مصنفہ:پارس کیانی ( ساہیوال)
بارش تھم چکی تھی مگر فضا میں نمی ابھی باقی تھی۔ لندن کے مضافات میں ایک چھوٹی سی پہاڑی پر واقع عمارت کے سامنے زرد روشنی جل رہی تھی۔ دروازے کے اوپر ایک تختی پر لکھا تھا:
جنت
ان کے لیے گھر جن کو دنیا نے چھوڑ دیا ہے
جنت اُن کے لیے ایک گھر جنہیں دنیا پیچھے چھوڑ گئی
اس عمارت کا مالک مسٹر ایڈورڈ گراہم تھا۔ ستر سالہ ایک انگریز جس کی آنکھوں میں سکون بھی تھا اور تھکن بھی۔
ہر صبح وہ باغ میں نکلتا، بھیگی مٹی پر چلتے ہوئے پودوں کو پانی دیتا، کسی کے جھولے کو سیدھا کرتا، کسی کی ٹوٹی عینک کے فریم میں پیچ کس دیتا۔
یہ اس کا معمول تھا جیسے وہ زندگی کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو روز جوڑنے نکلتا ہو۔
بوڑھوں کے گھر کے باسی اسے ایڈورڈ نہیں، ” فادر ایڈ“ کہتے تھے اور وہ ان سب کے لیے واقعی ایک باپ ہی بن گیا تھا۔
کوئی اس کے پاس اپنے بیٹے کے نہ…
Latest Posts
