مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال اردو ادب کے لیے خطرہ۔۔۔۔۔ پہچانِ پاکستان نیوز گروپ کے چشم کشا انکشافات

مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال
ادب کے لیے خطرہ
تخلیق کار کی موت ❗
پہچانِ پاکستان نیوز (گروپ) کے چشم کشا انکشافات
تمام ادبی تنظیمیں اور قلم کار متوجہ ہوں ❗

”مصنوعی ذہانت” ،”آرٹیفیشل انٹیلی جنس“ یا ”اے۔آئی “ آپ اس اصطلاح سے یقیناََ واقف ہوں گے۔ مصنوعی ذہانت ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو اعداد و شمار/ڈیٹا اور کمپیوٹر پروگراموں کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف آلات کو انسانوں کی طرح سوچنے، سمجھنے، اور عمل کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔اس کی عام مثال موبائل فون ہے اور اس میں موجود مختلف ایپس۔
مصنوعی ذہانت کا استعمال چیٹ جی۔پی۔ٹی ،میٹا اے۔آئی،جیمنائی اور کلاڈ جیسے پرگراموں میں کیا جا رہا ہے،جو کہ انسان کے سوالات کے جوابات دے سکتے ہیں، ویب سائٹس بنا سکتے ہیں اور اسی طرح بے شمار کام سر انجام دے سکتے ہیں۔
پہچانِ پاکستان نیوز (گروپ) کے زیرِ انتظام اس وقت ایک نیوز چینل پی۔پی۔این نیوز ایچ۔ڈی ، ایک برقی روزنامہ پہچانِ پاکستان نیوز، ایک پرنٹ میگزین پہچانِ پاکستان اور ایک ادبی تنظیم پہچانِ پاکستان مجلسِ ادب کام کر رہی ہے۔اس کے لیے پہچانِ پاکستان کے زیرِ اہتمام ایک انتھالوجی کتاب(عہدِ ادیب) شائع ہوچکی ہے اور دوسری (عہدِ اَدب)اشاعت کے آخری مرحلے میں ہے۔
کچھ عرصے سے کتاب اور اخبار میں آنے والی کچھ تحاریر بالکل الگ اسلوب کی تھیں،یکسانیت کا شکار اور بے معنی جملوں پہ مبنی ۔تحاریر مسترد تو کی جاتی رہیں لیکن یکے بعد دیگرے ایسی تحاریر کا موصول ہونا تشویش کا باعث تھا۔
پہچانِ پاکستان نیوز (گروپ) انتظامیہ نے مشاورتی ٹیم کے ساتھ بات چیت کی اور یہاں پہ مصنوعی ذہانت کا سراغ ملا پھر معاملہ آئی۔ٹی ٹیم کے پاس گیا اور چشم کشا انکشافات ہوئے کہ کس طرح کچھ قلم کار مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے تحاریر لکھ رہے تھے۔
پہچانِ پاکستان ٹیم کی یہ کھوج رکی نہیں گذشتہ دنوں مجلسِ ادب کے تحت ہونے والے مقابلے مضمون نویسی میں دو مضامین اے۔آئی کی مدد سے لکھے جانے کا انکشاف ہوا۔ایک جاری مقابلے مکالمہ نویسی میں بھی مکمل پڑتال کے بعد یہ ثابت ہوا کہ تین مکالمے اے۔آئی کی مدد سے لکھے گئے ہیں۔
مشاورتی ٹیم اور آئی۔ٹی ٹیم ہر تحریر کی مکمل جانچ پڑتال کر رہی ہے۔اس دوران آئی۔ٹی ٹیم نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت پہلے سے موجود ڈیٹا کو پراسس کرتی ہے اور کمپیوٹر پرگراموں اور الگورتھمز کا استعمال کرتے ہوئے نیا ڈیٹا ترتیب دیتی ہے لیکن ابھی یہ اس قابل نہیں ہے کہ بالکل انسانی طرز پہ کوئی کہانی ،مضمون یا مکالمہ لکھ سکے۔مصنوعی ذہانت مواد تو تیار کر سکتی، لیکن اس میں تخلیق اور تخیل کا فقدان ہوتا ہے جو ایک قلم کار کے پاس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آئی۔ٹی ٹیم نے مصنوعی ذہانت سے لکھی گئی تحریر اور قلم کار کی لکھی تحریر کے تقابلی جائزہ سے فرق واضح کیا اور مدد کے طور پر دیگر ٹولز بھی متعارف کروائے جو کہ ایسے مواد کی پہچان میں مددگار ثابت ہوں گے۔
پہچانِ پاکستان نیوز (گروپ) کے تحت کام کرنے والی ٹیم کو اس نئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ اصل اور مصنوعی میں فرق کیا جا سکے۔
پہچانِ پاکستان مجلسِ ادب ٹیم اس میں کامیاب بھی ہوچکی ہے حالیہ مقابلے میں بالکل درست نشاندہی کی گئی جس کی آئی۔ٹی ٹیم نے بھی تصدیق کر دی ہے۔
قلم کاروں سے دریافت کرنے پہ کچھ نے اعتراف کیا اور کچھ مصر ہیں کہ ان کی خود کی تخلیق ہے اس پہ اعتراض کرنے والے اپنے ادبی سفر کی داستان سنا کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے ۔مصنوعی ذہانت کی بنیاد پہ مسترد کی جانے والی تحاریر کے قلم کاروں کو کھلا چیلنج ہے اپنی تحریر پیش کر کے پھر اعتراض اٹھائیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔چوری پکڑے جانے پہ جانبداری کا الزام لگانے والے کمزور ہتھکنڈوں کی بجائے اپنی تخلیق پبلک میں پیش کریں اور پھر پہچانِ پاکستان کے فیصلے پہ اعتراض اٹھائیں۔اگر وہ ہمت نہ کر سکیں تو تحاریر ادارے کے پاس محفوظ ہیں بوقتِ ضرورت نام کے ساتھ شئیر بھی کی جا سکتی ہیں۔
اگر اے۔آئی کی مدد سے لکھے جانے والے مواد کے معیار کی بات کی جائے تو وہ انتہائی غیر معیاری تحاریر تھیں۔ان میں بے ربط، بے معنی جملے، لغت کی کمی،بعض زمینی حقائق کے برعکس اور قواعد کے برخلاف متن تھا۔
تخلیق کار کو چاہیے کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معیاری ادب تخلیق کرے نہ کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے من و عن مواد مقابلہ جات اور اخبارات میں ارسال کرتا رہے اور حقیقی تخلیق کار دم توڑتا رہے۔
تمام ادبی تنظیمیں ایسا کرنے والوں کو تنبیہ کریں، ان کا بائیکاٹ کریں اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے لکھے گئے مواد کی پہچان کے لیے اپنی ٹیمز کو تربیت فراہم کریں۔
جدت ہمارے لیے چیلنج لے کر آئی ہے اس سے نمٹنا بہت ضروری ہے ورنہ تخلیق کار کی موت واقع ہو جائے گی اور ہر طرف مصنوعی ذہانت ادب کا تمسخر اڑاتی نظر آئے گی۔

منجانب :
چیف ایڈیٹر ،زکیر احمد بھٹی
ڈپٹی چیف ایڈیٹر ،آمنہ منظور
آئی۔ٹی ٹیم پہچانِ پاکستان
ٹیم مینجمنٹ پہچانِ پاکستان
رابطہ :
چیف ایڈیٹر
+966507663558

ڈپٹی چیف ایڈیٹر
+966510381641

اردو ادب پہ مصنوعی ذہانت کے اثرات ۔How AI is Effecting Urdu litrature 
A complete insight by Pehchan-e-Pakistan Team
Zakeer Ahmad Bhatti ,Amenah Manzoor

مصنوعی ذہانت کے اردو ادب پہ اثرات

About pehchane pakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow