افسانہ نگار:- ذوالفقار ہمدم اعوان
کئی دنوں تک وہ صرف دیوار کی ایک معمولی سی خراش تھی , ایک باریک، سیاہ لکیر جو شام کے پہلو میں گہری لگتی۔ مگر گھر کے باہر سے آنے والی نم سرد ہوا جب بھی اندر داخل ہوتی، اس لکیر سے پھسل کر کسی نامعلوم کمرے میں جا گھرتی۔ لوگ اسے نظرانداز کرتے رہے، بچوں نے اس پر کھیل بنایا، بستر کی باڈی نے اکثر اس کے نیچے سے سر پھسلایا , اور پھر ایک صبح وہ خراش خاموشی سے بڑھ گئی؛ ایک صاف، روشن دراڑ، جو اینٹوں کے درمیان ساڑھ کھاتی ہوئی اندر تک پہنچ گئی۔
عائشہ نے جب پہلی بار اسے محسوس کیا تو وہ چائے کی پیالی ہاتھ میں لیے کھڑی تھی۔ سورج کی کرنیں دھوپ کے سوتے کو چھانتے ہوئے کھڑکی کے شیشے پر پڑی تھیں۔ اس نے ہاتھ سے دیوار پر انگلی پھیر کر کہا، “یہ پہلے یہاں نہی تھی۔” عمران نے دیا بجھاتے ہوئے کہا، “وقت ایسی چیزیں کر دیتا ہے۔” مگر عائشہ کو لگا کہ یہ بات کسی عام فرسودگی کی نہیں—یوں جیسے کوئی اندر سے زور سے دھکا دے رہا ہو۔
گھر، جو کبھی دونوں کے لیے ایک نیا آغاز تھا، اب ایک کتاب کی طرح کھلتا جا رہا تھا؛ ہر صفحہ ایک کہانی بیان کرتا، ہر دراڑ ایک راز کھول دیتی۔ عمران، جو ایک نجی مشینری کی مرمت کا کام کرتا تھا، اکثر دن بھر باہر ہوتا اور شام میں آ کر دراڑ کو دیکھتا — اس کے ہاتھوں میں تیل کے داغ، چہرے پر دن کی مٹی۔ اس کی خاموشی بھی اب ایک آواز بن چکی تھی، ایسا سا راگ جو کبھی کسی نغمہ پر مڑ نہیں پاتا۔
“ہمیں کسی کاریگر کو بلانا چاہیے،” عائشہ نے کہا تو عمران نے سر ہلا کر کہا، “ٹھیک ہے، مگر مجھے لگتا ہے یہ صرف اینٹوں کا مسئلہ نہیں۔” اس نے دیوار کے خلاف ہاتھ رکھ کر محسوس کیا۔ “یہ جیسے اندر سے ٹوٹ رہی ہو۔”
رات کے کچھ پہروں میں وہ آوازیں بھی آئیں ، خراشوں کی، چھت کی، کبھی کہیں سے ایک پرانا دروازہ کھسکنے کی۔ بچے جاکر سوتے، مگر عائشہ کو نیند نہ آتی۔ اس نے مینار کے پاس سے ایک آئینہ اٹھایا، جو کمرے کے کونے میں پڑا تھا۔ آئینے کی سطح میں بھی باریک سی دراڑیں تھیں، اور جب وہ اپنے چہرے کو دیکھتی تو وہی دراڑ اُس کے رخسار پر بھی گہرائی اختیار کرتی محسوس ہوتی ، جیسے کسی نے اس کے وجود میں خراش ڈالی ہو جس کے نیچے سے کچھ اور جھلک رہا ہو۔
ایک دوپہر وہ شہر کے قدیم لائبریری میں گئی۔ وہاں کی خشتی روشنی اور کتابوں کی خوشبو نے اسے کچھ عرصے کے لیے سکون دیا۔ ایک پرانی کتاب جس کا غلاف پھٹا ہوا تھا، اس نے نکالی ، کتاب کے اندر، پرانے دور کی ایک نقشہ نما تصویر تھی، جس میں ایک قدیم پل دکھائی دے رہا تھا۔ پل کے اندر بھی ایک دراڑ تھی، اور کتاب کے نیچے ایک یادداشت لگی ہوئی تھی: “جہاں دراڑیں بڑھتی ہیں، وہاں وقت گزرتا نہیں ،وہ ٹھہرتا ہے۔”
یہ جملہ اُس کے ساتھ گھر آیا۔ اس کے دن جیسے نظم میں بدل گئے؛ وہ دراڑ کو نہ صرف اینٹوں میں دیکھنے لگی بلکہ اپنے ماضی میں بھی۔ اس نے عمران کی پہلی خاموشیوں کو یاد کیا، اپنے ماں باپ کے ہال میں بٹے ہوئے راز، اپنی لڑکپن کی وہ تصویر جو کبھی کسی الماری کے پچھلے حصے میں دب کر رہ گئی تھی۔ ہر یادداشت ایک پتھر کی طرح تھی، اور دراڑ ان پتھروں کے بیچ سے ابر آلود پانی کی طرح بہہ رہی تھی۔
عمران نے ایک رات دراڑ کے قریب آ کر کہا، “تم اپنے آپ کو بہت کھنگالتی ہو۔” عائشہ نے جواب دیا، “اور تم؟ تم نے کبھی اپنے اندر چھپی کوئی دراڑ دیکھی ہے؟” اس نے سر جھکایا لیکن کچھ نہ کہا۔ خاموشی نے دونوں کے بیچ ایک پل بنایا جو بکھرنے کے قریب تھا۔
پڑوسیوں نے مشورہ دیا کہ دیوار کی مرمت کروا کر رکھ دو، مگر عائشہ کو کوئی سکون نہ ملا۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھ کر دیکھا ، نیچے سڑک پر سبز پتوں کی طرح لوگ آتے جاتے ہیں، مگر ہر ایک کے چہرے پر ایک چھلنی سی دراڑ ہے، کسی کی آنکھوں کے کونے میں، کسی کی ہنسی میں۔ وہ سمجھنے لگی کہ دراڑیں صرف اینٹوں تک محدود نہیں; وہ رشتوں، واقعات، یادوں تک پھلی ہوئی ہیں۔ ہر انسان کا اندر ایک جڑتا جہر ہوتا ہے، ایک چھپا ہوا فاسد پن، اور ہم صرف کوشش کرتے ہیں اسے چپ کر کے رکھیں۔
ایک روز بچہ , ادھر کا پیارا معصوم لڑکا، یاسر ، دراڑ کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ وہ ہاتھ میں ایک پتھر تھامے ہوئے تھا۔ عائشہ نے پوچھا، “کیا کر رہے ہو؟” یاسر نے کہا، “دراڑ میں نے ایک کیڑا دیکھا ہے۔” بچپن کی سادگی تھی، مگر اس کا مطلب گہرا تھا: دراڑ کسی زندہ چیز کو پناہ دیتی ہے۔ وہ ان الفاظ کو دل سے لگا کر اٹھا لیتی، جیسے کوئی راز کسی بچے کے ہاتھ میں محفوظ ہو گیا ہو۔
رات ایک طوفان اُٹها۔ ہوا نے گھر کے دروازے پر دیر تک باقاعدہ دستک دی، اور بارش نے کھڑکیوں کی پٹیوں پر بہنے کی کوشش کی۔ دراڑ نے اس رات کچھ عجیب کیا؛ وہ ایک صبح کی طرح کھل گئی، اور اینٹیں ایک چھوٹی سی سرنگ کی مانند اندر کو دکھا گئیں ، ایک چھوٹا راستہ جو گھنٹوں یا برسوں میں کہیں جاتا محسوس ہوتا۔ عمران نے فلیش روشن کیا، اور وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کھڑے رہے۔ دونوں کی سانسیں ایک ہوئیں، اور پھر عمران نے کہا، “چلیں؟”
وہ سرنگ نہیں تھی، بلکہ ایک یادوں کا طویل کمرہ تھا۔ اُس کے اندر، دھواں سا بکھرا ہوا تھا۔ تصاویر دیواروں پر چپکی ہوئی تھیں ، غیر واضح، پر ہر تصویر میں ایک لمحہ ٹھہرا ہوا۔ عمران نے ایک تصویر پہچانی: وہ خود، کئی سال پہلے، ایک نوجوان، کسی ریلوے اسٹیشن پر کھڑا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹکٹ تھا۔ عائشہ نے ایک تصویر دیکھی جس میں اس کی ماں ہاتھ میں سلائی کا کام لیتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔ اور پھر ایک تصویر جس میں وہ دونوں ، عائشہ اور عمران ، ہاتھ پکڑے بیٹے کا انتظار کرتے ہوئے، مگر ان کی آنکھوں میں کچھ کم تھا ، کوئی امید جو خاموش رہ گئی تھی۔
“یہ کیسے ممکن ہے؟” عائشہ نے کہا۔ مگر جواب دیوار نے دیا، یا شاید وہ دونوں خود بول رہے تھے: “دراڑ وہ جگہ ہے جہاں آپ نے خود کو ٹکڑے کر دیا، اور ہر
ٹکڑے نے ایک کمرہ بنا لیا۔
وہاں ایک لمحہ آیا جب دونوں نے اپنے پچھلے غصوں، فصلی خامیوں، اور اجنبیتوں کا سامنا کیا ، وہ تمام چیزیں جنہوں نے انہیں دور کر دیا تھا۔ عمران نے مانگ لیا کہ وہ کبھی ایک شہر سے دوسری طرف چلے گئے تھے؛ عائشہ نے کہا کہ وہ کبھی اپنی خواہشات کا نام لے کر بھی نہیں بولی تھی۔ خجالت، احساسِ کمتری، وہ سب نیم شفاف سایوں کی طرح ان کے گرد گھومتے۔ مگر سمجھوتہ بھی ہوا: دراڑ نے انہیں وہ سب دکھایا جو انہوں نے نظرانداز کیا تھا۔
وقت کی ایک گھڑی وہاں کھڑی محسوس ہوئی، مگر وہ گھڑی بھی دراڑ کی طرح ٹوٹی ہوئی تھی — سُرنگ میں وقت ٹھہرا ہوا، پھر کبھی کسی لمحے میں جھپٹتا۔ انہوں نے اپنی یادوں کے وہ خطوط پڑھے جو کبھی لکھے گئے تھے مگر کبھی مکمل نہیں ہوئے۔ ان کہی باتوں نے ان کے اندر کی دراڑوں کو روشنی دی۔
جب وہ واپس آئے تو صبح ہو چکی تھی۔ دراڑ اب بھی موجود تھی مگر اس کی آواز مدھم پڑ گئی۔ محلے کے لوگوں نے دیکھا کہ عائشہ اور عمران ایک دوسرے کے قریب ہیں؛ ان کے چہرے پر ایک نیا سکون تھا، مگر یہ سکون تشفی نہیں، بلکہ قبولیت تھی۔ دراڑ ختم نہیں ہوئی تھی , وہ ابھی بھی دیوار میں موجود تھی ، مگر اب وہ ایک کمرہ بھی تھی جس میں بعض دن وہ جا کر چپکے بیٹھتے، جیسے کوئی کتاب جس کا مطالعہ زندہ رہنے کے لیے ضروری ہو۔
کچھ دن بعد ایک کاریگر آیا جس نے دیوار کی مرمت کا وعدہ کیا۔ اس نے اینٹوں کو نکالا، نئے ریت اور چونے کی تہہ ڈالی۔ لیکن جب اس نے آخری اینٹ رکھنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو عائشہ نے رکاوٹ کی — اس نے کہا، “نہیں۔” کاریگر چونک کر رکا، “مگر یہ دراڑ خطرناک ہے۔” عائشہ مسکرائی، مگر اس کی مسکان میں کوئی تلخ نوٹ تھا: “کیا خطرناک اس لیے کہ ہمیں سچائیاں دکھاتی ہے؟ یا خطرناک اس لیے کہ ہمیں برابر کھڑا ہونے دیتی ہے؟”
کاریگر نے کام روک دیا اور گیا؛ لوگ گھوم پھر کر بولے، “وہ پاگل ہو گئی ہے۔” مگر عائشہ نے لاشعوری طور پر محسوس کیا کہ اس دراڑ میں اب ان کی زندگی کا کوئی حصہ چھپا ہے جو مرمت سے ختم نہ ہو۔ اس نے عمران کا ہاتھ پکڑا اور کہا، “یہ دراڑ ہمیں یاد دلاتی رہے گی کہ ہم ٹوٹے تھے، اور پھر وہیں سے بنے ہیں۔”
عمران نے ہاتھ مضبوط کیا۔ “ہمیں مرمت کی ضرورت ہے، مگر کبھی کبھی مرمت کا مطلب صرف ڈھانپنا نہیں ہوتا ، مرمت کا مطلب سمجھنا بھی ہے۔”
جیسے جیسے مہینے گزرتے، دراڑ دھیرے دھیرے پٹی گئی ، نہ پوری طرح بند ہوئی، مگر اتنی کہ گھر کو خطرہ نہ رہے۔ وہ دراڑ جو کبھی خوف کی علامت تھی، اب ایک نشان بن گئی؛ ایک نشانی جو ہر آنے والے کو بتاتی کہ یہاں دو انسانوں نے ایک کچی دراڑ کے ساتھ رہنا سیکھا۔ بچے اب اس کے ساتھ کھیلتے، بعض دن وہ اس کے کنارے بیٹھ کر کہانیاں سناتے، اور بعض راتیں عائشہ اور عمران واپسی کے بعد اس کنارے پر بیٹھ کر چائے پیتے اور خاموشی میں ایک دوسرے کی موجودگی کو محسوس کرتے۔
ایک دن، جب وہ بازار گئے، عائشہ نے دیکھا کہ ایک بزرگ دکان کے باہر بیٹھا ہے، اس کے ہاتھ میں ایک ٹوٹا ہوا گلاس تھا۔ وہ بزرگ گلاس کو دیکھ کر ہنسنے لگا۔ عائشہ نے پوچھا، “کیا دیکھ کر خوش ہو؟” بزرگ نے کہا، “میں نے ایک بار سب کچھ ایک ساتھ توڑ دیا تھا۔ بعد میں میں نے وہ ٹکڑے اکٹھے کیے، اور ہر ٹکڑے نے اپنی روشنی دکھائی۔” اس نے عائشہ کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا، “دراڑ ہمیں انسان بناتی ہے۔”
وہ لفظ اُس کے دل میں گھُس گیا۔ دراڑ ، وہی لفظ جو کبھی خوف، شرمندگی، اور بچھڑنے کی نمائندہ تھی ،اب ایک لباس کی طرح چپک گیا۔ انسان جب ٹوٹتا ہے تو وہی ٹوٹ کر روشن ہوتا ہے؛ وہی خراشیں، وہی غیر یقینی پہلو، زندگی کی حقیقت بن جاتے ہیں۔ ہر دراڑ کے اندر ایک چھوٹی سی کائنات ہوتی ہے یادوں کی، غموں کی، اور کبھی کبھی نیا جنم لینے والی امید کی۔
کچھ سال بعد، جب بچے بڑے ہو گئے اور گھر میں نئی آوازیں آنے لگیں، وہ دراڑ ایک تاریخ کی مانند رہ گئی , ایک ایسی تاریخ جسے لوگ چھوٹے بڑے قصوں میں سناتے۔ لوگ آتے اور پوچھتے، “کیا وہی دراڑ ابھی بھی ہے؟” عائشہ جواب دیتی، “ہاں، مگر اب وہ ہمیں ڈراتی نہیں۔” اور عمران ہمیشہ ایک خاموش مسکان کے ساتھ کہتا، “وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کبھی ہم ٹوٹے تھے، اور اسی دراڑ سے ہم نے دوبارہ ملاپ کیا۔”
اس گھر کے باہر ایک درخت اُگ آیا , ایک چھوٹا سا برگد — جس کی جڑیں دیوار کے قریب سے گزرتی تھیں، اور کبھی کبھار اس کے پتے اس دراڑ میں پھنس جاتے۔ بہاروں میں جب ہوا چلتی، وہ پتے دراڑ کے اندر گھس کر سہم سے اٹھتے۔ عائشہ اور عمران اکثر اس منظر کو دیکھتے اور مسکراتے۔ وہ جان گئے تھے کہ زندگی میں دراڑیں آئیں گی، مگر وہ دراڑیں زندہ رہنے کے طریقے بھی سکھا دیں گی۔
دراڑ نے انہیں شکست نہیں دی اس نے انہیں سیکھایا۔ اس نے ان کے اندر چھپی ہوئی چیزوں کو بیدار کیا، ان کے اندر کے ٹکڑوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا، اور یوں ایک نئی شکل دی۔ دراڑ نے سکھایا کہ ہر ٹوٹ پھوٹ کے بعد، کوئی نہ کوئی کہانی پیدا ہوتی ہے جو پہلے کبھی نہیں سنائی گئی اور شاید یہی سب سے بڑی جیت ہے۔
اور جب رات آتی، وہ دونوں اکثر کھڑکی کے پاس بیٹھتے اور دراڑ کی طرف دیکھتے۔ کبھی کبھی وہ آوازیں دوبارہ آتی , پرانی یادوں کی سرگوشیاں ,مگر اب وہ خوفناک نہیں ہوتیں۔ وہ صرف یاد دلاتی ہیں کہ ہم ٹوٹ کر بھی پھر سنبھل سکتے ہیں۔ دراڑ، جو کبھی ایک خطرناک نشان تھی، اب ایک کتاب بن گئی , ایک کتاب جس کے صفحات ہر دم پلٹتے رہتے تھے، اور ہر پلٹتے صفحے پر ایک نئی چیز لکھ دی جاتی, برداشت، معافی، اور قبولیت کی وہ چند سادی سطور جو زندگی کو چلتی رکھتی ہیں۔
آخر کار، دراڑ نے اپنا نام بنوا, وہ ایک لفظ تھا جس میں بہت سی کہانیاں سموئی ہوئی تھیں۔ اور ہر بار جب کوئی نیا مسافر اس گھر کے قریب گزرتا، وہ دراڑ کو دیکھ کر سوچتا: یہ صرف دیوار کی خراش نہیں , یہ انسانیت کی ایک چھپی ہوئی گواہی ہے.
