آفتابِ دانش و سخن


از قلم: رباب گل
استادِ محترم پروفیسر طارق حبیب وہ نایاب جوہر، جن کی صحبت بہار کی مہک سے کم نہیں۔ ان کی زبان سے نکلنے والے الفاظ گویا گلاب کی پنکھڑیوں کی صورت بکھرتے ہیں، اور ان کی مجلس میں بیٹھنا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوہِ ندا سے معانی و مفہوم کے سوتے پھوٹ رہے ہوں۔ وہ نہایت سادہ مگر اعلیٰ ظرف انسان ہیں، جو منصب کی رفعت کے باوجود انکسار کا پیکر ہونے میں کمال رکھتے ہیں۔ نہ غرور کی گرد ان کے دامن پر نظر آتی ہے، نہ ہی بزرگی کے زعم کا بوجھ ان کی پیشانی پر پڑتا دکھائی دیتا ہے۔
ان کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو ان کی حساسیت ہے۔ تلخ گوئی اور بے رخی کی چبھن ان کے دل میں تیر کی مانند پیوست ہو جاتی ہے۔ وہ نرمی اور شائستگی کے خوگر ہیں، لہٰذا کسی کی کڑوی بات ان کے قلبِ نازک پر گہری خراش ڈال دیتی ہے۔ مگر یہی نرمی جب شعر و سخن میں ڈھلتی ہے تو دلوں میں اتر جاتی ہے۔ ان کے اشعار حسنِ تخیل، نرمیِ لہجہ اور معنوی گہرائی کا حسین امتزاج ہیں۔ مجھے ان کا ایک شعر بے حد پسند ہے:
کہیں سے اسمِ اعظم ڈھونڈ لاؤ
وہ اندر سے مقفل ہو گیا ہے
یہی نہیں، بلکہ وہ موسیقی کے رمز شناس بھی ہیں۔ ان کی طبیعت میں سوز و گداز ایسا ہے کہ میڈم نور جہاں اور مہدی حسن کے نغمے ان کی روح میں اتر جاتے ہیں۔ اور جب وہ اپنی سریلی آواز میں کوئی نغمہ چھیڑتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہارمونیم کے پردے خود جھوم اٹھے ہوں، جیسے کوئی ساز دل کی دھڑکنوں کے ہم آہنگ بجنے لگا ہو۔
ان کی تدریس کا انداز بھی اپنی مثال آپ ہے۔ ان کے لبوں سے نکلنے والا ہر جملہ گویا کسی قدیم مخطوطے کی رمز کشائی کرتا ہے، اور ہر مفہوم سامع کی روح میں یوں جذب ہو جاتا ہے جیسے شبنم صبح کے موتیوں کی طرح دل پر گرتی ہو۔ ان کی کلاس میں بیٹھنے والا تھکن کیا، وقت کا احساس تک کھو بیٹھتا ہے۔ وہ الفاظ کے جادوگر ہیں، جن کی گفتگو میں مزاح کی آمیزش ایسی نپی تلی ہوتی ہے کہ سننے والا بے ساختہ مسکرا اٹھتا ہے۔ ان کی طنز و مزاح پر لکھی گئی کتابیں آج بھی فکر و فن کے متوالوں کے لیے گوہرِ نایاب سے کم نہیں۔
ان کا علمی سرمایہ صرف ادب تک محدود نہیں، بلکہ قرآنِ کریم کی تفسیر و تعبیر میں بھی ان کا انداز بے مثل ہے۔ وہ جب قرآن کی آیات کا ترجمہ و تشریح کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دانش و حکمت کی کھڑکیاں یکایک کھلنے لگی ہوں، جیسے حقائق کی گرہیں خود بخود سلجھتی جا رہی ہوں۔ ان کے الفاظ میں نور ہے، ان کی تشریحات میں وہ روشنی ہے جو دلوں کو منور کر دیتی ہے۔
آج انکی پی ایچ ڈی کی ڈگری تکمیل تک پہنچ گئ۔اپنے اس نایاب ہیرے پیارے استاد محترم کو پروفیسر ڈاکٹر طارق حبیب بننے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔
میں مالکِ دو جہاں سے دعاگو ہوں کہ وہ اس چراغِ علم کو تا دیر روشن رکھے، انہیں صحت و عافیت والی طویل عمر عطا کرے، ان کے لبوں پر ہمیشہ تبسم سجا رہے، اور وہ بار بار اپنے رب کے گھر کی حاضری سے مشرف ہوتے رہیں۔ اللہ انہیں اپنی رحمتوں کے حصار میں رکھے، خوشیوں اور سکون سے نوازے۔ آمین ثم آمین!

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow