سے پلٹے جائیں تو ایک حقیقت پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں دکھائی دیتی ہے کہ انسان کا سب سے عظیم سرمایہ دولت، اقتدار یا شہرت نہیں، بلکہ “اعتماد” ہے۔سلطنتیں تلوار کے زور پر فتح کی گئیں، مگر دل ہمیشہ اخلاص، وفا اور سچائی سے مسخر ہوئے۔ انسان اینٹ اور پتھر کے مکانوں میں کم، اور تعلقات کے سائے میں زیادہ زندہ رہتا ہے۔ جب کسی دل کو یہ یقین حاصل ہو جائے کہ دنیا کے شور، فریب اور ہنگاموں کے درمیان کوئی ایک ہستی ایسی بھی موجود ہے جو بنا غرض، بنا مصلحت اور بنا دھوکے کے اس کا ساتھ دے گی، تو یہی احساس اس کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ بن جاتا ہے۔تعلق اگر اخلاص، وفا اور صداقت کے چراغ سے روشن ہو تو وہ محض ایک رشتہ نہیں رہتا، بلکہ انسان کی روح کا حصار بن جاتا ہے۔ یہی تعلق تھکے ہوئے انسان کے لیے سکون کا دروازہ، بے یقینی کے اندھیروں میں امید کی آخری کرن، اور شکستہ دل کے لیے مرہم ثابت ہوتا ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن لوگوں کو مخلص رفقاء، وفادار ساتھی اور سچے تعلقات میسر آئے، وہ شدید ترین آزمائشوں کے باوجود اندر سے نہیں ٹوٹے۔مگر یہی تعلق جب جھوٹ، فریب اور منافقت سے آلودہ ہو جائے تو پھر یہی انسان کی زندگی کا سب سے مہلک زہر بن جاتا ہے۔ دھوکا محض ایک وقتی واقعہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ انسان کی پوری نفسیات کو مجروح کر دیتا ہے۔ تلوار جسم پر زخم لگاتی ہے، مگر اپنوں کا فریب روح کو زخمی کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اذیتوں میں سے ایک اذیت “اعتماد کا قتل” ہے۔اسلام نے تعلقات کو محض جذباتی وابستگی قرار نہیں دیا، بلکہ اسے ایک اخلاقی اور ایمانی ذمہ داری بنایا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔“( سورۃ التوبہ، آیت 119)
یہ آیت صرف سچ بولنے کا حکم نہیں، بلکہ سچے تعلقات اختیار کرنے کا بھی منشور ہے۔ انسان جس مجلس، جس دوستی اور جس تعلق میں بیٹھتا ہے، وہی اس کی روح، فکر اور شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔امام ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو سچوں کی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ نفاق اور جھوٹ سے محفوظ رہیں۔“( تفسير ابن كثير، جلد 4، صفحہ 203)
اسی طرح رسولِ اکرم ﷺ نے تعلقات کی اصل بنیاد “امانت” کو قرار دیتے ہوئے فرمایا:
”اس شخص کا ایمان کامل نہیں جس میں امانت داری نہیں۔“(مسند أحمد، جلد حدیث: 12383)
امام عبد الرؤوف مناوی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: ”امانت صرف مال تک محدود نہیں، بلکہ دل، راز، محبت اور تعلقات بھی امانت میں شامل ہیں۔“(فيض القدير)
یہی وہ مقام ہے جہاں تعلق عبادت کی صورت اختیار کر لیتا ہے؛ کیونکہ کسی انسان کے جذبات کو محفوظ رکھنا بھی عظیم اخلاقی ذمہ داری ہے۔اگر انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ نقصان دشمنوں نے نہیں بل کہ اپنوں کے بھیس میں چھپے فریب کاروں نے پہنچایا۔ تاریخِ انبیاء علیہم السلام سے لے کر جدید سیاسی نظاموں تک، ہر دور میں دھوکے نے تہذیبوں کو اندر سے کھوکھلا کیا ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے حسد اور فریب کی بنیاد پر انہیں کنویں میں پھینک دیا۔ قرآنِ مجید اس منظر کو یوں بیان کرتا ہے:
”اور وہ ان کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر لے آئے۔“(سورۃ یوسف، آیت: 18)
امام محمد بن جریر طبری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
”یہ صرف ایک جھوٹ نہ تھا بلکہ اعتماد کے قتل کی ابتدا تھی۔“( تفسير الطبري)
قابلِ غور حقیقت یہ ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو سب سے زیادہ صدمہ بھیڑیے کے حملے سے نہیں، بلکہ اپنے بیٹوں کے فریب سے پہنچا۔ دشمن کا وار متوقع ہوتا ہے، مگر اپنوں کا دھوکا روح کو چیر دیتا ہے۔
اسی طرح تاریخِ اسلام میں منافقین کا کردار اس حقیقت کی واضح مثال ہے۔ غزوۂ اُحد میں مسلمانوں کو جو نقصان پہنچا، اس کی ایک بڑی وجہ اندرونی نفاق تھا۔ عبداللہ بن اُبی جیسے لوگ بظاہر مسلمان تھے، مگر باطن میں دھوکے کا زہر رکھتے تھے۔
قرآنِ مجید منافق کی دوغلی شخصیت کو یوں بیان کرتا ہے:
”اور جب اپنے شیطانوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں۔“( سورۃ البقرہ، آیت: 14)
یہ دوغلا پن دراصل تعلقات کی سب سے خطرناک صورت ہے۔معاشرتی اور نفسیاتی علوم بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ جذباتی دھوکا جسمانی اذیت سے کہیں زیادہ گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ معروف ماہرِ نفسیات جوڈتھ ہرمن اپنی کتاب ٹراما اینڈ ریکوری میں لکھتی ہیں:
”جذباتی دھوکا انسان کے اعصابی نظام پر وہ اثر ڈالتا ہے جو جنگی صدمات کے مشابہ ہو سکتا ہے۔“( ٹراما اینڈ ریکوری، صفحہ 56)
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ سانپ صرف جسم میں زہر اتارتا ہے، مگر دھوکے باز انسان روح میں زہر گھول دیتا ہے۔
حضرت علی بن ابی طالب کا مشہور قول ہے:
”عاقل دشمن، جاہل دوست سے بہتر ہے۔“(نهج البلاغة)
دشمن سامنے سے حملہ کرتا ہے، جب کہ فریب کار تعلق کے لباس میں وار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دھوکے کے بعد انسان صرف ایک فرد سے بدظن نہیں ہوتا بلکہ پوری دنیا سے اس کا اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔
امام غزالی تعلقات کے فساد پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”جب اعتماد ٹوٹ جاتا ہے تو دل میں خوف اور بدگمانی داخل ہو جاتی ہے۔“( إحياء علوم الدين)
جدید دنیا میں تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ نازک، سطحی اور مفاد پرست ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا نے انسانوں کو قریب کم اور مصنوعی زیادہ بنا دیا ہے۔ اب تعلقات کردار پر نہیں بل کہ “پرفارمنس” پر قائم ہو رہے ہیں۔ لوگ محبت کم کرتے ہیں اور تاثر زیادہ بیچتے ہیں۔ اخلاص کے بجائے “امیج” کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
معروف ماہرِ عمرانیات زیگمنٹ باومن اپنی کتاب لیکوئڈ لو میں لکھتا ہے:
”جدید تعلقات وقتی جذبات اور فوری مفاد کے گرد گھومتے ہیں، اس لیے ان میں پائیداری کم اور اضطراب زیادہ ہوتا ہے۔“( لیکوئڈ لو، صفحہ 12)
یہی وجہ ہے کہ آج انسان کے پاس سینکڑوں رابطے ہیں، مگر ایک بھی مخلص کندھا نہیں۔ لوگ لفظوں میں محبت بانٹتے ہیں، مگر وقتِ آزمائش غائب ہو جاتے ہیں۔
موجودہ سیاسی نظام بھی اسی اجتماعی دھوکے کی ایک بڑی مثال ہے۔ سیاسی جماعتیں عوام کے ساتھ اعتماد کا تعلق قائم کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں، مگر اقتدار ملنے کے بعد اکثر وعدے فراموش کر دیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً پورا معاشرہ اجتماعی بداعتمادی کا شکار ہو جاتا ہے۔
فرانسیسی فلسفی ژاں ژاک روسو نے بجا طور پر لکھا ہے:
”جب معاشرے میں اعتماد مر جائے تو قانون بھی انسان کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔“( دی سوشل کنٹریکٹ)
وفا صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں۔ وفا یہ ہے کہ انسان کسی کے کمزور لمحوں میں بھی اس کا ہاتھ نہ چھوڑے۔ وفا یہ ہے کہ کسی کے راز، جذبات اور اعتماد کو امانت سمجھے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“( صحيح البخاري، حدیث: 10)
امام نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
”ایذا میں صرف جسمانی نقصان شامل نہیں بلکہ نفسیاتی اور قولی اذیت بھی شامل ہے۔“( شرح النووي على مسلم)
گویا کسی کے اعتماد کو توڑنا بھی ایک قسم کی اذیت ہے۔
حضرت عمر بن خطاب فرمایا کرتے تھے:
”آدمی کی نماز اور روزہ نہ دیکھو، بلکہ یہ دیکھو کہ وہ سچائی اور امانت میں کیسا ہے۔“(شعب الإيمان للبيهقي)
یہی اصل معیار ہے کیوں کہ میٹھا لہجہ، خوبصورت الفاظ اور مصنوعی محبت کسی کے باطن کی ضمانت نہیں ہوتے۔
اسلام نے منافقت کو کفر کے بعد سب سے بڑا اخلاقی جرم قرار دیا ہے، کیونکہ منافق اعتماد کو تباہ کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور امانت دی جائے تو خیانت کرے۔“(صحيح البخاري، حدیث: 33)
امام ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
”یہ اوصاف لوگوں کے درمیان اعتماد کو تباہ کر دیتے ہیں۔“( فتح الباري)
جدید نفسیاتی تحقیقات بھی ثابت کرتی ہیں کہ تعلقاتی دھوکا انسان کے دماغ اور شخصیت دونوں پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ ایسے افراد اکثر اضطراب، ذہنی دباؤ اور اعتماد کے بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔
معروف ماہرِ نفسیات برینی براؤن لکھتی ہیں:
”کمزور پہلو ظاہر کیے بغیر تعلق قائم نہیں ہوتا، مگر دھوکا انسان کو دوبارہ اعتماد کرنے سے خوفزدہ کر دیتا ہے۔“(ڈیئرنگ گریٹلی، صفحہ 41)
اسی لیے دھوکے کے بعد انسان ہر مسکراہٹ سے خوف کھانے لگتا ہے۔ ہر وعدہ اسے کھوکھلا محسوس ہوتا ہے۔ وہ بظاہر زندہ ہوتے ہوئے بھی اندر سے مرنے لگتا ہے۔یہ کیفیت صرف فرد تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے معاشرے میں بداعتمادی کو جنم دیتی ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کھو دیتے ہیں تو خاندان، ادارے اور قومیں ٹوٹنے لگتی ہیں اگر دھوکے کی تاریخ موجود ہے تو وفا کی روشن مثالیں بھی تاریخ کے صفحات پر جگمگا رہی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق کی رفاقت انسانی تاریخ میں وفا کی سب سے عظیم مثالوں میں سے ایک ہے۔ غارِ ثور میں جب کفار تعاقب کرتے ہوئے قریب پہنچ گئے تو حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا:
”یارسول اللہ! اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف دیکھ لے تو ہمیں دیکھ لے گا۔“
اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“( صحيح البخاري حدیث: 3653)
یہ تعلق مفاد پر نہیں بلکہ اخلاص پر قائم تھا، اسی لیے رہتی دنیا تک مثال بن گیا۔
فتنۂ خلقِ قرآن کے دور میں جب پوری سلطنت امام احمد بن حنبل کے خلاف کھڑی تھی تو چند مخلص شاگرد آخر وقت تک ان کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ یہی مخلص تعلقات انسان کو ظلم کے اندھیروں میں استقامت عطا کرتے ہیں۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ کردار کے بجائے الفاظ سے متاثر ہو جاتے ہیں؛ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ سب سے بڑے دھوکے اکثر خوبصورت جملوں کے پردے میں دیے گئے۔
امام شافعی فرماتے ہیں:
”جب کوئی شخص حد سے زیادہ تعریف کرے تو اس کی نیت کو پرکھو۔“(مناقب الشافعي للبيهقي)
اسی لیے دانا لوگ لہجوں سے زیادہ کردار کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ کیونکہ میٹھے الفاظ وقتی ہوتے ہیں، جبکہ کردار مستقل حقیقت ہوتا ہے۔
اگر معاشرے کو جھوٹے تعلقات اور دھوکے کے زہر سے بچانا ہے تو چند اصول ناگزیر ہیں:
ہر تعلق کی بنیاد سچائی پر رکھی جائے؛ کیوں کہ وقتی فائدے کے لیے بولا جانے والا جھوٹ بالآخر تباہی پیدا کرتا ہے۔
دوستی، محبت اور اعتماد میں انسان کے کردار، ماضی اور اخلاق کو دیکھا جائے، صرف الفاظ کو نہیں۔
جس دل میں خوفِ خدا موجود ہو، وہ کسی کے جذبات سے کھیلنے کی جرأت نہیں کرتا۔ ہر مسکراتے چہرے پر فوراً اعتماد نہ کیا جائے۔ اسلام نے حسنِ ظن کے ساتھ بصیرت کی تعلیم بھی دی ہے۔ جو لوگ تعلقات میں دھوکا دیتے ہیں، انہیں معاشرتی سطح پر “چالاک” نہیں بلکہ قابلِ مذمت سمجھا جائے۔زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ انسان محبت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، مگر محبت صرف لفظوں کا کھیل نہیں۔ تعلق ایک امانت ہے، اور امانت میں خیانت انسان کو ظاہری طور پر زندہ مگر باطنی طور پر مردہ کر دیتی ہے۔اخلاص سے جڑا تعلق عبادت کی طرح پاکیزہ ہوتا ہے۔ یہ انسان کے ٹوٹے ہوئے وجود کو سہارا دیتا ہے، اس کے خوف کو سکون میں بدل دیتا ہے، اور زندگی کے اندھیروں میں چراغ بن جاتا ہے۔ مگر فریب پر قائم رشتہ واقعی گٹر کے اس پانی کی مانند ہے جو اوپر سے شفاف دکھائی دے مگر اندر تعفن سے بھرا ہو۔ وقت گزر جاتا ہے، زخم بھر جاتے ہیں، مگر دھوکے کے داغ روح پر ہمیشہ ثبت رہتے ہیں۔ اسی لیے عقل مند انسان تعلق بنانے سے پہلے الفاظ نہیں بلکہ کردار کو دیکھتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں سب سے خطرناک لوگ وہ نہیں جو کھلی دشمنی کرتے ہیں، بلکہ وہ ہیں جو محبت کا لباس پہن کر اعتماد کا قتل کرتے ہیں۔ انسانی تہذیب کی بقا خلوص، وفا اور امانت پر قائم ہے۔ جب تک تعلقات میں سچائی باقی ہے، انسانیت زندہ ہے۔ اور جب تعلقات فریب کا بازار بن جائیں تو پھر معاشرہ ظاہری ترقی کے باوجود اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنا اور معاشرے میں عام کرنا آج پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔
