جدت یا دلدل ، تحریر : زکیر احمد بھٹی

 

جدت یا دلدل ، تحریر : زکیر احمد بھٹی

جدت یا دلدل ، تحریر : زکیر احمد بھٹی

جدت یا دلدل
تحریر : زکیر احمد بھٹی

اکثر سننے میں آتا ہے کہ زندگی بہت مشکل سے گزر رہی ہے لیکن ہم اس کو اصولوں کے مطابق گزاریں تو زندگی ہمیشہ ہی اچھی گزرتی ہے۔ زندگی کو مشکل ہم لوگ خود بناتے ہیں ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ میں ایک پہلو پہ لکھنے کا سوچ رہا تھا مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کس طرح لکھوں۔آج کے وقت میں ہر دوسرا انسان موبائل استعمال کرتا ہے اور مختلف ایپلیکیشن جو ہے ان کا استعمال بھی کرتا ہے جن کو دیکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ اس پہ کچھ لکھا جائے ۔جب میں ایک ایپلیکیشن دیکھ رہا تھا تو میرے ذہن میں کچھ باتیں آئیں سوچا کہ چلو انھیں لکھتا ہوں کہ آج ہمارا پاکستان جس کو ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ اسلام کے نام پہ بنا اور ہم اپنے اپ کو اعلیٰ درجے کے مسلمان کہتے ہیں لیکن افسوس کہ ہم مسلمان کہتے ہوئے بھی شرم محسوس نہیں کرتے ۔ہم یہ نہیں سوچتے کہ اللہ تعالی نے ہمیں کس لیے پیدا کیا تھا اور ہم کیا کر رہے ہیں ایک ایپلیکیشن جس پہ بہت سے لڑکے، لڑکیاں گانوں پہ ویڈیو بنا رہی ہیں جس طرح کا لباس زیب تن کر رکھا ہے اور اخلاق سے گری گفتگو فرمائی جا رہی ہے۔صرف چند لائیکس اور کمنٹس کی خاطر ہم ہر حد سے گزر رہے ہیں۔ ہم جو خود کو مسلمان کہتے ہیں یہ بھول گئے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ اسی سوچ کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے کچھ دن پہلے دو جملے لکھ کے اپنی فیس بک پہ شیئر کی جہاں پہ مجھے کچھ دوستوں اور کچھ فیس بک فرینڈ جو ہیں انہوں نے تنقید کا نشانہ بھی بنایا وہ الفاظ تھے کہ ”میں دلدل میں اس قدر پھنس چکا ہوں جہاں سے باہر آنا میرے لیے مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے “۔ میں اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ آج کے مسلمان جس طرح ٹک ٹاک ایپلیکیشن پر بیہودہ لباس کے ساتھ ویڈیو بنا رہے ہیں،ان کو اپنے ماں باپ کی عزت کا احساس ہے اور نہ ان کو احساس ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم نے ایک دن اس دنیا سے جانا بھی ہے، روز قیامت ہم نے اللہ تعالی کو کیا منہ دکھانا ہے ؟ جبکہ اللہ تعالی نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہم اس پاک ذات کی عبادت تو بہت دور کی بات پانچ وقت کی نماز بھی ادا نہیں کرتے ۔ہر انسان کے پاس موبائل ہے اور مختلف ویڈیو شوٹ کر کے مختلف ایپلیکیشنز پر اپلوڈ کر رہے ہیں اور اس چیز سے بے خبر ہیں کہ ہم اس دنیا میں آئے کس لیے تھے اور کر کیا رہے ہیں ؟ حقیقت دکھا جائے تو ہماری بربادی کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ ہم اللہ تعالی سے دور ہو چکے ہیں ۔ہمیں اس چیز کا خیال نہیں کہ ہمارے آس پاس کیا ہو رہا ہے ،ہر بندہ اپنے موبائل میں مگن ہے اور دنیا سے بے خبر ہے۔ ہماری توجہ صرف اور صرف موبائل اور مختلف ایپلیکیشن پہ ہوتی ہے اور اکثر اوقات دیکھا بھی ہے کہ لوگ جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد یا کوئی بھی نماز چاہے فجر ہے،، ظہر ہے عصر ہے ،مغرب ہے یا عشاء ہے نماز ادا کرتے ہیں تو سب سے پہلے جیب سے موبائل نکالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کس کے میسج آئے ہیں۔ مجھے کبھی کبھی ہنسی بھی آتی ہے کہ جیسے میسج آیا ہو کہ آپ کی عبادت قبول ہوئی ہے یا نہیں۔مجھے ایک حدیث مبارکہ یاد آرہی ہے کہ جب حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے نزدیک عورتیں لباس تو پہنیں گی لیکن ننگی ہوں گی۔ اتنا چھوٹا لباس اتنا بےہودہ لباس آج کی بچیاں پہن کر رہی ہیں سر پہ دوپٹہ نہیں ہے اور مجھے افسوس ہوتا ہے ان کے ماں باپ پر کہ جو سب کچھ دیکھنے کے باوجود بھی ان پر کوئی پابندی نہیں،ان کو کوئی روکنے والا نہیں۔ہمیں کم سے کم اپنے ماں باپ کی عزت کا احساس کرنا چاہیے ۔مرنے کے بعد جو زندگی شروع ہوگی اس کے لیے ہم نے کیا کیا ہے ۔ہمیں دنیا کی فکر تو ہے لیکن کبھی آخرت کی فکر کسی نے کی ہے؟ دنیا میں ہم ہر بندے سے دھوکہ بازی ،فراڈ کر رہے ہیں اگر کسی کو فرق پڑتا ہے تو وقتی طور پہ ہمیشہ کے لیے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ہاں فرق پڑتا ہے جس نے کیا ہے اس نے صرف اور صرف اپنی قبر بھاری کی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے حالات اچھے ہوں، ہمارا کاروبار صحیح ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رجوع کریں کہ وہی پاک ذات ہے جو ہمیں ہر مشکل سے نکال سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات ہم سب کو نیکی کے راستے پہ چلنے کی توفیق دے ۔آمین

About pehchane pakistan

2 comments

  1. ماشاءاللہ ماشاءاللہ زبردست زبردست سوچ حقیقت پر مبنی آمین ث۔ آمین

  2. ماشاءاللہ ماشاءاللہ زبردست سوچ حقیقت پر مبنی بالکل آج یہی حالات چل رہے ہیں اللہ پاک سب سب کو ہدایت فرماتے آمین ثم آمین یا رب العالمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow