فاروق انجم (جدہ) کے قلم سے
دفاعِ پاکستان کا یہ دن 1965ءکی جنگ میں افواجِ پاکستان کی جرات، قربانیوں اور بہادری کی یاد کا دن ہے۔ 6 ستمبر 1965ءکو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کیسے پاکستانی افواج اور قوم نے اپنے وطن کی دفاع میں بے مثال قربانیاں دی تھیں؟
تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگیاں اور تنازعات ایک معمول بن گئے تھے۔ جن میں سب سے بڑا مسئلہ کشمیر تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی بار جنگیں ہویئں اور سرحدی تنازعات اب بھی جاری ہیں۔
پاکستانی فوج نے بیدیاں اور واہگہ کے علاقوں میں 1965ء میں بھارت کے ساتھ زبردست مزاحمت کی۔ اسی دوران کھیم کرن کی طرف بھارتی افواج کی پیش قدمی بھی ناکام ہو گئی۔ پاکستانی فوج نے نہ صرف دشمن کو سرحد پار دھکیلا بلکہ اس کے جوابی حملے میں بھارتی افواج کو بڑی شکست دی۔ مجھے یاد ہے کہ صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے قوم سے اپنے تاریخی خطاب میں قوم میں جوش و خروش کی لہر دوڑا دی۔ جس میں انہوں نے قوم کو دفاع کی اہمیت کا احساس دلایا اور وطن کی حفاظت کے لیے ہر فرد کو تیار ہونے کی اپیل کی
پاکستانی افواج نے اپنے عزم و حوصلے کے ساتھ دشمن کی ہر جارحیت کا جواب دیا۔ پاک فضائیہ نے بھارت پٹھان کوٹ، آدم پور اور ہلواڑہ میں اپنی قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا ۔ ان حملوں میں دشمن کے درجنوں طیارے تباہ ہوئے اور بھارتی فضائیہ کی کمر توڑ دی گئی پاکستان بحریہ نے بھی بھارت کی کراچی بندرگاہ پر پیش قدمی کو روکا ۔ بھارتی طیاروں اور ریڈار سسٹم کو تباہ کیا۔ پاکستان نے ہر محاذ پر دشمن کو شکست دی اور عالمی سطح پر اپنی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا لوہا منوایا ملکی سلامتی کے لیے متحد ہو کر دشمن کو زیرکیا، جنگ کے دوران پاکستان کو مختلف ممالک کی جانب سے مدد حاصل ہوئی۔
پاکستان نے 1965ءکی جنگ میں نہ صرف اپنے دفاع میں کامیابی حاصل کی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی پوزیشن مستحکم کی پاکستان نے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ جب قوم متحد ہو اور فوج کا جذبہ بے مثال ہو تو کسی بھی بڑے دشمن کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
6 ستمبر کے دن ہمیں شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کا موقع ملتا ہے۔ پاکستانی قوم نے اپنے ملک کی حفاظت کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، جن میں جوانوں کی شہادتیں اور عام شہریوں کی قربانیاں شامل ہیں۔
آج کا دن ہمیں ان گنت ہیروزجن میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید ، لیفٹیننٹ کرنل سید احمد سلطان، لیفٹیننٹ کمانڈر وسیم اکرم، فلائٹ لیفٹیننٹ یعقوب خان، اسکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم(ایم ایم عالم)، اسکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی،لیفٹیننٹ کمانڈر محمد احسن، پلاٹون کمانڈر محمد شیراز اور درجنوں شہدا اور غازی شامل ہیں، کوخراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔آج کا دن ملی نغمے،مضامین ،قومی نغمے لکھنے والوں کی یاد کا دن ہے ۔جنہوں نے “ایک قوم” کا سبق دیا تھا۔ ہمیں اسی عزم و حوصلے کے ساتھ پاکستان اور اسکی فوجی قوت کو ایک قوم بن کے مضبوط و مستحکم کرنا ہے۔پاکستان ہے تو ہمارا وجود بھی اہم ہے۔پرور دگار عالم پاکستان کا پرچم ہمیشہ بلند رکھے۔ (آمین)
Latest Posts
