دھرتی حق اے

تحریر: حبیب الرحمٰن انجم ؔ
مرکزی دارالحکومت کی سب سے بڑی شاہراہ اپنی خوب صورتی سے شہر میں آنے والے مسافروں کا پرتپاک خیر مقدم کرتی تھی۔ اس کو مختلف رنگوں سے مزین کیا گیا تھا۔دونوں اطراف پختہ پیادہ رَو ’’فٹ پاتھ‘‘ کو بڑی خوش اسلوبی سے صاف ستھرا رکھا جاتا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہمہ وقت چوکس اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہوتے اور آنے جانے والے پیدل افراد پر کڑی نظر رکھتے۔کسی کو زیادہ دیر رکنے یا ٹہلنے کی اجازت نہ تھی، کیونکہ یہ ایک مصروف شاہراہ ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی حیثیت کی حامل رہ گزر بھی تھی۔ اس پر ہر وقت کوئی نہ کوئی بیرونی وفد چمکتی دمکتی گاڑیوں میں سفر کرتا، مرکزی دارالحکومت کے ایوانِ اقتدار کی طرف جاتا یا آتا ہوا دکھائی دیتا رہتا تھا۔
’’دھرتی حق اے، سچ اے، بندیا دا حق اے، دھرتی حق اے، سچ اے۔‘‘
اس بابے کی مادری زبان کے یہ الفاظ کبھی اس کی آواز کو درد میں ڈبو دیتے اور کبھی اس کی کھنک اندر چھپے جوش کو ظاہر کرتی تھی۔ اس کے جذبات عروج پر ہوتے تو اس پر رقت طاری ہو جاتی۔ ایسے میں وہ زور سے آواز لگاتا، ’’اللہ، میرے سوہنڑے اللہ جی۔‘‘ پھر قدرے خاموشی سے رکتا، پیچھے کو مڑ کر دیکھتا اور پھر آگے کو چل پڑتا۔ کبھی کبھار تو اسے فرائض پر کھڑے اہلکار جھڑکی سنا کر آگے چلنے کا کہتے، تو کبھی دو تین اہلکار آگے بڑھ کر اسے بڑے پیار سے بازو سے پکڑتے اور ساتھ بنی ہوئی تفریح گاہ تک پہنچا آتے، جہاں ریڑھی لگائے ایک چاچا اس کی خاطر مدارت کرتا اور اسے دوسرے راستے سے ملحقہ آبادی کی طرف بھیج دیتا۔وہ دن میں کئی کئی مرتبہ وہاں وارد ہوتا اور اپنے میلے کچیلے، پھٹے بوسیدہ، بدبودار کپڑوں، رال ٹپکتی زبان، گھنی الجھی ہوئی بے ڈھبی سفید زلفوں، پھٹے پرانے جوتوں، ہاتھ میں ایک چھڑی، بغل میں دبی ایک پوٹلی، مومی لفافے میں پانی کی خالی بوتلوں اور اپنے کراہت زدہ وجود کے ساتھ وہاں پھر نمودار ہو جاتا۔اہل کاروں کو نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ دوبارہ وہی سلوک کرنا پڑتا، کیوں کہ اس شاہراہ کا تحفظ اور اس شاہراہ کی خوب صورتی سرکار کی اولین ترجیح تھی، جس میں یہ بابے کی صورت موجود بدنما داغ کسی بھی گزرتے ہوئے سرکاری کارندے یا صاحبِ اقتدار کی جان پر گراں گزر سکتا تھا۔دفتر سے بس سٹاپ تک کے سفر میں صبح و شام آتے جاتے اس بابے کے الفاظ سننا اور یہ سارے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا میرے لیے بھی روز کا معمول تھا۔ دیگر راہ چلتے افراد کی طرح کئی لوگ دیکھ کر مسکراتے اور آگے بڑھ جاتے۔
رفتہ رفتہ ایک سوچ نے میرے اندر گھر کر لیا کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ انسان کے اس سوچ بچار کے انداز کو تجسس کہتے ہیں اور یہ تجسس کا مادہ انسان کو کیوں، کیسے، کب، کیونکر، کہاں وغیرہ کے جوابات کی تلاش میں مدد فراہم کرتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو انسان کو اشرفُ المخلوقات کی حیثیت بخشتا ہے۔
اسی تناظر میں ایک دن ہمت کی اور دل میں ٹھان لی کہ آج بابا جی کو میں خود پارک تک لے کر جاؤں گا۔ اس دن جیسے ہی بابا جی کے قریب سے گزرا، ان کی آنکھوں میں پہلی بار غور سے جھانکا تو چونک گیا۔ ایک ہیبت طاری ہوئی، رونگٹے کھڑے ہوئے۔ گہری سیاہ آنکھوں میں خون سی سرخی اور تیرتے آنسو، ایسی آنکھیں جو وقت اور حالات کے تناظر میں سخت اور کٹھن راستوں کی گواہ ہوں، جو شخصیت کو سمجھنے میں مشکل پیدا کریں اور دیکھنے والے کے دل میں خوف بٹھا دیں۔بابا جی نے بھی شاید مجھے بھانپ لیا اور لگے جلال میں اپنے الفاظ دہرانے، ’’دھرتی حق اے، سچ اے، حق اے، سچ اے۔‘‘ ایسے میں جب اہلکار بابا کے قریب آئے تو میں نے ان سے التجائیہ انداز میں اپنی خدمت پیش کی۔ انہوں نے میری دعوت بخوشی قبول کی اور ان بابا جی کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں انہیں لے کر تفریح گاہ کی جانب بڑھا اور ریڑھی والے چاچا رحمت کے پاس انہیں لے جا کر بٹھا دیا۔
تفریح گاہ میں شام کے وقت میلہ سا لگا رہتا تھا۔ تفریح گاہ اندر کی آبادی اور باہر کی شاہراہ کو ملاتا ہوا خوب صورت، سرسبز و شاداب، بڑے بڑے گھنے درختوں کے بیچوں بیچ ایک صحت افزاء مقام تھا، جس کی راہداریاں بڑے سلیقے سے سجائی گئی تھیں۔ اٹھنے بیٹھنے اور ٹہلنے کے لیے جگہ جگہ لوہے اور لکڑی کے بنچ لگے ہوئے تھے۔ مناسب فاصلوں پر بچوں کی تفریح کے لیے جھولے لگا کر اسے ایک فیملی پارک کی شکل دے دی گئی تھی، جس کی ضرورت ہر چھوٹے بڑے کو تھی۔ پارک کے مرکزی دروازے کے دائیں جانب بالکل آخری کونے میں چاچے رحمت کی ریڑھی اور ٹھنڈے پانی کا فلٹر پلانٹ تھا، جبکہ اسی رو میں دوسرے کونے تک کچھ کھانے پینے کی عارضی بنی ہوئی دکانیں تھیں، جو ہر آنے جانے والے کو اپنی طرف متوجہ کرتی تھیں۔چاچا نے مجھے بابا کے ساتھ آتے دیکھا تو بڑی پھرتی سے دو پلیٹیں سجانے لگ گئے۔ میں نے بابا جی کو ریڑھی کے سامنے بنچ پر بٹھایا اور خود ان کے بغل میں بیٹھ گیا۔ چاچا نے ایک پلیٹ چھولے سموسے بنائی اور پانی کے ساتھ بابے کے سامنے انتہائی باادب انداز میں پیش کی اور ان کے قریب بیٹھ گئے۔ تھوڑے توقف کے بعد جب بابا جی نے پلیٹ میں سے کھانا شروع کیا تو بڑی آہستگی سے چاچے رحمت کا ہاتھ بابا جی کی ٹانگوں پر پھرنے لگا۔ بابا جی کا جسم ڈھیلا پڑتا گیا، ان کی آنکھوں سے سرخی غائب ہونے لگی اور ان کی کیفیت بدلنا شروع ہو گئی۔ جوں ہی پلیٹ صاف ہوئی، بابا جی نے پانی کے چند گھونٹ حلق سے اتارے اور چاچے رحمت کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ چاچے کا ہاتھ پلیٹ اور گلاس کی طرف بڑھا، انہوں نے پلیٹ تھامی اور اپنی ریڑھی کی طرف چل دیے۔بابا جی کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے اور اسی انداز میں وہ اپنا سامان و متاع سنبھالتے، اپنے مخصوص جھکے ہوئے انداز میں کھڑے ہوئے۔ ایک نظر مجھ پر ڈالی اور تفریح گاہ کے عقبی دروازے کی جانب بڑھ گئے، جو آبادی کی آمد و رفت کا ذریعہ تھا۔اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھتا، میرے لیے تعجب کے کئی زاویے ادھورے چھوڑ کر وہ میری آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔ میری الجھنیں باباجی کی بکھری ہوئی زلفوں کی مانند بے ترتیب تھیں کہ اتنے میں چنے سموسے کی پلیٹ ہاتھ میں لیے چاچا رحمت میرے قریب آ کر بیٹھ گئے۔ میں نے خود کو گہری سوچ کی وادیوں سے باہر نکالا اور چاچے کے ہاتھ سے پلیٹ تھام لی، مگر میری آنکھیں بار بار عقبی دروازے کی جانب اٹھتیں اور پھر بڑی خاموشی سے پلیٹ پر مرکوز ہو جاتیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی چمچ سنبھالا اور کھانے میں خود کو مشغول کیا۔
اس سے پہلے کہ میں کوئی سوال کرتا، چاچا میری کیفیت کو بھانپتے ہوئے خود ہی گویا ہوئے، ’’بیٹا! اس دنیا میں کئی داستانیں بکھری پڑی ہیں، کس کس کو تم سوچو گے اور کہاں کہاں تم اپنے تجسس کی زور آزمائی کرو گے؟‘‘
چاچا رحمت کا انداز اور بول چال، چاچے کی تعلیم اور تدبر کا پتہ دے رہی تھی۔ میری حیرت جو پہلے ہی عروج پر تھی، اب اس کی انتہا نہ تھی۔ میں نے سر ہلا کر ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔ میرے ہاتھ رکے اور میری توجہ چاچا پر مرکوز ہو گئی۔ چاچا کی سفید و سیاہ بے ترتیب ڈاڑھی کے درمیانے درجے کے بال، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، ہونٹوں کی خشکی، کپڑوں میں بوسیدہ پن کے باوجود سادگی اور ترتیب، ان کی ملی جلی شخصیت کا پتہ دے رہی تھی۔چاچا رحمت پھر سے میری طرف متوجہ ہوئے۔ ان کی غمگین آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ کہنے لگے، ’’بیٹا، تمہیں پتہ ہے جب انسان اپنے غم میں خود کو فنا کر کے اپنی بقا کے راستے کو خیر باد کہہ دے تو اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟‘‘
میرا تجسس بڑھا تو میرا اضطراب میری کیفیت سے عیاں ہو گیا۔ اسی کیفیت کے زیرِ اثر میں نے براہِ راست سوال داغا، ’’چاچا جی، ان کے ساتھ کیا ہوا تھا؟‘‘
کہنے لگے، ’’بیٹا، لمبی داستان ہے۔‘‘
انھوں نے ٹھنڈی آہ بھری، لکڑی کے تختے پر کمر سیدھی کی اور پھر بات شروع کی۔
’’آج سے تقریباً آٹھ سال قبل ان کی بہو اپنے چھ سالہ ننھے بیٹے کے ساتھ سڑک پار کرتے ہوئے ایک گاڑی کی زد میں آ گئی۔ گاڑی نے اشارہ توڑا تھا اور ماں بیٹے کو بند اشارے اور رُکی ہوئی ٹریفک میں سڑک پار کرنا اتنا مہنگا پڑا کہ ان دونوں کی جان چلی گئی۔‘‘
یہاں تک وہ کہہ کر رک گئے۔
چاچا کی نظریں سامنے بڑے درخت پر بیٹھے چڑیا کے خاندان پر جمی ہوئی تھیں۔ یہ چھوٹا سا خاندان نارنجی شام کے گہرے سایوں میں اپنے گھر کا رخ کرنے سے پہلے آج کے آخری رزق کی جستجو میں تھا۔ چاچے کی نظروں کا پیچھا کرتے ہوئے میں نے سوال کیا، ’’چاچا جی! یہ بابا جی کیا کرتے تھے؟‘‘
چاچا شاید کسی اور سوچ میں گم تھے یا وہ کہانی کو ایک دل گداز ربط دینا چاہتے تھے، مگر میرے سوال سے وہ چونکے۔ مجھے لگا شاید میں نے ان کا تسلسل توڑا ہو۔ انہوں نے میری ناسمجھی کو نظر انداز کیا اور بولے، ’’بابا جی ایک وفاقی ادارے میں سترہویں گریڈ سے ریٹائرڈ سیکرٹری ہیں۔ انہوں نے اپنی ایماندار اور باوقار نوکری کے سنہرے سال بڑے کٹھن حالات میں گزارے۔‘‘
یہاں تک وہ کہہ کر رکے، ایک گاہک کو چنا سموسہ پلیٹ بنا کر دی، واپس آ کر بیٹھے، پانی کے دو گھونٹ پیے۔ چاچا رحمت کا انداز بڑا والہانہ تھا۔ وہ پھر سے بولے،
’’بابا جی نے مقدمہ درج کرایا، ایف آئی آر ہوئی، ضابطے کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ وہ گاڑی کسی وزیر کے بیٹے کی تھی، جو نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہا تھا۔ معاملہ پیچیدہ ہو گیا۔ ایک طرف ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر اس کوشش میں تھا کہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے مجرم کو سزا ملے، تو دوسری طرف پوری اشرافیہ اس کوشش میں تھی کہ کسی طرح مقدمہ بند ہو اور ان کی ساکھ بنی رہے۔عدالت میں مقدمہ چلا، تاریخیں ہوئیں مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ ایک عدالت سے دوسری عدالت تک ایک عرصہ بیت گیا۔ وجہ صاف تھی، مقدمے کا فیصلہ سیاسی دباؤ کے اثر سے واضح اور یک طرفہ تھا۔ سارا طاقت کا کھیل تھا اور ایسے میں طاقت کا پلڑا بھاری ہوتا ہے۔ گہرا صدمہ، ناموافق حالات، اشرافیہ کی جانب سے ہونے والی بے توقیری اور اپنے محکمے کی جانب سے عدم توجہی وغیرہ وہ عوامل تھے جو بابا جی کو نفسیاتی امراض کے دھانے پر لے گئے۔
ڈاکٹروں نے بڑی تدبیریں کیں مگر آخری علاج تک ان کی زبان اسی دھرتی کے گن گاتی رہی۔ باقی تمام باتیں ان کے دماغ سے محو ہو گئیں مگر یہ چند الفاظ اور ایک یہ بڑی سڑک ان کی یادداشت کا محور بن گئے۔‘‘
میں نے سوال کیا، ’’اس مخصوص یادداشت کی کیا وجہ تھی؟‘‘
چاچا رحمت کے آنسوؤں کی لڑی مجھے ایک انجان رستے سے گزارتی ہوئی تیزی سے تجسس کی منزل کی جانب لے جا رہی تھی۔ انہوں نے واقعات کی لڑی کو مختصر مالا میں اپنے آنسوؤں سے پرویا اور بولے، ’’جس وقت یہ حادثہ ہوا، اس وقت وہ اپنے دوستوں کے درمیان بیٹھے اپنے ملک کی عظمت بیان کر رہے تھے۔ ان کا انداز جوشیلہ تھا۔ وہ اپنے ایک دوست کے تلخ سوال کا جواب بڑی شد و مد سے دے رہے تھے۔ اپنی مادری زبان میں اپنے دوستوں پر محبت نچھاور کرتے ہوئے وہ خوب صورت دلائل دے رہے تھے۔ عین موقع پر ان کے آخری الفاظ یہی تھے۔
’’سنگیو! اے دھرتی پاک اے، اے دھرتی حق اے، سچ اے، خدا دا معجزا تے اس دی امانت اے۔ ایتھے بندیاں نوں حق دینڑاں، حق سچ دا ساتھ دینڑاں تے انصاف کرنڑا ساڈا کم اے پترو۔ کدے وی دھرتی ماں نوں غلط نہ کہنڑا، اے ساڈیاں غلطیاں نے، باقی اے دھرتی حق اے، سچ اے۔‘‘
اس وقت ان الفاظ کی شدت اور جذباتیت کا احساس ہوا تو یہ الفاظ سنتے سنتے مجھے اپنے اندر ارتعاش محسوس ہوا اور یوں لگا کہ جیسے میں وہ سب کچھ براہِ راست دیکھ رہا ہوں۔
چاچا رحمت نے اپنی بائیں جانب باہر سڑک پر اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’دونوں ماں بیٹا اسی پارک سے اپنے بابا جی کو مل کر مرکزی مارکیٹ کی طرف جاتے ہوئے، اسی سامنے والے چوک میں لگے اشارے پر حادثے کا شکار ہوئے۔‘‘
چاچا رحمت کا بولنے کا انداز، ان کا دھیما پن، خوبصورت لفظوں کا چناؤ اور صاف زبان کی روانی کہیں سے بھی ان کی ظاہری حالت کی عکاس نہیں تھی۔ میں نے اس تجسس کو اصل مدعے سے دور رکھتے ہوئے پھر سوال کیا،
’’باباجی کا بیٹا، جس کی بیوی اور چھ سالہ معصوم بچہ حادثے کا شکار ہوئے، وہ کہاں ہے؟‘‘
چاچا بولے،’’بابا کا بیٹا ایک سرکاری ملازم تھا، باپ کی پدرانہ شفقت اور ان کی تربیت کے زیرِ اثر پلنے والا ایک ہونہار انجینئر، جو ایک محکمہ میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا۔ اُس پر بھی برابر کے پہاڑ ٹوٹے۔ اُس نے بڑی تگ و دو کی کہ انصاف ملے مگر جب بے سود ہوا تو باپ کو سمجھانے بجھانے میں لگ گیا۔ بدقسمتی سے اس کی ایک نہ چلی۔ باپ کو جب توجہ کی ضرورت ہوئی تو وہ بیٹا باپ کا سہارا بن گیا۔ اس نے نوکری کو خیر باد کہا اور آج اسی پارک میں ریڑھی لگا کر چاچا رحمت بنا، ہر وقت اپنے باپ کو دیکھتا اور اس کے پیچھے سائے کی طرح لگا رہتا ہے۔‘‘
میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ جسم میں کپکپاہٹ محسوس ہوئی۔ میرے ماتھے پر پسینہ تھا، میرے لب خاموش تھے۔ مغرب کا وقت آن پہنچا تھا۔ چاچا نے میری کیفیت کو بھانپتے ہوئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے،
’’بیٹا، میں ذرا بابا جی کی طرف جاتا ہوں، وہ مسجد کے باہر بیٹھے ہوں گے۔‘‘
دل کا بوجھ میرے ضمیر کو ملامت کر رہا تھا کہ کاش میں اتنا متجسس نہ ہوتا اور اس غم کے ساتھ آج میرا چلنا مشکل نہ ہوتا۔ اذان کی آواز نے میرے درد کو اپنے اندر سمیٹا۔ میرے قدم بے اختیار انداز میں دونوں باپ بیٹے کے قدموں کا پیچھا کرتے ہوئے مسجد کی طرف بڑھ رہے تھے۔میری زبان پر پاک دھرتی کا نام تھا اور باباجی کی زبان کا خوبصورت لہجہ، ان کے جوش بھرے کلمات کے ساتھ، میرے قدموں کو سہارا دے رہا تھا۔
’’دھرتی حق اے، سچ اے، بندیا دا حق اے، دھرتی حق اے، سچ اے۔‘‘

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow