قلم کار: نورالعین

عنوان : اداسی

اداسی ایک آواز ہے۔ مگر ایسی جو صرف دل سنتا ہے۔ یہ نہ چیختی ہے نہ شور مچاتی ہے۔ بس خاموشی کے لبادے میں آہستہ آہستہ روح میں اُترتی جاتی ہے۔ جب باہر سب کچھ ٹھیک لگ رہا ہو، لیکن اندر کچھ ٹوٹ چکا ہو ۔ یہی اداسی ہے۔

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ اداسی کی کوئی بڑی وجہ ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اداسی چھوٹی چھوٹی خاموشیوں میں چھپی ہوتی ہے۔ کسی کا بات نہ کرنا، کسی کا سن کر بھی خاموش رہ جانا، کسی کا آپ کی آنکھوں میں اداسی دیکھ کر بھی نظر چُرا لین یہی لمحے انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔

اداسی وہ حالت ہے جب انسان لوگوں کے بیچ ہوتے ہوئے بھی تنہا محسوس کرتا ہے۔ جب قہقہوں کے بیچ دل کا بوجھ اور بڑھ جاتا ہے۔ جب اپنی خاموشی خود پر بوجھ لگنے لگے، تو سمجھ لیں کہ دل کو کسی نے چھو کر خاموش کر دیا ہے۔
اداسی صرف آنکھوں سے بہنے والے آنسو نہیں، یہ وہ لمحہ ہے۔ جب انسان رات بھر جاگ کر بھی کسی کو نہیں جگا سکتا۔ یہ وہ کرب ہے جو کسی سے کہہ بھی نہیں سکتے اور سہہ بھی نہیں سکتے۔ جب دل کا بوجھ لفظوں میں نہ اُتر سکے، تب اداسی پورے وجود پر قبضہ جما لیتی ہے۔

لیکن سچ تو یہ ہے کہ اداسی بھی ایک نعمت ہے۔ یہ آپ کو آپ سے ملواتی ہے۔ یہ آپ کو دنیا کی حقیقت سکھاتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ ہر چہرے کے پیچھے ایک داستان چھپی ہوتی ہے، ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک جنگ۔

اداسی سے بھاگنے کے بجائے اسے سننا سیکھیں۔ اس کی موجودگی کو محسوس کریں۔ تب آپ کو اندازہ ہوگا کہ اس خاموش مہمان نے آپ کو کتنا کچھ سکھایا ہے۔ حوصلہ، اور وہ درد جو دوسروں کو سمجھنے کے قابل بنا دیتا ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow