لکھاری: رباب گل
قلم انسان کا وہ بے مثال رفیق ہے٬ جس کے ساتھ انسان جب آشنا ہوتا ہے تو گویا اسے جہالت کے اندھیروں میں اجالا نصیب ہو جاتا ہے۔ یہ وہ رفیق ہے جو نہ فقط خیالات کا امین ہے بل کہ انسان کو ہر باطل قوت کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے۔ قلم وہ ہنر ہے جو انسان کو فکر اور شعور بخشتا ہے اور اسے دنیا کے ہر ظلم و جابر کے سامنے حق گوئی کی قوت دیتا ہے۔
قلم کا تعلق صرف ہاتھ کی جنبش سے نہیں بل کہ دل کے حال، دماغ کے کمال اور روح کے جمال سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ جب انسان کے گرد ہر طرف اندھیروں کی دھند چھا جاتی ہے اور راہیں گم ہو جاتی ہیں، تب یہی قلم اُمید کی شمع بن کر اُبھرتا ہے۔ یہی وہ روشنی ہے جو مایوسی کے ظلمت کدوں میں امید کی کرن بن کر چمکتی ہے۔ انسانی زندگی میں جب ایسا وقت آتا ہے کہ جہاں سے کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا، تب قلم ہی وہ وسیلہ بنتا ہے جو راستے کا سراغ دیتا ہے۔ وہی قلم، وہی روشنائی اور وہی حروف انسان کو راہ دکھاتے ہیں اور زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔
یہ قلم ہی ہے جس کی بدولت انسان علوم و فنون کے خزانے تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ یہی قلم ہے جو زندگی کی پیچیدہ گھاٹیوں سے نکالنے میں معاون بنتا ہے مگر یہی قلم جب خشک ہو جاتا ہے، تو اس کی قدر و قیمت یکسر فراموش کر دی جاتی ہے۔ وہی قلم جس کی روشنائی نے سوچ کے افق پر اجالا بکھیر رکھا ہوتا ہے، جب بےجان ہو جائے تو اسے بے ادبانہ انداز میں کوڑے کرکٹ میں پھینک دیا جاتا ہے۔ گلیوں، کوچوں اور نالوں میں پامال کر دیا جاتا ہے۔
قلم کی بےحرمتی صرف اتنی نہیں کہ اسے زمین پر پھینک دیا جائے یا روند ڈالا جائے۔ اس کی حرمت تب بھی پامال ہوتی ہے جب اسے ناانصافی، ظلم اور ذاتی مفاد کے فیصلوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ وہی قلم جب کسی بے قصور کو مجرم ٹھہراتا ہے، جب کسی حق دار کو اس کے حق سے محروم کرتا ہے، جب کسی باطل کو برحق ثابت کرتا ہے، تو وہ محض کاغذ پر لکھی تحریر نہیں بل کہ کسی کی پوری زندگی کو تاریکی میں دھکیلنے والا ہتھیار بن جاتا ہے۔ ایک قلم کا ایک غلط فیصلہ نسلوں کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے اور ایک غلط دستخط کسی انسان کو ساری عمر قید و بند کی زنجیروں میں جکڑ سکتا ہے۔
قلم کی عظمت و حرمت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ ربِ ذوالجلال نے اپنی عظیم کتاب قرآنِ حکیم میں اس کی قسم کھائی۔ ارشادِ ربانی ہے: ”ن ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ“
ترجمہ: ”قسم ہے قلم کی، اور اس کی جو کچھ یہ (فرشتے) لکھتے ہیں۔“
کیا ہی شان والا منظر ہے کہ خالقِ کائنات قلم کی قسم کھا کر اس کی عظمت کا اعلان فرما رہا ہے۔
یہ قلم ان ابتدائی اشیاء میں سے ہے جنہیں تخلیقِ کائنات سے قبل اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا۔ یہ محض ایک مادی شے نہیں بل کہ تقدیر کے فیصلوں کا امین ہے۔ مگر افسوس! ہم نے اسی قلم کی نوک توڑ کر زمین پر پھینک دی، ہم نے اسی کو روند ڈالا جس نے ہمیں لفظوں کی پہچان دی، سوچنے کا سلیقہ بخشا اور لکھنے کا ہنر عطا کیا۔
یہی وہ المیہ ہے جو آج امتِ مسلمہ کی پستی کی بنیاد بن چکا ہے۔ ہم نے جن نعمتوں سے فخر حاصل کیا، انہی کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا۔ ہم نے حرمتِ قلم کو فراموش کیا، ہم نے اس کے مقام کو حقیر جانا اور اسی قلم سے اپنی ذلت کی داستان رقم کر ڈالی۔
Latest Posts
