بقلم : نواز علی فاروقی
سقوطِ ڈھاکہ محض ایک شہر کے ہاتھ سے نکل جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی قومی غفلت، فکری انتشار اور اخلاقی انحطاط کا نوحہ ہے جس نے تاریخ کے اوراق پر ہمارے اجتماعی شعور کو سیاہی میں ڈبو دیا۔ یہ سانحہ اس روز رونما ہوا جب اقتدار کی ہوس، تدبر کی قلت اور باہمی اعتماد کی شکست و ریخت نے وحدتِ ملی کی عمارت کو زمیں بوس کر دیا۔ ہم نے جغرافیے کو قومیت کا نعم البدل سمجھ لیا اور دلوں کی مسافت کو نظر انداز کر بیٹھے۔ زبان، تہذیب اور ثقافت کے تنوع کو رحمت سمجھنے کے بجائے اسے بغاوت کا عنوان دیا گیا، اور یوں سیاسی کوتاہ اندیشی نے قومی دانش کو مفلوج کر دیا۔ مولانا شبلی نعمانی کی فکری روایت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ قومیں محض طاقت کے زور پر نہیں، بلکہ عدل، فہم اور اخلاقی رشتوں کی مضبوطی سے قائم رہتی ہیں؛ مگر ہم نے تاریخ کے اس ابدی سبق کو فراموش کر دیا۔
سقوطِ ڈھاکہ کے پس منظر میں جو اسباب کارفرما تھے، وہ محض عسکری یا خارجی نہیں تھے، بلکہ ان کی جڑیں ہماری داخلی سیاست اور سماجی بے اعتدالی میں پیوست تھیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے اربابِ حل و عقد نے عوامی امنگوں کو سننے کے بجائے انہیں دبانے کو حکمتِ عملی سمجھا۔ مشرقی حصے کے عوام کو محض عددی اکثریت کے تناظر میں دیکھا گیا، ان کے احساسِ محرومی، معاشی استحصال اور ثقافتی شناخت کی تحقیر کو کبھی سنجیدگی سے موضوعِ بحث نہیں بنایا گیا۔ شبلیؔ کے اسلوب میں اگر کہا جائے تو یہ وہ لمحہ تھا جب سیاست نے اخلاق سے رشتہ توڑ لیا اور حکمرانی خدمت کے بجائے تسلط کا مترادف بن گئی۔ جب ریاست اپنے شہریوں کے دل جیتنے کے بجائے انہیں مطیع بنانے پر تُل جائے تو پھر جغرافیہ بھی وفاداری کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
یہ سانحہ ہمیں اس امر کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ علم و بصیرت سے عاری قیادت قوموں کو کس طرح اندھی گلی میں دھکیل دیتی ہے۔ ہم نے تاریخ کے آئینے میں جھانکنے کے بجائے وقتی مصلحتوں کو دانش مندی سمجھا اور اختلافِ رائے کو غداری کے کھاتے میں ڈال دیا۔ نتیجتاً مکالمہ، جو مسائل کا فطری حل ہوتا ہے، بند دروازوں کے پیچھے دم توڑ گیا۔ شبلی نعمانی کے فکری مزاج میں عقل و تدبر کو جو مرکزی حیثیت حاصل ہے، وہ ہمیں بتاتی ہے کہ قوموں کا عروج سوال کرنے، سننے اور اصلاح قبول کرنے میں مضمر ہوتا ہے۔ مگر یہاں سوال جرم ٹھہرا، اختلاف بغاوت بنا اور اصلاح کی ہر صدا کو طاقت کی گرج میں دبا دیا گیا۔ یوں سقوطِ ڈھاکہ صرف ایک سیاسی شکست نہیں رہا، بلکہ یہ ہماری فکری ناتوانی کا اعلان بھی بن گیا۔
آج اگر ہم اس المیے کو محض ماضی کا باب سمجھ کر بند کر دیں تو یہ تاریخ سے بدترین ناانصافی ہوگی۔ سقوطِ ڈھاکہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قومی وحدت کا انحصار عدلِ اجتماعی، تہذیبی احترام اور فکری شمولیت پر ہوتا ہے، نہ کہ نعروں اور طاقت کے مظاہروں پر۔ شبلیؔ کے فکری عکس میں یہی پیغام جھلکتا ہے کہ قومیں اپنے اخلاقی سرمایے سے زندہ رہتی ہیں؛ جب یہ سرمایہ لُٹ جائے تو فتوحات بھی شکست میں بدل جاتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس سانحے کو آئینۂ عبرت بنائیں، جہاں ہر نسل اپنے چہرے کی جھریاں دیکھ سکے۔ اگر ہم نے تاریخ کے اس زخم سے حکمت کشید کر لی تو شاید آئندہ کسی ڈھاکہ کا سقوط ہمارے نامۂ اعمال میں نہ لکھا جائے؛ ورنہ تاریخ کی عدالت میں ہمارے عذر ہمیشہ کمزور اور فیصلے ہمیشہ سخت رہیں گے۔
Latest Posts
