ملک ثاقب شاد تنولی ایڈوکیٹ
خیبر پختونخواہ میں حالیہ سیلاب نے ایک بار پھر قدرتی آفات کے سامنے ہماری کمزوریوں اور تیاریوں کی قلّت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اگست 2025 کے وسط میں ہونے والی شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابوں نے صوبے کے مختلف اضلاع میں تباہی مچا دی، خاص طور پر بونیر، سوات، باجوڑ، شانگلہ، مانسہرہ، اور دیر کے علاقوں میں۔ ان آفات نے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کیا بلکہ بنیادی ڈھانچے، زراعت، تعلیم، صحت اور مواصلات کے نظام کو بھی شدید متاثر کیا۔بونیر ضلع، خاص طور پر پیر بابا اور ملک پورہ کے علاقے، سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جہاں 184 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ سیلابی ریلوں نے سیکڑوں گھروں کو منٹوں میں ملیا میٹ کر دیا، اور متاثرین کو فوری مدد کی ضرورت پڑی۔ ریسکیو ٹیموں نے مسلسل کام کیا، لیکن شدید بارشوں اور زمین کھسکنے کے واقعات نے امدادی کارروائیوں کو مشکل بنا دیا۔ ایک ریسکیو ہیلی کاپٹر بھی خراب موسم کے باعث حادثے کا شکار ہوا، جس میں پانچ عملے کے ارکان جاں بحق ہوئے۔
صوبے بھر میں بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ سڑکیں، پل، بجلی کے نظام، اور پانی کی فراہمی کے ذرائع تباہ ہو گئے۔ صوبائی حکومت کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق، صرف سڑکوں اور پلوں کی مرمت پر 18.6 ارب روپے، زرعی شعبے میں 14 ارب روپے، اور آبپاشی کے نظام کی بحالی پر 19 ارب روپے سے زائد کا خرچ آئے گا۔ زراعت کے شعبے میں 60,752 ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں، جس سے کسانوں کو 9.16 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ان تمام مسائل کا حل صرف وقتی امداد میں نہیں بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی میں ہے۔ سب سے پہلے، ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ مون سون کے پیٹرن میں تبدیلی، گلیشیئرز کے پگھلنے، اور غیر متوقع بارشوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے لیے ہمیں ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات، جیسے کہ درختوں کی شجرکاری، پانی کے ذخائر کی بہتری، اور زمین کے کٹاؤ کو روکنے کے منصوبے اپنانے ہوں گے۔دوسرا، ہمیں انفراسٹرکچر کو مضبوط اور محفوظ بنانا ہوگا۔ سڑکوں، پلوں، اور عمارتوں کی تعمیر میں جدید ٹیکنالوجی اور معیاری مواد کا استعمال ضروری ہے تاکہ وہ قدرتی آفات کا مقابلہ کر سکیں۔ اس کے علاوہ، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ پانی کی روانی میں رکاوٹ نہ آئے۔تیسرا، ہمیں مقامی سطح پر کمیونٹی کی تربیت اور آگاہی بڑھانی ہوگی۔ لوگوں کو قدرتی آفات کے دوران احتیاطی تدابیر، ابتدائی طبی امداد، اور محفوظ مقامات کی معلومات فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے اسکولوں، مساجد، اور کمیونٹی سینٹرز میں تربیتی پروگرامز کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔
چوتھا، حکومت کو امدادی فنڈز کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانا ہوگا۔ بینکوں کے ذریعے امداد کی تقسیم میں تاخیر اور بائیومیٹرک تصدیق کے مسائل نے متاثرین کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ اس کے لیے موبائل بینکنگ، آسان تصدیقی نظام، اور مقامی سطح پر امدادی مراکز کا قیام ضروری ہے۔تعلیم کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ 2022 کے سیلاب میں 1,888 اسکولوں کو نقصان پہنچا، جن میں سے 532 کی بحالی کے لیے 8.4 ارب روپے مختص کیے گئے، لیکن باقی اسکولوں کی مرمت کے لیے مزید 6.5 ارب روپے درکار ہیں۔ یہ صورتحال پہلے سے ہی تعلیمی سہولیات کی کمی کا شکار صوبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔صحت کے شعبے میں بھی بحران پیدا ہوا۔ سیلاب سے 800 سے زائد پانی کی فراہمی کے نظام تباہ ہو گئے، جس سے صاف پانی کی قلت پیدا ہوئی۔ اس کے نتیجے میں ڈینگی، ملیریا، ہیضہ، اور جلدی بیماریوں کے کیسز میں اضافہ ہوا۔ عوام کو بنیادی طبی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں صحت کے مراکز پہلے ہی محدود تھے۔سیلاب سے بے گھر ہونے والے افراد کو عارضی کیمپوں میں منتقل کیا گیا، لیکن ان کیمپوں میں بنیادی سہولیات کی کمی، گنجائش سے زیادہ افراد کی موجودگی، اور صفائی کے ناقص انتظامات نے متاثرین کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ کئی خاندانوں کو کھانے، پینے کے پانی، اور طبی امداد کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑا۔بین الاقوامی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ اقوام متحدہ، ایشیائی ترقیاتی بینک، اور دیگر ادارے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ شراکت داری سے بحالی کے عمل کو تیز اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔آخر میں، ہمیں اپنی پالیسیوں میں ماحولیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ قومی اور صوبائی سطح پر ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جو قدرتی آفات کے خطرات کو کم کریں اور متاثرین کی بحالی کو یقینی بنائیں۔
Latest Posts
