تحریر: فداء الرحمن( الغزالی یونیورسٹی)
بارش، جسے قدرت نے رحمت بنایا ہے، مگر کراچی والوں کے لیے یہ ہر بار قہر اور اذیت کی صورت میں اترتی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں بارش زندگی کو سہولت بخشتی ہے، ماحول کو خوشبو دیتی ہے، اور دلوں کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔ مگر کراچی میں یہ بارش خوشبو نہیں، بدبو لاتی ہے؛ راحت نہیں، کرب لاتی ہے؛ سکون نہیں، چیخ و پکار لاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سزا ہے یا صرف ہماری غفلت کا نتیجہ؟
گذشتہ دنوں ہونے والی بارش نے شہر کو مفلوج کر دیا۔ ایک دن میں ریکارڈ بارش ہوئی، 160 ملی میٹر سے زیادہ پانی آسمان سے اترا اور زمین کو ڈبو گیا۔ وہ شہر، جو ملک کو سب سے زیادہ کماتا ہے، چند گھنٹوں کی بارش بھی برداشت نہ کر سکا۔ گھروں میں پانی داخل ہوگیا، شاہراہیں ندیوں میں بدل گئیں، گاڑیاں بہہ گئیں، بجلی غائب ہوگئی، موبائل سگنل بند ہوگئے۔ اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز تک پانی گھس آیا، مریض تڑپتے رہے، اور ایمبولینسیں ٹریفک کے طوفان میں پھنسی رہیں۔ کم از کم دس قیمتی جانیں لقمۂ اجل بن گئیں کوئی کرنٹ لگنے سے، کوئی دیوار کے نیچے دب کر، اور کوئی سیلابی ریلے میں ڈوب کر۔
ماں اپنے بچوں کو کندھوں پر اٹھائے پانی میں راستہ ڈھونڈتی رہی، مزدور روزی کی تلاش میں گھر سے نکلا مگر شام تک لاپتہ ہوگیا، اور طلبہ کے بستے پانی میں تیرتے رہے۔ یہ سب منظر کوئی فلم نہیں، بل کہ کراچی کی حقیقت ہے۔انتظامیہ کے وعدے پھر دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اربابِ اختیار صرف بیانات کی چھتری اوڑھ کر بیٹھے رہے جبکہ شہر والوں نے اپنی آنکھوں سے خوابوں کا شہر ٹوٹتے دیکھا۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ بارش ہر سال صرف کراچی والوں کے لیے عذاب کیوں بن جاتی ہے؟ یہ بارش صرف پانی نہیں تھی۔ یہ حکومتی بے حسی اور شہری لاوارثی کا اعلان تھا۔ یہ گلیوں میں بہتا ہوا پانی عوام کے آنسوؤں کی مانند ہے، جو برسوں سے چپ چاپ بہہ رہے ہیں مگر کوئی پونچھنے والا نہیں۔
کراچی کے عوام پکار اٹھے ہیں: ہم بارش سے نہیں ڈرتے، ہم غفلت سے ڈرتے ہیں۔
اب وقت ہے کہ وعدوں کے بجائے عملی اقدامات ہوں۔نکاسی آب کے مضبوط نظام، جدید شہری منصوبہ بندی، اور ایماندار قیادت کے بغیر یہ شہر ہر سال ڈوبتا رہے گا — اور اس کے ساتھ ڈوبتی رہے گی پورے ملک کی معیشت۔
کراچی اب مزید صبر نہیں کر سکتا۔ یہ شہر صرف سڑکوں اور عمارتوں کا نہیں، یہ لاکھوں امیدوں کا شہر ہے۔ خدارا، اس امید کو مرنے سے بچا لیجیے، اس سے پہلے کہ ہر شہری کی زبان پر صرف ایک ہی صدا رہ جائے:گو حکومت گو۔
Latest Posts
