شگفتہ منشا (لاہور)
عفانہ خطاطی کورس کر رہی تھی کہ ایک دن اسے مشق کے لیے لفظ”معرفت الٰہی“ ملا۔گھر آکر جب اس نے اپنی مشق کو مکمل کیا اور اپنی مشق کا بغور جائزہ لیا تو اچانک سے اس کے ذہن میں معرفت الٰہی کو لے کر کچھ سوال آنے لگے۔
کیا ہے یہ معرفت الٰہی ؟
اب عفانہ یہی سوال لیے اپنی بڑی بہن ڈاکٹر اجیہ کے پاس جا پہنچی۔(جو کہ بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی میں شعبہ علوم اسلامیہ میں لیکچرار بھی ہے)اور جاکر یہ سوال دہراتی ہے ۔
ڈاکٹر اجیہ بہت محبت سے عفانہ کو اپنے پاس بٹھاتی ہے اور مشفق لہجے میں سمجھانے لگتی ہے کہ الله سبحانہ و تعالیٰ کی معرفت تزکیے کے اسباب میں سے ایک بہت بڑا سبب ہے لیکن یہ بات تفصیل طلب ہے کہ اللہ کی معرفت کیا چیز ہے؟ اس کی کیا اہمیت ہے؟ کیا اسباب ہیں؟اور معرفت میں کونسی چیز رکاوٹ ہے؟
چلو میں تمھیں آغاز سے بتاتی ہوں۔
قرآن کی وحی جو اللہ نے نازل کی ۔یہ ساری کی ساری عظمت والی ہے۔عفانہ ایک اور سوال دہراتی ہے کہ کیا یہ ساری وحی ایک ہی درجے والی ہے۔ ڈاکٹر اجیہ بتاتی ہے کہ نہیں ساری وحی ایک ہی درجے والی نہیں ہے۔یعنی وحی کا بعض حصہ فضیلت میں بعض حصے سے بڑھا ہوا ہوتا ہے۔
جیسا کہ حضرت أبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اے ابومنذر، کیا تو جانتا ہے کہ کتاب اللہ کی کونسی سب سے عظیم آیت تیرے پاس ہے ؟میں نے جوب دیا ،اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا،اے ابو منذر! کیا تو جانتا ہے کہ کتاب الٰہی کی کو نسی سب سے عظیم آیت تیرے پاس ہے ؟حضرت ابی بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے جواب دیا :اللہ لاالہ الا ھو الحی القیوم [یعنی آیت الکرسی]۔پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے [اپنے دست مبارک سے ]میرے سینے پر مارا اور فرمایا:ابومنذر تجھے علم مبارک ہو۔
( صحیح مسلم:810 المسافرین، سنن ابی داود:1460 الصلاۃ )
اسی طرح ابو سعید بن معلی کی جو حدیث ہے اس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کو یہ بات بتائی کہ قرآن کی سورتوں میں سب سے عظیم سورت فاتحہ ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی تمام سورتیں فضیلت میں برابر نہیں ہیں۔سورة الاخلاص ثلث القرآن ہے۔ اب تبت یدا ابی لھب و تب بھی قرآن کی ایک سورة ہے،قل ھو اللہ ھو احد بھی ایک سورة ہے لیکن اپنے شرف ،فضیلت اور اہمیت میں دونوں برابر نہیں ہیں۔
تو عفانہ پھر سے ڈاکٹر اجیہ سے سوال دہراتی ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے اور ایسا کیوں ہے؟
تو ڈاکٹر اجیہ محبت بھرے انداز میں بتاتی ہے کہ آیة الکرسی میں اللہ کا تعارف اس میں اللہ کی اسماء وصفات کا بیان ہے اور یہی وجہ ہے کہ آیة الکرسی قرآن کی عظیم سورة ہے۔سورة اخلاص میں اللہ کا تعارف ہے اور یہی معاملہ سورت فاتحہ کا ہے،آغاز ثناء سے ہے اور دوسرا حصہ دعا ہے۔
علماء کہتے ہیں کہ ”کسی بھی علم کی شرف و منزلت وہ اس چیز کے مطابق ہوتی ہے جس کے متعلق علم ہے۔“
عفانہ کہتی ہے کہ آپی مجھے یہ ذرا واضح الفاظ میں سمجھائیے۔پھر ڈاکٹر اجیہ مزید وضاحت کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ ہم کسی چیز کے بارے جانتے ہیں تو یہ ہمارا علم ہے جس کے متعلق وہ علم ہے وہ معلوم ہے۔تو اللہ کی ذات سے بڑھ کر کونسی چیز عظمت و اشرف والی ہے جو خالق کائنات ہے۔
وہ علم جس کا تعلق اللہ رب العزت سے ہے،وہ علم بھی افضل ہے۔اسی طرح قرآن کا وہ حصہ جو اللہ کے تعارف پہ مشتمل ہے وہ باقی قرآن سے بھی افضل ہے۔
Latest Posts
