افسانہ نگار:- ذوالفقار ہمدم اعوان
اس دن شہر کے اعداد و شمار نہیں بدلے تھے، انسان بدلے تھے۔ کسی فائل میں ترمیم نہیں ہوئی، کسی رپورٹ میں اضافہ نہیں ہوا، مگر بھوک نے پہلی بار اعداد چھوڑ کر نام یاد کرنا شروع کر دیے۔
یونس کو اس کا احساس اس وقت ہوا جب اس کی سات سالہ بیٹی ہانیہ نیند میں بڑبڑائی:
“ابو، آج روٹی پوری ہوگی نا؟”
وہ خاموش رہا۔ جواب اس کے پاس بھی نہیں تھا۔ کھڑکی سے باہر وہی شہر تھا، وہی سڑکیں، مگر اب ان پر انسانوں کے قدم نہیں بلکہ ان کی کمی چل رہی تھی۔ اسی دن یونس دفتر نہیں گیا۔
سرکاری عمارت کی پانچویں منزل پر ڈاکٹر سارہ فاطمہ ایک فائل بند کر رہی تھی جس پر لکھا تھا:
“غذائی قلت: شماریاتی جائزہ”
اس نے قلم رکھا اور کہا۔
“یہ سب نامکمل ہے۔”
کل رات ایمرجنسی وارڈ میں ایک ماں نے اس سے کہا تھا:
“میرا بچہ دوا سے نہیں، بھوک سے مر رہا ہے۔”
یہ جملہ کسی گراف میں شامل نہیں تھا۔
شہر کے پرانے حصے میں استاد حلیم نے بلیک بورڈ پر صرف ایک لفظ لکھا:
“نام”
انہوں نے کہا:
“جب کسی دکھ کا نام نہیں ہوتا، وہ آسانی سے مٹا دیا جاتا ہے۔ مگر جب وہ نام لے لے تو تاریخ کو بدلنا پڑتا ہے۔”
اسی رات شہر میں ایک مشترکہ خواب پھیلا۔ لوگوں نے دیکھا کہ بھوک دروازوں پر دستک دے رہی ہے اور اندر آ کر کہہ رہی ہے:
“میں تمہیں جانتی ہوں۔ تمہاری گلی، تمہاری ماں، تمہاری خاموشیاں۔”
کوئی چیخا نہیں، کوئی بھاگا نہیں، کیونکہ دکھ اب اجنبی نہیں رہا تھا۔
اگلے دن یونس راشن کی قطار میں کھڑا تھا۔ اس کے آگے ایک بوڑھا آدمی تھا جس نے کہا:
“یہ قطار لمبی نہیں، یہ وقت ہے جو ہم سے بدلہ لے رہا ہے۔”
یونس نے پہلی بار جانا کہ غربت فرد نہیں، مشترکہ حالت ہے۔
ڈاکٹر سارہ نے استعفیٰ دے دیا۔ اس نے رپورٹیں چھوڑیں اور گلیوں میں آ گئی۔ وہ اب مریضوں کی عمریں نہیں، ان کی خواہشیں لکھتی تھی۔ ایک بچی نے کہا:
“مجھے روز دودھ نہیں چاہیے، بس اتنا کہ اما روئے نہیں۔”
سارہ سمجھ گئی کہ تاریخ اعداد سے نہیں، خواہشوں سے لکھی جاتی ہے۔
ایک شام یونس، سارہ اور استاد حلیم ایک چبوترے پر بیٹھے تھے۔ کوئی منصوبہ نہیں تھا، صرف سچ تھا۔
سارہ نے کہا۔
“اگر بھوک ہمیں پہچان سکتی ہے تو ہم ایک دوسرے کو کیوں نہیں؟”
یونس بولا:
“شاید یہی آغاز ہے۔”
مہینوں بعد شہر میں ایک خاموش تحریک اٹھی۔ نہ نعرہ تھا، نہ جھنڈا۔ صرف ایک اصول تھا:
“کوئی بھوکا بے نام نہیں رہے گا۔”
ہر گلی میں فہرست بنی، نمبروں کی نہیں، انسانوں کی۔
سالوں بعد تاریخ دان اس دن کو مختلف نام دیں گے، مگر اصل نام کوئی نہیں لکھ سکے گا، کیونکہ اصل نام وہ تھے جو بھوک نے پکارے تھے۔ اور جب بھوک نے ہمیں نام سے پکارا، ہم نے پہلی بار ایک دوسرے کو جواب دیا۔
Latest Posts
