کشمیر: خون، دھواں اور سفارتی خاموشی

کالم نگار: آمنہ طارق ملک
کشمیر کا مسئلہ کبھی ختم نہیں ہوتا، بس کبھی چپ ہوتا ہے اور کبھی پھر سے سر اٹھا لیتا ہے۔ بائیس اپریل دوہزار پچیس کو پاہلگام میں ہونے والے حملے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ یہاں جنگ کا ماحول کبھی نہیں بدلے گا۔ چھبیس معصوم سیاح، جن کا کسی بھی تنازع سے کوئی تعلق نہیں تھا، اس خونریزی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ بھارت نے فوراً الزام پاکستان پر عائد کیا اور اس کے بعد حالات تیزی سے بگڑنے لگے۔
چھ مئی کو بھارت نے ’’آپریشن سندور‘‘ کے نام سے پاکستان اور آزاد کشمیر میں فضائی حملے شروع کیے، جن میں بھارت کے مطابق دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی میڈیا نے ان حملوں کو فتح کے طور پر پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ جیشِ محمد کے کمانڈر عبدالرؤف اظہر بھی ان حملوں میں مارے گئے، جو کہ پہلے ہی دہشت گردی کی دنیا میں معروف تھے۔
پاکستان نے ان حملوں کو نہ صرف بزدلانہ کارروائی قرار دیا بلکہ اس کا سخت جواب بھی دیا۔ پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے اور متعدد بھارتی چیک پوسٹیں تباہ کیں۔ اس کے بعد آٹھ مئی کو بھارت نے اسرائیلی ڈرونز کے ذریعے پاکستانی حدود میں دراندازی کی کوشش کی، لیکن پاک فوج نے انتیس ڈرونز مار گرائے۔
اس کے باوجود، بھارت کی جانب سے پاکستان پر مزید الزامات لگائے گئے کہ پاکستان نے چار سو ڈرونز کے ذریعے بھارتی شہروں، فوجی اڈوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا اور بھارت کی جانب سے نفرت پر مبنی پروپیگنڈے کو مسترد کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ کیا یہ وہ راستہ ہے جس پر ہم نے قدم رکھا ہے؟ کشمیر میں سالوں سے جاری خونریزی کا کوئی حل دکھائی نہیں دیتا۔ ہر نئی کارروائی، ہر نیا حملہ، صرف اور صرف کشمیری عوام کے دکھوں میں اضافہ کرتا ہے۔ ہر روز نئے معصوم افراد کی زندگیوں کا خاتمہ ہوتا ہے اور پھر وہی کہانیاں، وہی خبریں، وہی دعوے اور وہی الزامات دہرائے جاتے ہیں۔
کیا ہم نہیں سمجھتے کہ جنگ سے کسی مسئلے کا حل نہیں نکلتا؟ بھارت اور پاکستان دونوں جوہری طاقتیں ہیں، اور اگر یہ کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورا خطہ تباہ ہو سکتا ہے۔ کشمیر کی سڑکوں پر خون بہنے کے ساتھ ساتھ ہماری انسانیت بھی مر رہی ہے۔
بین الاقوامی ادارے، جیسے اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کب تک خاموش تماشائی بنی رہیں گی؟ کیا ہمیں مزید لاشوں کے انتظار میں بیٹھنا پڑے گا؟ اگر عالمی برادری نے فوری مداخلت نہ کی تو حالات اتنے خراب ہو سکتے ہیں کہ ان کا سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا۔ہمیں جنگ کی گونج سے باہر نکل کر امن کی زبان اختیار کرنی ہو گی۔ ہم سب کو سمجھنا ہو گا کہ کشمیر کی آزادی کا مطلب وہاں کی عوام کا امن اور سکون ہے، نہ کہ وہاں کی زمین پر مزید خون ریزی۔
پاک بھارت جنگ کا سبق:
بھارت اور پاکستان کے مابین صورت حال جلد کسی نئی جنگ میں تبدیل نہیں ہو سکتی، لیکن ’’جنگ نہیں، امن نہیں‘‘ کی موجودہ کیفیت جاری رہے گی۔ لہٰذا پاکستان کو عسکری طور پر چوکس رہنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر دلوں اور ذہنوں کو جیتنے کے لیے بھارت کے ساتھ سفارتی مقابلے کی تیاری کرنا ہو گی۔ پاکستان میں فتح کی تقریبات کافی تھیں، اب بھارت کے ساتھ حالیہ تصادم اور اس کے پس منظر سے متعلق عالمی سطح پر اپنے نقطۂ نظر کو اجاگر کرنے کے لیے لابی کرنے کے اقدامات اپنانے کا وقت آ چکا ہے۔ مغربی میڈیا، تھنک ٹینکس اور عہدے داروں کے خدشات اور سوالات کو سمجھ داری اور پیشہ ورانہ انداز میں حل کرنا ہو گا۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow