عبدالرؤف ملک کمالیہ
تقریباً تین ماہ قبل پنجاب بھر میں تجاوزات کے خلاف پنجاب حکومت نے آپریشن کا آغاز کیا جس کا مقصد مارکیٹوں، بازاروں اور گلی محلوں میں ناجائز تجاوزات کا خاتمہ اور سرکاری اراضی کو واگزار کروانا تھا۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں ان تجاویز کے خلاف اتنا مؤثر اور کامیاب آپریشن نہیں دیکھا۔ جس میں ناجائز املاک کو گرایا گیا، سرکاری زمین پر بنے لمبے لمبے تھڑے توڑے گئے اور لوگوں کی گزرگاہوں پر رکھا سامان سرکاری تحویل میں لیا گیا اور لوگوں کو جرمانے تک بھی کیے گئے۔ اس آپریشن کو اکثر عوام نے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا لیکن اس کے فوائدوثمرات ہمیں آج محسوس ہورہے ہیں۔ وہ بازار، مارکیٹیں اور گلیاں جہاں سے گزرنا ناممکن نظر آتا تھا آج انہی راستوں پہ آپ بغیر کسی دشواری کے نہ صرف گزر سکتے ہیں بلکہ اپنی گاڑی تک لے کر جاسکتے ہیں۔
حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی میں تجاوزات کا کردار بنیادی ہے جس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ پنجاب میں بہنے والے کسی بھی دریا کو دیکھ لیں ان کے کناروں اور قدرتی گزرگاہوں پر غیر قانونی تجاوزات اور تعمیرات نے ان کے پیٹ کو کم کرکے ایک نالے کی شکل دے دی ہے۔ ان نالے نما دریاؤں میں جب اتنے خطرناک اور سنگین قسم کے ریلے گزریں گے تو لازماً اس کی زد میں بستیاں، کالونیاں، ہاؤسنگ سوسائیٹیز اور فصلیں ہی آئیں گی۔ دریاؤں میں تجاوزات ایک خاموش قاتل کی طرح ہے۔ جب لوگ دریاؤں، ندی نالوں اور قدرتی گزرگاہوں پر غیر قانونی تعمیرات کھڑی کر لیتے ہیں تو پانی کا راستہ تنگ پڑ جاتا ہے۔ پھر جب بارش یا پہاڑوں سے اُترتا ہوا ریلا پوری قوت اور رفتار سے آتا ہے تو اپنے راستے میں آنے والی بستیوں، عمارات اور کھیتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ یوں انسان کا یہ لالچ اور لاپرواہی سیلاب کی شدت کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں جس سے اصل بربادی کا آغاز ہوتا ہے۔
وہ دریا جو صدیوں سے اس دھرتی کو سیراب کر رہے تھے۔ جن کی روانی میں آبی مخلوقات اور انسانوں کی زندگی اور کھیتوں اور کھلیانوں کی زرخیزی پنہاں تھی۔ جن کی لہریں رزق کی فراوانی اور فصلوں کی کثرت کی ضمانت تھیں اور جن کا بہنا ہی ہمارے لیے فیوض وبرکات کا موجب تھا آج ہم سے ناراض ہیں۔ یہ دریا آج غیظ و غضب میں بپھرے ہوئے ہم سے شکوہ کر رہے ہیں کہ دنیا کی وہ کون سی دولت تھی جس سے ہم نے آپ کو محروم رکھا اور ایک تم ہو کہ اپنے لالچ اور ہوس میں اس قدر خودغرض ہوگئے ہو کہ میرے راستوں پر ہی قبضہ کرلیا۔ ناجائز تجاوزات، غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائیٹیز، کالونیاں اور کنکریٹ کی صورت میں میرے راستے مسدود کردیے اور میرے آگے لالچ اور خودغرضی کی دیواریں کھڑی کردیں۔
وہی پانی جو کبھی زندگی کی علامت ہوتا تھا آج موت کا پیغام بن کر بستیوں کو بہا لے گیا ہے۔ پررونق گھر آج ویران کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ اس تباہی کے ذمہ دار یہ سیلاب یا قدرتی آفات نہیں بلکہ ہم خود ہیں۔ یہ آفات اچانک نہیں آتیں بلکہ یہ ہماری مسلسل کوتاہیوں کا نتیجہ ہیں جس میں ایک عام شہری سے لے کر اعلیٰ عہدیدار تک سب ملوث ہیں۔ ان نقصانات کی ذمہ داری ہمارے اداروں کی مجرمانہ غفلت، حکومت کی خاموشی اور عوام کی بےحسی پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے غیرقانونی تجاوزات کے ذریعے قدرت سے ٹکر لی جس کا خمیازہ آج پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ دریاؤں کے راستے میں کی گئی ناجائز تجاوزات کے خلاف فوری ایکشن لے اور اس سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی کی جائے کیونکہ سیلاب کا خطرہ ہر سال ہمارے سر پر منڈلاتا ہے۔ غریب عوام جو پہلے ہی غربت کی لکیر تلے زندگی بسر کر رہی ہے وہ بار بار اس قدر شدید نقصانات کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
آج کا یہ سیلاب ہمارے لیے درسِ عبرت بھی ہے کہ ہم اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے سبق حاصل کریں اور ان کا ازالہ کرنے کےلیے دریاؤں کے راستے اور پانی کی قدرتی گزرگاہوں کے سامنے حائل رکاوٹیں دور کریں تاکہ دریاؤں کو روانی سے چلنے کا موقع مل سکے ورنہ یاد رکھیں قدرت کا انتقام بڑا شدید ہوتا ہے۔ اس کو تجاوزات کے آپریشن کے لیے کسی پرمٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یاد رکھیں! صرف انسان ہی نہیں بلکہ دریا بھی اپنی قبضہ شدہ زمین چھڑوانے اور ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ یہ سیلاب صرف ایک قدرتی آفت ہی نہیں ہے بلکہ قدرت کا تجاوزات کے خلاف آپریشن ہے جو ہر قسم کی تجاوزات اور رکاوٹیں اپنے ساتھ بہا کر اپنی زمین واگزار کروالیتا ہے۔
Latest Posts
