ڈائن ڈرامہ

تبصرہ نگار: ارم ثناء
ہماری ڈرامہ انڈسٹری کے لوگ کافروں کے ذہنی غلام ہیں۔انہوں نے اگر کسی ڈرامے میں غریب لڑکی دکھانی ہو تو اس کو شلوار قمیض پہنائی جاتی ہے، اس کے سر پر دوپٹہ رکھا جاتا ہے؛ اس کے برعکس اگر امیر لڑکی دکھانی ہو تو اس کو ساڑھی، پینٹ شرٹ اور اسکرٹ میں دیکھایا جاتا ہے۔ جیسے ڈائن ڈرامے میں مہوش حیات کو ایک غریب لڑکی دکھایا جا رہا ہے۔ وہ اپنے سر پر دوپٹہ رکھتی ہے، شلوار قمیض پہنتی ہے اور لڑکوں سے بات نہیں کرتی۔ وہاں دوسری طرف حرا مانی امیر دکھائی ہوئی ہے، اس کو آدھے بازو اور پیچھے سے گہرے گلے والی ساڑھی میں دکھایا جا رہا ہے۔ پھر جب مہوش حیات امیر لڑکی بن کر آتی ہے تو اس کے گلے میں دوپٹہ نہیں ہوتا اس کی ٹانگیں بھی نیم برہنہ ہوتی ہیں، وہ غیر مردوں سے ملتی ہے۔ آخر یہ سب کیا ہے؟ کیا شلوار قمیض پہننے والا غریب ہوتا ہے؟ کیا سر پر دوپٹہ رکھنے والی لڑکی غریب ہوتی ہے؟ کیا لڑکوں سے دور رہنے والی لڑکی غریب ہوتی ہے؟ خود کا جسم نہ دکھانے والی لڑکی غریب ہوتی ہے؟ ایسی لڑکی غریب ہوتی ہے یا حیا دار؟ اس ڈرامے میں جو سب سے زیادہ بری چیز دکھائی جارہی ہے وہ مہوش حیات کا والد ہے جو شراب پیتا ہے، اپنی بیٹی اور اس کی والدہ کو مارتا ہے۔ اس ڈرامے میں اس انسان کو برا بنا کر اس لیے پیش کیا گیا ہے کہ وہ غریب ہے، شراب پیتا ہے اور اپنی بیٹی اور بیوی کو غیر لوگوں سے ملنے سے روکتا ہے۔ ہماری ڈارمہ انڈسٹری نے جب کسی کو غریب بنانا ہوتا ہے تو وہ اس کو برا آدمی بنا کر پیش کرتی ہے۔ اگر ہم دیکھیں اصل زندگی میں تو شراب زیادہ امیر لوگ پیتے ہیں ان کی محفلوں(پارٹیوں) میں شراب پانی کی طرح پیش کی جاتی ہے۔ دوسری بات جو ڈرامہ میں دیکھائی جا رہی ہے کہ مہوش حیات کا باپ غریب ہے اس لیے وہ اپنی بیوی اور بیٹی کو مارتا ہے۔ اگر ہم معاشرے میں دیکھیں تو غریب انسان اپنی اولاد کی خاطر کیا نہیں کرتا؟ ایک حلال لقمے کی خاطر سارا دن گرمی و سردی میں مزدوری کرتا ہے۔ وہ بیمار ہو یا ٹھیک ہو وہ اپنے خاندان کی کفالت رزق حلال سے کرنے کےلیے باہر نکلتا ہے۔ ایک غریب باپ اپنی بیٹیوں سے کتنا پیار کرتا ہے یہ وہی جانتا ہے؛ لیکن ڈرامے میں کیا دکھایا جارہا ہے کہ وہ ایک انسان اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے۔ اس کا عکس معاشرے میں برا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ میرا سوال ہے کیوں غریب کو ہی برا بنا کر ہی پیش کیا جاتا ہے؟ کیوں غریب لڑکے کو ہی شراب پیتے دکھایا جاتا ہے؟ کیوں ایک غریب لڑکے کو ہی بیوی اور بیٹی کو مارتے دکھایا جاتا ہے؟ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس ڈرامے سے ہماری نوجوان نسل پر کیا اثر پڑے گا؟ یا ہمارے بچے کیا سبق حاصل کریں گے؟ ہماری نوجوان نسل کے ذہنوں میں یہ بٹھایا جا رہا ہے کہ غریب ہونا جرم ہے۔ کوئی بھی ماں باپ اپنی لڑکی کسی غریب اچھے انسان کو دینے سے گھبرائیں گے کہ کل کو یہ ہماری بچی کو مارے گا۔ ایسے ڈرامے ہمیں یہ سبق سیکھاتے ہیں کہ پیسے ہونے چاہیں؛ پھر چاہے وہ حرام طریقے سے آئیں یا حلال طریقے سے۔ ہمیں صرف امیر ہونا چاہیے۔ ہمارے بچوں کے ذہن میں یہ بٹھایا جا رہا ہے کہ اگر آپ امیر ہیں تو آپ کسی کے ساتھ بھی غلط کر سکتے ہیں کیوں کہ آپ کو قانون سے بچانے کےلیے آپ کا پیسہ موجود ہے۔ ایک اور بات اس ڈرامے میں جو دکھائی جا رہی ہے کہ باپ کے کیے کی سزا بیٹی کو دی جا رہی ہے۔ ہماری ڈرامہ انڈسٹری آج کل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ دوسری شادی اگر آپ نے کر لی ہے تو آپ نے بہت بڑا جرم کیا ہے۔ جو حق اسلام نے مرد کو دیا ہے وہ یہ حق اس طرح چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مجبوری میں بھی مرد دوسری شادی نہیں کر سکتا۔ ہاں اسلام نے کہا ہے کہ اگر آپ انصاف کر سکتے ہو تب دوسری شادی کرو۔ جیسے اس ڈرامے میں دکھایا جا رہا ہے کہ ہیرو کی پہلی بیوی کی اولاد نہیں؛ وہ بانجھ ہے تو مرد کو حق ہے کہ وہ دوسری شادی کر لے۔ اب یہاں پر بہت سے لوگ کہیں گے کہ اسلام نے یہ کب کہا ہے کہ تم صرف بچے کی خاطر پہلی کو طلاق دے دو؟ جی بالکل! یہ اسلام نے نہیں کہا؛ لیکن جس ڈرامے میں بھی دوسری شادی دکھائی گئی ہے اس میں کہیں پر بھی کوئی پہلی بیوی کو طلاق نہیں دے رہا۔ اس ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ پہلی بیوی کی پوری کوشش ہے کہ اس کا شوہر اپنی دوسری بیوی سے دور رہے، اور اس کو اپنی دوسری بیوی سے محبت نہ ہو۔ ایک طرف یہ ڈرامے غیر محرم کے درمیان محبت کو کوئی بہت ہی دنیا کی انوکھی چیز بنا کر پیش کرتے ہیں؛ جبکہ دوسری طرف یہ محرم رشتوں کے درمیان لڑائی جھگڑا دکھاتے ہیں۔ جن کے درمیان محبت ہونی چاہیے ان کے نام سے بھی لوگوں کو ڈرا رہے ہیں اور جن سے اسلام نے بچنے کا حکم دیا ہے ان کے درمیان یہ محبت کو دنیا کا کوئی عجوبہ بنا کر دکھا رہے ہیں۔ اب آپ لوگ خود سوچیں کہ ان ڈراموں کا معاشرے پر کیا اثر پڑے گا؟ کیا ہمارے بچے پھر حرام کی طرف نہیں جائیں گے؟ اگر آپ اپنے بچوں کو یہ سب کچھ دکھا رہے ہیں تو سوچیں کہ آپ کے بچے کل کو آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن پائیں گے؟ کیا وہ خود اپنی آخرت سنوار پائیں گے؟ اگر آپ کے بچے غریب ہیں تو کیا کل کو وہ خوش رہ پائیں گے؟ کیا کل کو آپ کی بچی چاہتے ہوئے بھی خود کو ڈھانپ پائے گی؟ اب آپ خود سوچ لیں کہ آپ نے اپنے بچوں کی تربیت قرآن و سنت کے مطابق کرنی ہے یا ان ڈراموں کے ذریعے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے ڈراموں سے مکمل قطع تعلقی(بائیکاٹ) اختیار کریں اور آپ سے التماس ہے کہ اس کارخیر میں ہمارا ساتھ دیں۔ اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔ آپ لوگوں کے سامنے ایسے ڈراموں کی مختصر ویڈیو بھی آئیں تو ان کو اگنور کریں۔ ازراہِ کرم ایسے ڈراموں کو سرچ کرنے سے گریز کریں ان کے ویوز بڑھانے سے گریز کریں۔ جتنا ایسے ڈراموں کو ریچ ملتی ہے اتنے ہی ہمارے معاشرے میں ایسے ڈرامے بنتے ہیں اور اتنے ہی ایسے ڈرامے ہمارے معاشرے میں دیکھائے جائیں گے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow