سپہ سالار کا پہلا سال ، عالمی تناظر میں تجزیہ

تحریر۔۔۔ فرحت عباس شاہ
” دی اکانومسٹ “ میگزین کے نٸے شمارے کے کَوَر پر جو تصویر دی گٸی ہے اور جس میں آنے والے حالات کی کوڈنگ کی گٸی ہے اسے بین الاقوامی سیاست اور معیشت سے دلچسپی رکھنے والا ہر کس و ناکس ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کر رہاہے ۔ ماہرین کا حالات اور ماحول کو دیکھتے ہوۓ سیاسی و معاشی تجزیے کرنا کوٸی اچنبھے کی بات نہیں ہے ۔ دی اکانومسٹ نے جو اشارے دیے ہیں ان میں سے سب سے اہم اشارہ اکلوتی آنکھ ہے جس کا کنکشن چاروں کونوں میں رکھے دماغوں کے ساتھ جڑا ہے ۔ بہت سے ماہرین کے مطابق یہ آنکھ دجال کی آنکھ کی علامت بھی ہے ، زاٸونسٹ کمیونٹی یا لیومیناٹیز کی نماٸندگی بھی کرتی ہے اور دنیا بھر میں راٸج کیپیٹلسٹ سسٹم کو چلانے والوں کی علامت بھی ہوسکتی ہے جو پوری دنیا پر نہ صرف نظر رکھے ہوۓ ہیں بلکہ اسے کنٹرول بھی کرتے ہیں۔ پھر دنیا کے چار بڑے لیڈرز روسی صدر پوٹن ، یوکراٸینی صدر زیلنسکی ، صدر شی جن پنگ اور صدر باٸیڈن کی تصاویر ہیں جن کے پہلوٶں میں مزاٸیل ایستادہ دکھاۓ گٸے ہیں ۔ سابق صدر ٹرمپ اور ایک خاتون کا خاکہ ہے ۔ یورپ اور مشرق ِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھاۓ رہنے کا اشاہ بھی ہے ۔ یوکرین اور اسراٸیل کی جنگوں کے علاوہ ایک جنگ ایشیاء میں بھی متوقع بتاٸی گٸی ہے ۔ سب سے دلچسپ بات یہی ہے کہ جنگ و جدل ، سیاست اور معیشت چلانے والوں کے دماغوں کا کنٹرول ایک آنکھ کے پاس ہے اور اب یہ کوٸی ایسا سیکرٹ بھی نہیں رہ گیا۔ ایک آنکھ کا جھنڈا یا نشان رکھنے والے پوری دنیا پر اس حد تک مسلط ہوچکے ہیں کہ ان کے بغیر پتہ تک نہیں ہل سکتا ۔ ملکوں اور ملکوں کے حکمرانوں کی تقدیروں کے فیصلے ہوں یا خطوں کے مستقبل کی منصوبہ بندی سب کچھ ان کی مرضی سے ہی چلتا ہے ۔

اب تو وہ اتنے نڈر ہوچکے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کل کرنا ہے آج بتا دیتے ہیں اور وہ بھی نہیں چھپاتے جو اب تک کرچکے ہیں ۔ اس سے لگتا ہے کہ دنیا پر اپنی بادشاہت کا اعلان بھی کرنا چاہتے ہیں اور دنیا کو اپنی طاقت سے مرعوب بھی کرنا چاہتے ہیں اور دنیا بھر کے عوام و خواص کو اطاعت کے لیے ذہنی طور پر تیار بھی کر رہے ہیں ۔ یہ قوتیں دنیا پر اپنے کنٹرولز اور بادشاہت کی پرسیپشن ڈویلپ کرنے کے لیے ایسے کام پہلے بھی کرتی دکھاٸی دیتی چلی آٸی ہیں اور واہمے یا التباس تخلیق کرنے میں تو انہیں ید ِ طُولا حاصل ہے ۔ اس حوالے سے سیمسن کارٹون سے جُڑی کہانیوں کی مثال دی جا سکتی ہے ۔
اگرچہ دنیا کی آٹھ ارب کی آبادی میں جن مخصوص لوگوں کو ان کی قوت اور ان کے منصوبوں کے بارے علم ہے ان میں دنیا بھر کا حکمران طبقہ شاید نوے فیصد سے زیادہ ہے جو ان کے بارے میں کم از کم بنیادی معلومات ضرور رکھتا ہے اور ان کے قریب بھی ہونا چاہتا ہے کیونکہ اس طبقے کو پتہ ہے کہ ان کی آشیرباد کے بغیر اقتدار تو کیا اقتدار کی پرچھاٸیں بھی نصیب نہیں ہوسکتی ۔ دنیا کے سو بڑے سرمایہ دار خاندانوں کے علاوہ یقناً دنیا کا ہر بڑا سرمایہ دار اس گروپ میں شامل ہے ۔ یہ صرف سرمایہ دارانہ بین الاقوامی تسلط ہی نہیں بلکہ ایک ایسا نظریاتی گورکھ دھندا بھی ہے جو جانے کتنی صدیوں سے جاری و ساری ہے اور ہر اس سوچ ، فلسفے ، نظریے اور عقیدے کے خلاف برسرِ پیکار ہے جو اس کے خانے میں فٹ نہیں بیٹھتا ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان جب سے وجود میں آیا ہے اس کے لیے کسی نا کسی طرح کی مشکلات پیدا کی جاتی رہی ہیں ۔ کبھی پاکستانی سیاستدانوں کی ریس پر شرط لگا کے تو کبھی اسٹیبلشمینٹ کے منہ زور گھوڑے پر کاٹھی ڈال کے پاکستان کے لیے چیلنجز پیدا کیے جاتے رہے ہیں لیکن پاکستان کی جغرافیاٸی پوزیشن کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمینٹ کی طرف سے کھیلا گیا کیموفلاج جکساپزل ان کے منصوبے فیل کرتا رہا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ ایمان کی قوت اور جذبے کی صداقت پر استوار تربیت کا نظام اور ایک خدا پر ایمان کے ساتھ ساتھ پیغمبر ِ اسلام صلعم کی ذات پاک سے محبت اور ان کی تعظیم ہے ۔ پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا اس بات کی گواہی ہے کہ جہاں پاکستان کو تن من دھن سمجھنے والوں کا بس چلا انہوں نے دجالیوں کے بنے ہوۓ جالوں میں سے گنجاٸشیں نکال کے پاکستان کو مضبوط کیا۔ جواباً ان طاقتوں نے بھٹو کو باغیانہ خیالات رکھنے اور سر اٹھا کر جینے کے اعلان کی سزا دی ۔ ان طاقتوں کو جنرل ضیاءالحق پر بھی غصہ تھا کہ ایران عراق جنگ میں پاکستان کا جھکاٶ ایران کی طرف کیوں رہا ہے ۔ جنرل مشرف پر ان کی تکلیف آن ریکارڈ ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دی گٸی امداد غربت کے خاتمے اور دہشت گردی کا شکار علاقوں کے انفراسٹرکچر پر کیوں خرچ کی گٸی ۔ یعنی اس میں کسی شک و شبہ کی گنجاٸش ہی نہیں کہ پاکستان کے حوالے سے پڑنے والا دباٶ سیاستدانوں نے کم اور اسٹیبلشمینٹ نے زیادہ برداشت کیا ہے ۔ اس بات کا اس ایک آنکھ والے طبقے کو پورا یقین ہے کہ پاکستان پر پوری طرح غلبے میں ان کو ہمیشہ ناکامی ہوٸی ہے ۔ اس بات کا غم و غصہ وقتاً فوقتاً وہ پاکستانی افواج پر نکالتے بھی رہتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی جرنیل ناقابل اعتبار ہیں ۔ وہ بظاہر ان کا یعنی بظاہر امریکہ وغیرہ کا ساتھ دے کر بھی اپنے وطن کا تحفظ اور فاٸدہ کرنے سے روکے نہیں جا سکے ۔
میرے اپنے تجزیے کے مطابق جب یوکرین رشیا وار کے بعد اسراٸیل حماس وار کی منصوبہ بندی کی جارہی ہوگی تو وہاں پر تھریٹ کی پیماٸش اور اَن کنٹرولڈ ویری ایبلز کے انڈیکیٹر میں سب سے نمایاں پاکستان جگمگ کر رہا ہوگا ۔ پاکستانی افواج کی صلاحیت اور اسراٸیل کے ساتھ گزشتہ کا سارا حساب کتاب دیکھ کر طے کر لیا گیا ہوگا کہ اس جنگ سے پہلے پاکستان کو چاروں طرف سے جکڑ کر رکھنا ضروری ہوگا ورنہ پاکستان کے اٹھ کھڑے ہونے سے پورا عالم اسلام اسراٸیل کے خلاف اٹھ کھڑا ہوگا اور پھر ایران ، عرب ممالک اور مشرق وسطی کے اتحاد جنگی وساٸل اور خصوصاً افواج پاکستان کی جنگی صلاحیت اور جذبہ شہادت کے سامنے اسراٸیل کا جم کر کھڑا رہنا ممکن ہی نہیں ہوگا اور اس جنگ سے مقصود و متوقع اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں رہے گا ۔ مجھے لگتا ہے پاکستان پر گراٸی جانے والی سیاسی و معاشی بجلیوں کے پیچھے یقیناً بڑی وجہ اسراٸیل کا تحفظ ہے اور دوسرا اکنامک پیرا ڈاٸیم شفٹ کے اقتصادی نقشے میں پاکستان کو بڑی اکنامک پاور بن کر ابھرنے سے روکنا بھی یقیناً اسی منصوبے کا حصہ ہوگا ۔ پھر وہ حالات پیدا کردیے گٸے جو ہم سب نے بھگتے اور بھگت رہے ہیں لیکن جس کا سب سے بڑا پریشر بطور سپہ سالار جنرل عاصم منیر کے دل ، دماغ اور کندھوں پر آ پڑا ۔
ان سارے حالات کو دیکھتے ہوے اگر غور کیا جاۓ کہ جنرل باجوہ تو امریکہ کی طرف سے پڑنے والے دباٶ کو اپنی ذات کی حدتک مینیج کرکے ریٹاٸر ہوگٸے لیکن کھیل تو سارا شروع ہی بعد میں ہوا ۔
ایک طرف ملکی سیاسی دباٶ تھا تو دوسری طرف معاشی پریشر ۔ پاکستان کے دیوالیہ ہوجانے کے دعوے کیے جا رہے تھے ۔ ملک میں تنخواہیں دینے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا ۔ قرضوں کی اقساط ادا کرنے کے لیے گویا پھوٹی کوڑی تک نہیں تھی ۔ خطے کے بدلتے ہوٸے حالات کے پیش ِ نظر امریکہ اور چین جیسے دو ہاتھیوں کی لڑاٸی کا میدان بننے سے پاکستان بچانا تھا اور ان سب سے بڑھ کے بھارت جیسے مکار دشمن کی طرف سے افغانستان سے مل کر پوری تاک لگا کر کی جانے والی دہشت گردی کا سامنا کرنا وہ بھی اتنے غیر معمولی حالات میں کسی ٹوٹی پھوٹی کمزور اور بےپتوار کشتی کو بلاخیز طوفان سے بچا کر لے جانے جیسا معجزہ ہے ۔ سرکاری بیان کچھ بھی آتے رہیں لیکن یقیناً یہ غلط فہمی تو کسی کو ہے ہی نہیں کہ موجودہ نگران حکومت کسی کام جوگی ہے ۔ میری طالب علمانہ راۓ کے مطابق ہمارے نگران وزیروں شزیروں کو تو شاید ملک کو درپیش مشکل حالات کا ادراک ہی نہ ہو ۔ یہ آہنی اعصاب اور پہاڑ حوصلہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر کا ہی ہے جس نے چومکھی لڑاٸی لڑ کے ملک کی ناٶ کو اس بھنور سے نکالا ہے جس سے نکلنے کا کوٸی راستہ ہی نظر نہیں آ رہا تھا ۔ شہباز شریف حکومت نے جس طرح ملک کا بیڑا غرق کیا اور تمام تر دعووں کے برعکس ہر شعبے میں جس بری طرح ناکام ہوٸی اس کے باعث اٹھنے والی گرد اور گرنے والا ملبہ بھی جنرل عاصم منیر کو ہی فیس کرنا پڑا ۔ اتنے نامساعد حالات میں آٸی ایم ایف کی رضامندی ، سعودی عرب سے تین ارب ڈپازٹ ، کویت سے اربوں روپَے کے کاروباری معاہدے اور دیگر ممالک سے اقتصادی سپورٹ حاصل کرنے سے لیکر سمگلنگ کی روک تھام اور ملک سے ڈالر کی نکاسی کو لگام ڈال کے منہ کے بل پھینکنا جنرل عاصم کی پالیسیوں کے باعث ہوا ورنہ بھارت جس طرح افغانستان میں بیٹھ کر جو گھناونا کھیل کھیل رہا تھا اور کھیل رہا ہے اسے ناکام بنانا نہ چودہ جماعتی اتحادی حکومت کے بس میں تھا نہ بیچاری موجودہ معصوم نگران حکومت کے بس میں ہے ۔ جو حکومت موسمی پیشین گوٸی دیکھ کر بارش کی توقع پہ سموگ کے خلاف اقدامات کا اعلان کرکے کریڈٹ لینے کی کوشش کرے اس بیچاری حکومت کی معصومیت پر ہنسا ہی جاسکتا ہے ۔
جنرل عاصم منیر کی طرف سے زراعت اور قدرتی وساٸل کے شعبوں میں کیے گٸے اقدامات
کے نتاٸج تو اتنے دور رس ثابت ہونگے کہ پاکستان کو کسی دوسرے کی مدد اور سہارے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی ۔ میرے نزدیک جنرل عاصم منیر کا افغان مہاجرین کے پاکستان سے انخلاء کا فیصلہ بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ بلکہ اگر اس فیصلے پر عمل درامد میں ذرا تاخیر ہوجاتی تو پاکستان کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچ سکتا تھا۔ اسی ایک فیصلے نے ملک میں ہونے والی مصنوعی بغاوت کروانے کی سازش کو یوں روکا ہے جیسے سیلابی ریلے کے سامنے پتھریلا بند باندھ دیا گیا ہو۔ اگر کچھ معاشی اہداف کا طاٸرانہ جاٸزہ لیا جاۓ تو ایک سال میں SIFC کا قیام عمل میں لانا ، ڈالر کا 308 سے 286 پہ آجانا ، چینی دال کے بھاٶ میں واضح کمی ہونا ، پیٹرولیم مصنوعات میں تیس سے پینتیس روپے کی کمی ، زمین بوس سٹاک مارکیٹ کی استحکام کی طرف واپسی ، پاکستانی تاجروں کے اعتماد کی بحالی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطرخواہ اضافہ براہ راست جنرل عاصم منیر کی واضح پالیسیوں اور اٹل اقدامات کے نتیجے میں ہی مکمن ہوسکا ہے ۔ سچ یہی ہے کہ اس ملک پر اللہ کا کرم ہے کہ فتنے پاکستان کو ضرر پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور رب تعالی اس کی حفاظت کے اسباب پیدا کردیتا ہے ۔ قدرت کی طرف سے جنرل عاصم منیر کی بطور ڈی جی آٸی ایس آٸی ، ڈی جی ایم آٸی اور دیگر انتہاٸی اہم پوسٹوں پر تعیناتی ان کی تربیت ، ویژن ، نالج ، حکمت عملی اور دلیری سب جیسے طے تھا اور قدرت کی طرف سے ان کو اسی مصیبت زدہ وقت کے لیے تیار کیا جانا مقصود تھا ۔ کوٸی ایسے تجربے اور دل گردے والا سپہ سالار ہی ملک پر آنے والی ان چہار طرفہ مشکلات کا مقابلہ کرسکتا تھا اور آج ایک سال گزرنے کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ ملک تیز رفتاری سے سیاسی اور معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ باقی رہا سماجی و ثقافتی استحکام تو ایک شاعر کے طور پر میری آرزو ہے کہ کاش جنرل عاصم منیر کا دھیان پاکستان کے مظلوم شاعر اور ادیبوں کی طرف بھی پڑ جاۓ جو پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے حقیقی محافظ و وارث ہیں اور افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ اپنے قلم کی تلوار سے ریاست کے نظریے کی حفاظت کرتے ہیں ۔ ماضی گواہ ہے کہ جب افواج پاکستان گزشتہ جنگوں میں سرحدوں پر دشمن کے دانت کھٹے کرنے میں مصورف تھیں تو شاعروں اور ادیبوں نے اپنے گیتوں ، ترانوں اور تحریروں سے لہو کو گرماۓ رکھنے اور حوصلوں کا بلند رکھنے کا فرض ادا کیا ۔ لیکن اس کے بعد سے آج تک مفاد پرست دو نمبر ادیب نہ صرف سرکاری ادبی اداروں پر قابض ہوچکے ہیں بلکہ ان کے غلبے کی وجہ سے حقیقی ادیب خواہش کے باوجود ریاست پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے سے قاصر ہیں ۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ بیوروکریٹس سے تعلقات اور ریڈیو ٹی وی کے زریعے شہرت حاصل کر کے اداروں اور تقریبات پر قبضہ کرنے والے نام نہاد راٸیٹرز نے تحقیقی و تنقیدی کاموں ، کانفرنسوں اور لٹریری فیسٹیولز سے جس طرح حقیقی ادب اور ادیب کو نکالا ہے اس کا نقصان براہ راست معاشرے کی نفسیات کو ہو رہا ہے اور عوام کے اذہان اور قلب کو بری طرح ڈیمج کیا جا رہا ہے ۔ کیا یہ کم تکلیف دہ ہے کہ ادبی اداروں کے عہدوں پر بیٹھے دو نمبر شعراء انڈیا جا کر مشاعرے پڑھنے اور دیگر لوازمات سے حظ اٹھانے کے لیے پاکستانی ریاستی پروگراموں میں شرکت تک سے گریز کرتے ہیں لیکن دوسری طرف 9 مٸی کے سانحے کے بعد لاہور کے حقیقی ادیبوں نے حلقہءارباب ذوق اور دیگر تنظیموں کے اشتراک سے جناح ہاوس جاکر ریاست اور افواج پاکستان کے ساتھ جس طرح کھل کے یکجہتی کا اظہار کیا اس کی بھی مثال نہیں ملتی ۔ ادیبوں نے پوری قوم کو پیغام دیا کہ شخصی اور انفرادی ریڈلاٸنز نہ بناٸیں ، ہمارا پاک وطن ہماری پہلی اور آخری ریڈ لاٸن ہے ۔ حقیقی ادیب آج بھی افرادی ، نظریاتی اور تخلیقی سطح پر اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلا رہا ہے ورنہ تو اس اکلوتی آنکھ والوں نے شہر شہر ہونے والے فیسٹیولز کے زریعے ان کو دیوار سے پیچھے ہھینک دینے میں کوٸی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔ ان ادب دشمن لٹریری فیسٹیولز کا ایجنڈا ہی یہی ہے کہ مفاد پرست فیک ادیبوں کی ڈگڈگی بجا بجا کے اتنا چرچا کیا جاۓ کہ لوگ ان کو حقیقی ادیب سمجھ کر حقیقی اور مصنوعی کا فرق بھول جاٸیں اور جو حقیقی ادیب ریاست کی محبت سینے سے لگاۓ پھرتے ہیں ان کا نام و نشان تک مٹ جاۓ ۔ کیونکہ ملکوں کو ختم کیا جاتا ہے معیشت کو کمزور کرکے اور قوموں کو کمزور کیا جاتا ہے ادب و ثقافت کو کمزور کرکے ۔

About dailypehchan epakistan

One comment

  1. ماشاءاللہ ماشاءاللہ زبردست تحریر لکھا ہے سر اکلوتی آنکھ دنیا پر قابض ہوگیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow