درگزر کمزوری نہیں بلندی ہے

از قلم: عرفانیہ تبسّم
کبھی کبھی انسان اپنے ظرف کی اونچائی پر ہوتا ہے۔ وہ بول سکتا ہے مگر خاموش رہتا ہے۔ وہ حساب لے سکتا ہے مگر درگزر کرتا ہے۔ وہ تنقید کا جواب دے سکتا ہے مگر مسکرا کر چھوڑ دیتا ہے، صرف اس لیے کہ وہ اللہ کی رضا چاہتا ہے نہ کہ دنیا کی واہ واہ۔ لوگ اسے کمزور سمجھتے ہیں مگر وہ جانتا ہے کہ اصل طاقت نفس کو قابو میں رکھنا ہے۔ ہر ایک کو ہم اپنی سوچ کے مقام تک نہیں لا سکتے لیکن اپنی سوچ کو ان کے مطابق جھکا بھی نہیں سکتے۔ یہی زندگی کا سکون ہے، خاموشی میں حکمت، نرمی میں طاقت اور درگزر میں بلندی ہے اور یہی وہ حکمت ہے جو ہر دل میں پیدا نہیں ہوتی۔ ہر کسی کو اس کی غلطی بتانا اور وہ بھی سب کے سامنے نہ صرف اس کے دل کو توڑ دیتا ہے بلکہ اصلاح کی بجائے انا کی دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔ انسان اگر واقعی خیر خواہ ہو تو وہ تنہائی میں نرمی سے بات کرتا ہے، عزت کے دائرے میں رہتے ہوئے سمجھاتا ہے کیونکہ نصیحت اگر عزت چھین لے تو ذلت بن جاتی ہے اور اگر عزت بڑھا دے تو وہ اصلاح بن جاتی ہے۔
ہر وقت کسی کو ٹوکنا، ہر بات پر اس کی غلطی نکالنا یا سب کے سامنے شرمندہ کرنا، دراصل اپنی نیکی کی نمائش اور دوسرے کو کمتر ثابت کرنا ہوتا ہے، جو دلوں میں دوری اور رنجش پیدا کرتا ہے۔
حکمت یہی ہے کہ انسان غلطی کو سمجھے، موقع دیکھے، نرمی سے بات کرے اور اگر مصلحتاً خاموشی بہتر ہو تو وہی اختیار کرے کیونکہ بعض باتیں وقت، مقام اور انداز کی محتاج ہوتی ہیں۔
کسی کو آئینہ دکھانا ہو تو انداز نرم رکھو۔
سچ بھی اگر تیز ہو تو زخم دے جاتا ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow