تحریر : ڈاکٹر شاہد ایم شاہد
وقت خدا کا خوب صورت تحفہ ہے ، ہر انسان کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ کوئی اس سے کتنا فائدہ اٹھاتا ہے اور کوئی اسے کتنا ضائع کر دیتا ہے؟ ان ساری باتوں کا انحصار انسان کی اپنی ذات پر منحصر ہے۔لیکن قدرت کے کارخانے میں وقت سب کے لیے حاضر ہے جو اس کی قدر کرتا ہے یہ اس کے لیے دوست کی حیثیت رکھتا ہے اور جو اس کی بے قدری کرتا ہے اس کے لیے یہ دشمنی کا روپ اوڑھ لیتا ہے۔وقت کی تقسیم شب و روز کے پہروں میں پوشیدہ ہے۔یہ سب خزانوں سے قیمتی ہے۔ لیکن اس کی بدولت سب خزانے حاصل ہوتے ہیں۔ جو انسان کو جسمانی اور روحانی طور پر تقویت دیتے ہیں۔ زندگی کا آغاز اور انجام اس کی بدولت فروغ پاتا ہے۔ بلکہ دنوں، مہینوں، سالوں اور صدیوں کا راز بھی اسی کی بدولت فروغ پاتا ہے۔ اس کی بنیاد میں حیرتیں ، عمارتیں اور آرائش و زیبائش کی مصوری پائی جاتی ہے۔
یہ صدیوں سے سفر پر گامزن ہے۔ نہ یہ تھکتا ، نہ یہ رکتا اور نہ یہ اکتاتا ہے بلکہ ہر انسان کے لیے ترقی کے مواقع پیدا کرتا ہے۔دعوت فکر دیتا ہے۔ قدر شناسی کا ہنر سکھاتا ہے۔ ترقی کے خواب پورے کرتا ہے۔مشاورت و رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ عقل و فہم کی ترغیب دیتا ہے۔ قدم بہ قدم اپنے ساتھ چلنے کی تلقین کرتا ہے۔ تاریکی اور روشنی کے درمیان فرق واضح کرتا ہے۔حیرت ہے یہ اپنے اندر ایسی نزاکت رکھتا ہے جہاں زمین پر بسنے والی ہر مخلوق اس کی پیروی کرتی ہے۔
آج جی چاہا تم سے کچھ ایسے باتیں کی جائیں جن کی بدولت میری زندگی میں نظم و ضبط قائم ہوا۔ میں اپنی ذات میں بے وقوف تھا لیکن تو نے مجھے فہم و فراست کی شاہراہ پر گامزن کر دیا۔ میں تیرا شکریہ ادا کرتا ہوں میں نے تیرے پہروں میں پرورش پائی۔ اچھے برے ایام دیکھے۔ دنیا میں بے شمار حادثات، واقعات، کرشمات اور معجزات تیری بدولت دیکھنے کے مواقع ملے۔ اگر تو نہ ہوتا تو شاید دنیا ایک ویران جگہ ہوتی۔ جگہ جگہ تاریکی ہوتی۔ نہ دن ہوتا نہ رات ہوتی۔ لیکن میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں تو نے خوب صورت موسم عطا کیے۔ بہتے چشمے جاری کیے جو ہر وقت بہتے رہتے ہیں۔ ان کو دیکھنے کے بعد مجھے دلی اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ وادیوں میں تیرا حسن و جمال ہے۔ پہاڑ تیرے ہاتھ کی کاری گری ہیں۔ تیری بدولت آسمان و زمین پر طرح طرح کے کرشمات ہیں ۔شب و روز کا امتیاز بخشا۔ میں انھیں دیکھ کر باغ باغ ہو جاتا ہوں۔ میرے پاس الفاظ کا ذخیرہ نھیں کہ میں تیری عظمت کا اقرار کر سکوں۔ لیکن میری زندگی کے سارے دن تیری شفقت کے منتظر رہے ہیں۔ میں نے تیرے سائے میں پناہ لینا سیکھی ہے۔ میری خاموش آنکھیں ہر وقت تجھے دیکھتی تھی کہ تو خاموشی سے گزر جاتا ہے۔ کسی سے شکوے شکایتیں نہیں کرتا۔ دھتکارتا نہیں ، للکارتا نہیں۔تیرا چرچہ عالم گیر ہے۔ تو نے ہر رنگ ، نسل اور مذہب کے لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا ہے۔ سب تیری ہمہ گیریت کا اقرار کرتے ہیں۔ہماری عقل دنگ رہ جاتی ہے۔تو نے قدرت کی تابع داری میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔
آج دنیا میں ہر جگہ تیرے چرچے ہیں۔جن لوگوں نے تجھ سے محبت رکھی۔ وہ ضرور کامیاب ہوئے ہیں بلکہ بڑھے ، پھلے اور پھولے ہیں۔ تیرے مزاج نے مجھے فطرت سے ہم آنگی بخشی۔ مجھے فطرت شناس بنا دیا۔اس لیے میں جگہ جگہ تیرے شکرانے ، نذانے اور فسانے پڑتا ہوں۔ تو نے میری لاکھ غلط فہمیوں کو دور کیا ہے ، بلکہ میری نادانیوں کے باوجود بھی سنبھالے رکھا ۔ فنا ہونے سے بچایا۔ علم جاننے کا موقع عطا کیا۔ یقینا میں نے جانا کہ تو وقتوں ، معیادوں اور نشانوں کی بنیاد رکھنے والا ہے۔ تو ماضی حال اور مستقبل کا بہترین رہبر ہے۔ ماضی نے میری رہنمائی کی ، حال نے جینا سکھایا اور مستقبل نے امید کا سبق دیا۔
Latest Posts
