تحریر: عائشہ شکیل(گوجرہ)
میرا ذاتی تجزیہ ہے کہ عموماً تنہائی پسند افراد معاشرتی نظروں میں ایک سوالیہ نشان بن جاتے ہیں مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
ہم میں سے اکثر کا خیال ہے کہ تنہا رہنے والا شخص یا تو کسی سرد مہری، تلخ رویے یا احساسِ محرومی کا شکار ہوتا ہے یا وہ محض اداسی کی ایک بوجھل تصویر ہے۔ اس کے برعکس وہ افراد جو گروہی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں، جن کے گرد ہمہ وقت دوستوں کا ہجوم رہتا ہے اور جو بظاہر زندگی کو خوش اسلوبی سے گزار رہے ہوتے ہیں وہ اکثر تنہائی پسندوں کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔
ہر انسان نفسیاتی لحاظ سے ایک منفرد جہان رکھتا ہے۔ بعض افراد اپنے جوش و خروش کے بھرپور اظہار کے باوجود روحانی طور پر مطمئن نہیں ہوتے۔ تنہائی دراصل ایک ایسی کیفیت ہے جو اپنی ذات سے ہم آہنگی اور باطن کی تطہیر کا نام ہے۔ یہ خود احتسابی اور دروں بینی کی علامت ہے۔
اکیلے رہنا، تنہا کام کرنا اور اپنی ذات سے مطمئن رہنا، انسان کو فکری بلندی عطا کرتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنی زندگی کو اپنے اصولوں کے تحت گزارتا ہے اور یہ سوچ کر فکرمند نہیں ہوتا کہ ”لوگ کیا کہیں گے؟“ تو وہ دراصل ذہنی بلوغت اور توازن کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے۔
رینوکا گورانی اپنی کتاب “The Art of Being Alone” میں رقم طراز ہیں کہ:
”اکیلا رہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ تنہا ہیں، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کے ساتھ ہیں۔“
اپنی ذات پر اعتماد کرنا اور دوسروں سے امیدیں وابستہ نہ رکھنا دراصل خود اعتمادی کی معراج ہے۔
مصنف، شاعر، درویش اور تخلیق کار اکثر فطری طور پر تنہائی پسند ہوتے ہیں۔ ان کی خاموشی نادانی کی علامت نہیں بلکہ ان کے ذہن میں جاری مسلسل فکری عمل کا پتہ دیتی ہے۔ وہ اتنی گہری سوچوں میں مگن ہوتے ہیں کہ دوسروں کی سطحی آراء پر توجہ دینے کی فرصت نہیں رکھتے۔
تنہا شخص دل کا نرم، مزاج کا حساس اور فطرت کا گہرا مشاہدہ رکھنے والا ہوتا ہے۔ وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں اور تجربات سے گزر چکا ہوتا ہے اس لیے وہ خاموشی کے ساتھ ہر اچھے اور برے وقت کا استقبال کرتا ہے۔ وہ جھوٹ اور مبالغہ آرائی سے پرہیز کرتا ہے اور چند گہرے مگر جامع الفاظ میں اپنا مدعا بیان کر دیتا ہے۔
ایسا انسان حوصلہ مند ہوتا ہے اور ہر فیصلہ مکمل غور و فکر اور تدبر سے کرتا ہے۔
تنہائی اُس کے لیے کمزوری نہیں بلکہ خود شناسی اور شعور کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
Latest Posts
