ازقلم: سیدہ صالبیہ حسن زیدی
آج سے چند دہائیاں قبل، سٹیج ڈرامہ اور تھیٹر محض فنونِ لطیفہ کا حصہ نہیں تھے بل کہ یہ ہماری تہذیبی اقدار کے سچے امین سمجھے جاتے تھے۔ ان کے فنکار حضرات کو معاشرے میں اتنا بلند مقام اور عزت حاصل تھی کہ وہ کسی استاد یا معلم سے کم نہ تھے۔ ڈرامے کا فنونِ لطیفہ سے ایک قدیم اور گہرا رشتہ رہا ہے، جو ہمیشہ سے انسانیت کو مثبت سوچ اور صحت مند تفریح کا پیغام دیتا آیا ہے مگر افسوس کہ آج وہ پُر وقار تعلق کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملتا۔
یہ سوال آج بھی ذہن میں کھٹکتا ہے کہ سٹیج ڈراموں میں رقص کب شامل ہوا اور وہ صاف ستھرا رقص رفتہ رفتہ بے حیائی کی دلدل میں کب اور کیوں دھنستا چلا گیا؟ اس زوال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ اس بے حیائی کو پروان چڑھانے میں کہیں نہ کہیں ہم سب بھی شامل ہیں۔ یہ وہ بے راہ روی تھی جسے بروقت روکا جا سکتا تھا مگر ناظرین کی خاموشی اور عدم توجہی نے اسے مزید فروغ دیا۔
مجھے وہ وقت بخوبی یاد ہے جب سٹیج ڈرامے میری پسندیدہ ترین تفریح ہوا کرتے تھے۔ سہیل احمد صاحب جیسے عظیم فن کاروں کی لازوال اداکاری، بالخصوص ان کے ڈرامے ”فیکا اِن امریکا“ نے، مجھے ان کا گرویدہ بنا دیا تھا۔ ان کے بعد امانت چن صاحب کی شان دار اداکاری کا تو کیا ہی کہنا! یہ وہ ڈرامے تھے جنہیں پورے خاندان کے ساتھ بلا جھجھک دیکھا جا سکتا تھا۔
لیکن افسوس! جیسے ہی کچھ نام نہاد اداکار تھیٹر کے میدان میں آئے اور بے باک جملوں، دوہرے معنی کی باتوں اور واہیات رقص کو متعارف کروایا، اس فن کا وقار مجروح ہونا شروع ہو گیا۔ جن مہذب خاندانوں کی تھیٹر میں آمد و رفت تھی، انہوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ خوشبو، نرگس، دیدار اور ان جیسی دیگر خواتین نے اسٹیج کے اس ادب کا ستیاناس کر کے رکھ دیا۔
آج بھی یاد ہے کہ ”فیکا اِن امریکا“ دیکھتے ہوئے ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا تھا۔ سہیل صاحب کی فن کاری کی یہ کشش تھی جو برسوں بعد بھی ”حسب حال“ میں ان کی اداکاری کا معیار قائم رہا۔ اسی طرح امانت چن صاحب کے لبوں سے کبھی کوئی فضول یا واہیات جملہ نہیں سنا گیا لیکن جب سے ناصر چنیوٹی، سخاوت ناز، ساجن عباس، طارق ٹیڈی اور دیگر نئے فن کاروں کی شمولیت ہوئی، تھیٹر شریف لوگوں کی پہنچ سے دور ہوتا چلا گیا۔
یہ المیہ صرف سٹیج ڈرامے تک محدود نہیں بل کہ ہماری فلمیں بھی اب محض واجبی سی رہ گئی ہیں، جن کا اخلاقی سبق اور تہذیبی اقدار سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں رہا۔ کاش کہ یہ بات سمجھ لی جائے کہ لغویات اور فحش گوئی کا ادب کی تاریخ سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ تھیٹر میں ان نام نہاد فن کاروں کو بلا کر جو ”مجرا“ کروایا جاتا ہے، اسے پسند کرنے والا طبقہ یا تو سیاسی طور پر ناخواندہ ہوتا ہے یا وہ مزدور طبقہ جو محض آخری نشستوں پر براجمان ہو کر سطحی رقص دیکھنے آتا ہے۔
مجھے اس بات کا شدید دکھ ہے کہ ادب کا دائرہ اب صرف سکولوں، کالجوں اور جامعات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور عملی دنیا میں ہر طرف فحاشی کا راج ہے۔ قارئین! یہ جان لیں کہ ادب اور فحاشی کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ یہ بد زبانی اور وہ حرکات جو رقص کی صورت میں کی جاتی ہیں، وہ صرف اور صرف پیسہ کمانے کا ذریعہ ہیں؛ عزت کمانے والے فن کار اب اس میں شامل نہیں رہے۔
اپنی بد زبانی، بد کلامی اور فحش گوئی سے ان افراد نے اپنا وقار خود خراب کیا ہے اور اب لوگ ان قابلِ عزت فنکاروں کی بھی توہین کرنے لگے ہیں جو کبھی ہمارے معاشرے کا فخر ہوا کرتے تھے۔
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی،
اب کتنی بار کوئی آنکھ کو جھکائے گا۔
Latest Posts
