ہلچل وہی مچاتے ہیں جو وزن رکھتے ہوں

نصیر احمد بھلی (سیالکوٹ)
کوریا اب تو دو حصوں میں منقسم ہے، جنوبی اور شمالی۔پہلے یہ ایک ہی ملک تھا۔ پھر گھر کی بات گلی تک گئی۔دونوں لڑے اور علیحدہ ہو گئے۔ 1950 میں اتنے زور سے لڑے کہ جنوبی کوریا کے ایک لاکھ ستر ہزار فوجی مارے گئے۔لاکھوں زخمی ہوئے۔ شمالی کوریا کا بھی خاصا جانی نقصان ہوا۔ قریب تھا کہ جنوبی کوریا پہ قبضہ ہو جاتا مگر اس موقعہ پر امریکہ اور برطانیہ کو کھرک ہوٸی اور وہ جنوبی کوریا کی مدد کو آن ٹپکے۔ شمالی کوریا نے دونوں کو پکڑا ، کپڑے اترواۓ اور ایک کمرے میں بند کر دیا۔ یعنی دونوں امدادیوں کے چھتیس ہزار سے زائد فوجی پھڑکا دیے گئے اور ایک لاکھ معذور ہو کر بیساکھیوں کے سہارے واپس گئے۔ شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کا اچھا خاصا مفتوحہ علاقہ امریکہ کی پشت توڑ کاوش کے باوجود آج تک واپس نہیں کیا۔ آج کل کافی عرصے سے اس کا صدر کم جونگ اُن ہے۔ جی ہاں بظاہر گول مٹول اور پولا پولا سا۔لیکن جیسا دکھتا ہے ویسا ہے نہیں۔ اس کی گرفت اپنے ملک کی انتظامی مشینری بلکہ ثقافت اور تہذیب پر بھی نہایت مضبوط ہے۔ اس پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ لیکن کم کا کہنا ہے میں اپنے گھر کے معاملات کا بلا شرکت غیرے ذمہ دار ہوں۔ اگر میں اپنے گھر کی عورتوں کو برقع پہنا کر رکھتا ہوں اور بچوں کو گلی میں آوارہ لڑکوں کی صحبت میں جانے سے روکتا ہوں تو تم خوامخواہ ان کے بھائی اور مامے کیوں بنتے ہو؟
اس ننھے سے ملک نے امریکہ اور سارے یورپ کو تنہا نتھ ڈالی ہوئی ہے اور کبھی کبھار وختہ بھی ڈال دیتا کے۔ جس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کمیونسٹ نظریہ کا حامل ہے۔ظاہر ہے مسلمان بھی نہیں، ڈرتا بھی کسی سے نہیں (سوائے اپنے درزی اور نائی سے)۔ اس کے پیچھے چین اور روس کی ٹیک ہے۔ یعنی دو عدد ویٹو پاور کی مالک ریاستوں کی نیک چھاٶں میں پلا بڑھا ضدی اور کٹ حجت سا ملک ہے۔ دونوں کی مہربانی سے ایٹمی طاقت کے تربوز پہ بیٹھا ہے اور بین البراعظمی کھیروں (میزائلوں) کے تجربے کرتا رہتا ہے۔ تجربہ کرنے سے پہلے ان مزائلوں کا رخ امریکا اور یورپ کی طرف رکھتا ہے کیونکہ ان میزائلوں کی رینج پانچ سے پچیس ہزار کلومیٹر تک ہے اور مزے کی بات یہ کہ ایٹمی وار ہیڈ کی پخ ہر میزائل سے نتھی کیے رکھتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک اس کی پاکستان سے بہت اچھی دعا سلام تھی۔ دونوں ”نسوار“ اور ”سگریٹ“ کا تبادلہ کرتے تھے ، پھر امریکہ نے پاکستان کو اپنے پاس بٹھا کر سمجھایا کہ اچھے بچے گندے بچوں کے ساتھ نہیں کھیلتے۔امریکہ جب بھی اس سے چھیڑ چھاڑ والی بات کرے تو یہ جنوبی کوریا کے گریبان پہ ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ امریکا کی بولتی وہیں بند ہو جاتی ہے۔ اب شنید ہے کہ کم جونگ آن نے بھی ایران سے کہا ہے کہ میرے پاس ایسا مال پڑا ہے جسے اسراٸیل تک بھیجنا ہو تو کسی ریڈار کی ماں کی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی۔ بولو منظور ہے؟
ایران نے حامی بھر لی ہے۔
شمالی کوریا کی اس آفر کو سن کر اسراٸیل نے اپنے سوتیلے ابے سے پوچھا :
”دسو کیہہ کریے؟“
امریکہ نے جواباً کہا:
”ہن میں کیہہ کہہ سکداں۔ او میرے وسوں وی باہر اے۔“
ایک جھیل میں پتھر گرا تو بڑی ہلچل ہوٸی اور دور دور تک داٸرے بنتے گۓ۔ یہ دیکھ کر جھیل کنارے کے ایک درخت نے بھی اپنا پتہ پھینکا مگر نہ ہلچل ہوئی اور نہ دائرے بنے۔ درخت کچھ شرمندہ ہوا تو جھیل نے کہا :
”ہلچل وہی مچاتے ہیں جو وزن رکھتے ہوں۔“

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow