جہیز ایک رسم یا لعنت

ملک ثاقب شاد تنولی ایڈوکیٹ
جہیز ہمارے معاشرے کی ایک ایسی جڑ پکڑ چکی رسم ہے جس نے رشتوں کے خلوص کو مادی اشیاء سے بدل دیا ہے۔ شادی جو کہ دو دلوں اور دو خاندانوں کے درمیان پیار، بھروسے اور ہم آہنگی کا تعلق ہونا چاہیے، وہ اب فرنیچر، سونے، گاڑی اور دیگر سامان کی فہرست پر آ کر رک گئی ہے۔ ایک بیٹی کو اس کی تربیت، اخلاق یا تعلیم سے نہیں بلکہ اس کے ساتھ آنے والے جہیز سے پرکھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ رویہ صرف نچلے طبقے میں نہیں بلکہ ہر طبقے میں موجود ہے، چاہے وہ متوسط ہو یا اعلیٰ۔

اسلامی تعلیمات کو دیکھیں تو ہمیں سادگی، محبت اور خلوص نظر آتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ کی شادی کی سادگی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ لیکن آج ہم نے دین سے ہٹ کر معاشرتی اقدار کو رسموں کی شکل میں اپنا لیا ہے۔ لڑکے والے جہیز کو اپنا حق سمجھتے ہیں، اور اگر کچھ کم ہو جائے تو لڑکی کو عمر بھر طعنے سننے پڑتے ہیں۔ کہیں یہی طعنے ذہنی اذیت کا باعث بنتے ہیں تو کہیں جسمانی تشدد کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جہیز نہ ہونے پر شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں، منگنیاں ختم ہو جاتی ہیں یا پھر بیٹیاں ماں باپ کے گھر میں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو جاتی ہیں۔جہیز کی وجہ سے ماں باپ کی عزت، بیٹی کی خوشیاں، اور رشتوں کی حرمت سب داؤ پر لگ جاتی ہے۔ والدین قرض لیتے ہیں، زمینیں بیچتے ہیں یا ساری زندگی کی جمع پونجی ایک دن میں لٹا دیتے ہیں، صرف اس لیے کہ بیٹی کو خوشی سے رخصت کر سکیں۔ لیکن افسوس کہ اس سب کے باوجود بھی اکثر لڑکیاں سسرال میں قبول نہیں کی جاتیں۔ ان کے کردار، شکل یا تعلیم پر نہیں بل کہ اس پر بات ہوتی ہے کہ جہیز میں کیا کچھ لائی؟ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسانیت دم توڑتی ہے اور رشتہ داری ایک سودے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔یہ رسم اب صرف ایک خاندانی یا ذاتی معاملہ نہیں رہا بل کہ ایک اجتماعی مسئلہ بن چکی ہے۔ ہم سب اس کا حصہ ہیں، چاہے خاموش تماشائی بن کر یا روایت کے مطابق چل کر۔ جب تک ہم انکار نہیں کریں گے، جب تک ہم اپنے بیٹوں کی شادی میں مطالبات نہیں چھوڑیں گے، تب تک یہ رسم زندہ رہے گی۔ اصل تبدیلی انکار سے آتی ہے۔ اگر ایک ماں باپ کہہ دیں کہ ہمیں صرف اچھی بہو چاہیے، نہ کہ مال و دولت، تو یہ انقلاب کی پہلی اینٹ ہو سکتی ہے۔

میڈیا، تعلیمی ادارے اور مذہبی رہنما سب کو مل کر اس کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔ میڈیا پر ڈرامے اور اشتہارات ایسے ہوں جو سادگی کو فروغ دیں، تعلیمی ادارے طلبا میں شعور بیدار کریں، اور مساجد میں آئندہ نسل کو جہیز کے خلاف تعلیم دی جائے۔ بیٹیوں کو تعلیم دیں، ہنر دیں، خوداعتمادی دیں تاکہ وہ کسی بھی معاشرے میں خود کو ثابت کر سکیں۔اگر ہم نے آج یہ فیصلہ کر لیا کہ جہیز نہیں لیں گے، تو کل ہمارے بچے بھی یہی سیکھیں گے۔ ہم سب کو اپنی اپنی جگہ کردار ادا کرنا ہوگا۔اپنے بیٹے کی شادی سادگی سے کریں، بیٹی کے رشتے میں مطالبہ نہ کریں، اور سب سے بڑھ کر معاشرے کو یہ پیغام دیں کہ بیٹی کوئی بوجھ نہیں، بلکہ رحمت ہے۔ اگر ہم نے آج یہ قدم نہ اٹھایا، تو کل یہی رسم ہماری نسلوں کو بھی برباد کرتی رہے گی۔جہیز کو ختم کرنا صرف ایک سماجی فرض نہیں بلکہ انسانی غیرت کا تقاضا ہے۔ یہ وہ رسم ہے جو رشتوں کو نگل رہی ہے، عزتوں کو پامال کر رہی ہے، اور ماں باپ کی زندگی کو عذاب بنا رہی ہے۔ وقت ہے کہ ہم اپنے کردار سے، اپنی سوچ سے اور اپنے فیصلوں سے اس ظلم کو روکیں۔ جہیز نہیں، عزت چاہیے۔ سامان نہیں، انسان چاہیے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow