مبصر :عبدالحفیظ شاہد
چند دن پہلے حفیظہ لعل دین کا ناولٹ عشق شہر کاشانی پڑھا ۔کیا ہی خوبصورت اندازِ تحریر ہے ۔بلاشبہ یہ محبت کی ان کہانیوں میں سے ہے جو قارئین کے ذہنوں پر بہت عرصہ محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔اس ناولٹ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں کوئی دکھاوا نہیں، کوئی مصنوعی چمک دمک نہیں، بس سچّے احساسات کی ایک مسلسل روانی ہے۔
حفیظہ کا اسلوب پہلی ہی نظر میں اپنی بے ساختگی سے پہچان لیا جاتا ہے۔ اُن کے جملے یوں لگتے ہیں جیسے بغیر کسی کوشش کے خود بہ خود صفحے پر اتر آۓ ہوں۔ تحریر میں ایک قدرتی روانی ہے جو ہر لکھاری کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ اُن کے الفاظ میں بناوٹ کا شائبہ تک نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ قارئین کی اُن کے لکھے کو دل سے سراہتے ہیں ۔
کہانی کے کردار بھی اتنے حقیقی لگتے ہیں جیسے وہ کہیں آس پاس ہی سانس لے رہے ہوں۔ شانی کا کردار خاص طور پر دل میں اتر جانے والا ہے۔ اُس کی محبت میں خلوص اور سچائی آسانی سے محسوس کی جا سکتی ہے ۔ وہ محبت محض دکھاوے کے لیے نہیں کرتا بلکہ اسے اپنے اندر پوری دلجمعی کے ساتھ محفوظ رکھتا ہے۔ کہانی کے ختم ہوجانے کے بعد بھی شانی کا کردار اور اس کے احساسات دیر تک ذہن میں موجود رہتے ہیں۔
ثناء کا کردار بھی نہایت خوبصورتی سے لکھا گیا ہے۔ اُس کی خاموشیاں، اس کی جھجک، اس کے دل کے جذبات کے اتار چڑھاؤ سب کچھ اس قدر زندگی کے قریب محسوس ہوتے ہیں کہ پڑھنے والا اس کے کردار میں کھوجاتا ہے ۔ حفیظہ نے دونوں کرداروں کو بہت متوازن لکھا نہ ایک لفظ زیادہ، نہ ایک کم۔
کہانی میں ہر طرف محبت پھیلی رہتی ہے جو کسی ڈرامائی منظر کے بغیر بھی دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ بانو قدسیہ کے اسلوب کی جھلک کہیں کہیں محسوس ہوتی ہے۔ وہی بات کودھیرے سے دل میں اتارنے کا انداز اور یوں محبت چپکے سے دل میں اتر جاتی ہے اور محسوس بھی نہیں ہوتی ۔
پوری کہانی میں مکالمے کم مگر پُراثر ہیں۔کئی جگہوں پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنفہ نے ایک جملہ نہیں بلکہ ایک مکمل احساس کی عکاسی کی ہے۔ اُن کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ لفظوں سے زیادہ اُن معنیٰ کو اہمیت دیتی ہیں جو لفظوں کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں۔
کہانی کا بہاؤ کہیں رکتا نہیں، نہ سست ہوتا ہے۔ ہر منظر اپنی جگہ مکمل محسوس ہوتا ہے۔ پلاٹ سادہ ہے مگر اسی سادگی میں اس کی خوبصورتی چھپی ہے۔ یہ کہانی بڑے واقعات کے بغیر بھی بڑی لگتی ہے، کیونکہ یہ انسانی جذبات کی باریکیوں سے بنی ہے۔حفیظہ لعل دین کا یہ ناولٹ اسی خوبی کا حامل ہے۔
محبت کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے مگر عشق شہر کاشانی اس لیے خاص ہے کہ یہ محبت کو لفظوں میں نہیں قید کرتا، بلکہ اسے ایک احساس کی طرح قاری کی دل و دماغ میں بکھیر دیتا ہے۔
حفیظہ نے اس ناولٹ میں ثابت کیا ہے کہ وہ محبت کو سمجھتی بھی ہیں، محسوس بھی کرتی ہیں اور لفظوں میں ڈھالنے کا ہنر بھی جانتی ہیں۔ ان کی تحریر میں ایک سچائی ہے جو آپ کو پڑھنے پر مجبور کرتی ہے، اور پڑھنے کے بعد دیر تک ساتھ رہتی ہے۔
یہ کہانی دل سے لکھی گئی ہےاسی لیے سیدھی دل تک جا پہنچتی ہے۔
حفیظہ کے قلم کی روانی کے لیے دل سے دعائیں۔ہم شدت سے ان کی کتاب کے منتظر ہیں
Latest Posts
