از قلم: محمد ثقلین
نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر یہ سرمایہ درست سمت میں لگ جائے تو قومیں بنتی ہیں، اور اگر یہی سرمایہ منتشر ہو جائے تو قومیں بکھر جاتی ہیں۔ آج ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت فکری انتشار کا شکار ہے۔ نہ انہیں اپنی تاریخ کا پتہ ہے، نہ حال کی سمجھ ہے، اور نہ مستقبل کا کوئی واضح لائحہ عمل۔اس انتشار کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ معلومات کا سیلاب ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر کسی کو دانشور بنا دیا ہے۔ ایک کلپ دیکھا، ایک ٹویٹ پڑھا، اور فوراً رائے قائم کر لی۔ نہ تحقیق، نہ مطالعہ، نہ کسی اہل علم سے رجوع۔ نتیجہ یہ کہ ہر بات پر بحث ہے، مگر کوئی نتیجہ نہیں۔ ہر شخص بول رہا ہے، مگر سننے والا کوئی نہیں۔دوسری وجہ رہنمائی کا فقدان ہے۔ پہلے استاد، والدین، اور بڑے بزرگ نوجوانوں کی فکر کی تربیت کرتے تھے۔ آج گھر میں گفتگو ختم ہو گئی ہے، اسکول میں صرف نمبر کی دوڑ ہے، اور مسجد و مدرسہ کو بھی معاشرے سے کاٹ دیا گیا ہے۔ جب رہنمائی نہ ہو تو ذہن ہر سمت بھٹکتا ہے۔ کبھی مادیت کی طرف، کبھی مایوسی کی طرف، کبھی شدت کی طرف۔تیسری وجہ یہ ہے کہ ہم نے نوجوانوں کو صرف صارف بنا دیا ہے۔ وہ صرف دیکھتے ہیں، صرف سنتے ہیں، صرف پسند یا ناپسند کرتے ہیں۔ مگر پیدا کرنے والے نہیں بنتے۔ نہ وہ لکھتے ہیں، نہ تحقیق کرتے ہیں، نہ کوئی متبادل فکر پیش کرتے ہیں۔ اسی لیے جب کوئی چیلنج آتا ہے تو ان کے پاس جواب نہیں ہوتا، صرف ردعمل ہوتا ہے۔فکری انتشار کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو اپنی ہی شناخت سے دور کر دیتا ہے۔ آج بہت سے نوجوان مغربی بیانیے کو اپنا بیانیہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ انہیں اسلام کی تاریخ بوجھ لگتی ہے، اپنی زبان مشکل لگتی ہے، اور اپنی تہذیب پسماندہ لگتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ وہ نہ ادھر کے رہتے ہیں، نہ ادھر کے۔ ایک ایسی نسل تیار ہو رہی ہے جو اپنی جڑوں سے کٹی ہوئی ہے لیکن یاد رکھیں، انتشار کا علاج بھی فکر سے ہی ہوتا ہے۔ جس طرح بیماری کی تشخیص کے بعد دوا دی جاتی ہے، اسی طرح فکری بیماری کی تشخیص کے بعد درست فکر دی جاتی ہے۔ اس کے لیے تین کام ضروری ہیں۔پہلا، مطالعہ کی عادت؛ نوجوان کو چاہیے کہ وہ صرف سکرین پر نہ لگے رہے، بلکہ کتابوں کی طرف لوٹے۔ قرآن و حدیث، سیرت، تاریخ اسلام، اور اہل علم کی تحریں پڑھے۔ کتاب انسان کو گہرائی دیتی ہے، جبکہ سوشل میڈیا صرف سطحیت دیتا ہے۔
دوسرا، صحبت کی اصلاح؛ انسان جس کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، ویسا ہی بن جاتا ہے۔ اگر صحبت اہل علم، اہل فکر اور اہل عمل کی ہو تو سوچ سنورتی ہے۔ اگر صحبت سطحی، طنزیہ اور منفی لوگوں کی ہو تو سوچ بھی سطحی ہو جاتی ہے۔
تیسرا، مقصد کا تعین؛ جب تک نوجوان کے سامنے زندگی کا کوئی بڑا مقصد نہ ہو، وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں الجھتا رہے گا۔ اسلام نے ہمیں “امت وسط” بنایا ہے تاکہ ہم دنیا کے لیے گواہ بنیں۔ یہی سب سے بڑا مقصد ہے۔ اگر یہ مقصد سامنے ہو تو ساری توانائیاں ایک سمت میں لگ جاتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب نوجوانوں کو درست فکر ملی، تو انھوں نے دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ صلاح الدین ایوبی، محمد بن قاسم، اور علامہ اقبال سب نوجوان تھے جب انہوں نے بڑے کام کیے۔ ان کے پاس وسائل نہیں تھے، مگر فکر واضح تھی۔ آج ہمارے پاس وسائل ہیں، مگر فکر منتشر ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں گے؟ کیا ہم بھی اس انتشار کا حصہ بنیں گے، یا ہم اس کے علاج میں لگیں گے؟ کیا ہم اپنی توانائی بحث و مباحثے میں ضائع کریں گے، یا تعمیر میں لگائیں گے؟
نوجوانو! وقت تمہارا ہے۔ اگر تم نے آج اپنی فکر کو درست نہ کیا، تو کل تاریخ تمہیں معاف نہیں کرے گی۔ قلم اٹھاؤ، کتاب کھولو، اور اپنی شناخت کو پہچانو کیوں کہ جس قوم کے نوجوان کی فکر درست ہو، اس قوم کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے۔
