المیہ ۔۔۔۔۔نصیر

 احمد بھلی (سیالکوٹ)
قارئین محترم مچھلی پانی میں پیدا ہوتی ہےاسے کیا معلوم کہ یوں پانی میں رہنا ڈوب کر مرنے کا باعث ہے،جنات آگ کے بنے ہیں انھیں کیا معلوم کہ آگ جسم کو جلا دیتی ہے، کیڑے مکوڑے زیر زمین رہتے ہیں وہ بھی بے خبر ہیں کہ زیر زمین مردے دفن کئے جاتے ہیں، احباب ذی وقاراسی طرح جب ہم برائی کے ماحول میں پلتے بڑھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ اچھائی کی سفارشات کیا ہیں،
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک وقت تھا جب ٹی وی پہ کسی اشتہار میں کسی جراثیم کش صابن پر بھروسے کی بات کی جاتی تھی تو مجھے بڑا عجیب لگتا تھا کہ بھروسا تو صرف اللہ رب العالمین کی ذات با برکات پر ہوتا ہے کسی صابن پر کیوں کر بے فکر بھروسا ممکن ہے؟
لیکن آج کیوں کہ ہماری نسل نو کی پرورش ہی ٹیلیویژن کے سامنے ہوئی ہےتو ایسا کوئی بیان محض ایک فقرہ محسوس ہوتا ہے، آپ نے یقیناً محسوس کیا ہوگا کہ جب ابتداء میں ہم لوگوں نے پی ٹی وی پرڈرامے دیکھنا شروع کئے تھے تب ہمیں بہنوں اور بہو بیٹیوں کی موجودگی کی وجہ سے ڈرامے کے کئی مراحل پر ناگواری محسوس ہوتی تھی…
لیکن آج کسی صابن کے اشتہار میں جب ایک خاتون کو نہاتے ہوئے جسم پر صابن لگاتے دکھایا جاتا ہے تو ہماری بھنوؤں تک میں ہلکی سی جنبش بھی پیدا نہیں ہوتی کیونکہ مچھلی کی طرح پانی میں رہ رہ کے ہم یہ بھول چکے ہیں کہ یوں پانی میں رہنا ڈوبنے کا باعث ہے،
آج فلمی انداز کے نیم برہنہ لباس جب ہم اپنی معصوم بچیوں کو پہناتے ہیں تو درحقیقت ہم والدین خود اپنے ہاتھوں اس ناری ماحول کی طرف انہیں لے کے جا رہے ہوتے ہیں جو جسم کو جلا دیتا ہے،
یونیورسٹی میں کسی لڑکی کے ساتھ مل بیٹھنا اب والدین کو بھی شاید برا نہیں لگتا کیونکہ ہم مینڈک کی طرح گرم پانی میں خود کو ڈھالتے جا رہے ہیں،
تہذیب و تمدن جو کسی مذہب اور خطے کا لباس ہوتی ہے اسے ہم تاریخ کی کتابوں میں بند بلکہ اپنے ہاتھوں دفن کرتے جا رہے ہیں ٹیلیویژن کی سکرین سے لے کر شادی بیاہ اور منگنی کی تقاریب تک ہم جس ماحول کی طرف بڑھ رہے ہیں یہ ماحول کل تک ہمارے آباؤ اجداد کے سامنے حد درجہ قابل نفرت تھا،
میرے عزیز ہم وطنو اور میرے قارئین محترم، اپنے آپ کو دیکھیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو بچائیں کہیں ہم اسی آگ کا ایندھن تو نہیں بنتے جا رہے جو کل تک ہمیں جلاتی رہی تھی؟
احباب ذی وقار شرم و حیا جو ایک مسلمان کے لیے کئی برائیوں کے خلاف ایک محفوظ اور مضبوط ڈھال کی حیثیت رکھتی ہےواقعی کہیں ہم یہ ڈھال پھینک تو نہیں رہے؟
کہیں ہم مادہ پرستی کی ہوس میں وہ بیج تو نہیں بو رہے جس کی جڑیں کل کو ہماری عمارت ہی اکھاڑ پھینکیں گی؟ ذرا سا نہیں بلکہ بہت سوچیۓ اپنے لیے اپنی نسلوں کے لیۓ اپنے پیارے پاکستان کے لیے اللہ ظم سب کا حامی و ناصر ہو

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow