
از قلم: بنت آصف
اللّٰہ رب العزت نے جس ملک میں مجھے پیدا کیا۔ اِس کی ہر ایک چیز سے مجھے محبت ہے اور یہ محبت ایسی نہیں ہے کہ میں اگر اپنے ملک سے دور رہوں تو یہ ختم ہو جائے گی۔ اس ملک کی مٹی، اس کے باغات اور اس کے تمام موسم مجھے اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ بالکل اس طرح جیسے ایک ماں اپنے بچے کو دور ہوتے دیکھتی ہے تو محبت سے خود میں بھینچ لیتی ہے۔
یہ محبت، یہ عزت اور یہ وقار میں کسی ملک سے حاصل نہیں کر سکتی۔ پاکستان کے نام میں چھپا آزادی کا مطلب اس کے پیچھے دی گئی قربانیاں اور اس کے لیے کی گئی جدوجہد ایسی تو نہیں ہے کہ اس سے منہ موڑا جائے۔ اللہ نے ہمیں آزادی دی ہے تو یہ ملی نغموں تک ہی نحدود کیوں رکھی جائے؟
اللہ نے اگر آزاد شہری بنایا ہے تو کیوں پیچھے ہٹا جائے؟ اس وقت جب اس ملک پر بُرا وقت آیا ہے تو بجائے قوم کو تنہا چھوڑنے کے آگے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے۔
قوم کو امداد پہچانے کیلئے یہ مت کہیں کہ مجھے اِن آن لائن تنظیموں پر بھروسہ نہیں ہے۔
بھئی جہاں آپ کو لگتا ہے کہ یہ جگہ قابلِ اعتبار ہے تو بس وہی اپنا حصہ ڈال لیں۔ جس طرح کوئی بھی اپنی ماں کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تو پھر آپ کیسے اس پاک سر زمین کو اجڑا ہوا دیکھ کر بھی خاموش ہیں؟
غزہ جا نہیں سکتے مان لیا، فلسطین تک رسائی نہیں، وہاں کیلئے جانے والی امدادی تنظیموں پہ بھی یقین نہیں
چلیں یہ بھی مان لیا۔ اب اپنے ملک میں ضرورت ہے آپ کی اب بتائیں کیا خیال ہے آپ کا ؟یا پھر یہاں بھی آپ کو ہزار دلیلیں چاہیے؟
اللّٰہ رب العزت ملک پاکستان پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور ہمارے تمام مسلم ممالک پہ رحمت کا سایہ سلامت رہے۔
Latest Posts
