از قلم: ذیشان افضل
ادارہ تعلیماتِ قرآن پاکستان کے زیرِ اہتمام 26ویں سالانہ تعلیماتِ قرآن کانفرنس و جلسۂ تقسیمِ اسناد کی تقریب بروز اتوار 21 دسمبر 2025ء کو شیخ زاید اسلامک سنٹر، پنجاب یونیورسٹی لاہور میں نہایت وقار، حسنِ نظم و ضبط اور روحانی فضا میں منعقد ہوئی۔ اس بابرکت علمی و دینی اجتماع میں جید علماء کرام، اساتذۂ کرام، معزز مہمانانِ گرامی، طلبہ و طالبات اور ان کے والدین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔تقریب کی نظامت کے فرائض محترم علامہ غلام مرتضیٰ اور علامہ حامد حسین نقشبندی صاحب نے نہایت خوش اسلوبی اور سنجیدہ انداز میں سرانجام دیے۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ قاری منیر حسین نقشبندی صاحب نے اپنی دلنشین آواز اور پُراثر قرأت سے محفل کو نورانی کیفیت سے ہمکنار کر دیا۔ بعد ازاں مزمل حسین نقشبندی صاحب نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی جس سے حاضرین پر ایک روح پرور سکون طاری ہو گیا۔استقبالی کلمات میں محمد عمر فاروق نقشبندی (ایڈووکیٹ، ناظم ادارہ تعلیماتِ قرآن) نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ادارہ تعلیماتِ قرآن کی علمی، دعوتی اور اصلاحی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہ گزشتہ کئی دہائیوں سے قرآنِ حکیم کی تعلیم و ترویج کے لیے مسلسل اور مخلصانہ جدوجہد کر رہا ہے۔اس کے بعد الحاج غلام رسول صدیقی (صدر مدرسہ، ادارہ تعلیماتِ قرآن) نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت، طلبہ کی لگن اور والدین کے بھرپور تعاون کو ادارے کی کامیابی کا بنیادی سبب قرار دیا۔کانفرنس کے دوران علامہ قاری عطا المصطفیٰ نقشبندی صاحب نے اپنے پُرمغز خطاب میں قرآنِ مجید سے مضبوط وابستگی کو عصرِ حاضر کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیا اور فرمایا کہ قرآنی تعلیمات ہی فرد اور معاشرے کی اصلاح کی حقیقی ضامن ہیں۔بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد سعدی (چیئرمین، معارفِ اسلامی ادارہ علومِ اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور) نے اپنے مدلل اور فکری خطاب میں قرآن فہمی، تحقیق اور جدید تعلیمی تقاضوں کے ساتھ دینی علوم کی ہم آہنگی پر زور دیا اور نوجوان نسل کو علم و کردار دونوں میدانوں میں مضبوط ہونے کی تلقین کی۔جلسے کے ایک اہم مرحلے پر مفتی ڈاکٹر بشیر احمد مجددی (پرنسپل، ادارہ تعلیماتِ قرآن پاکستان) نے خطاب کرتے ہوئے ادارہ تعلیماتِ قرآن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور قرآن کے پیغام کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
عصرِ حاضر کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے آن لائن اور خط و کتابت کے ذریعے منعقد کیے جانے والے دینی و تعلیمی کورسز جن میں علمِ شریعت کورس، علمُ القرآن کورس، علمُ المیراث کورس اور علمُ الحدیث کورس شامل تھے، میں پاکستان بھر بالخصوص سیالکوٹ، اسلام آباد، گجرات، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، لاہور، چکوال اور دیگر شہروں کے مدارس و تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات نے بھرپور علمی شوق اور دینی جذبے کے ساتھ داخلہ لیا تھا اور کورسز کی تکمیل پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبا و طالبات کو اول، دوم اور سوم پوزیشنز کے اعزازات سے نوازا گیا جب کہ درسِ نظامی کے مراحل کامیابی سے مکمل کرنے والوں کو ان کی محنت، استقامت اور علمی لیاقت کے اعتراف میں اسناد،سرٹیفکیٹس اور یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔ یہ لمحہ نہ صرف طلبہ کے لیے باعثِ فخر تھا بل کہ علمِ دین کے فروغ کا عملی مظہر بھی۔آخر میں علامہ بشارت صدیق ہزاروی صاحب نے اختتامی خطاب کرتے ہوئے قرآن سے مضبوط تعلق کو دنیا و آخرت کی کامیابی کی کنجی قرار دیا اور ادارۂ تعلیماتِ قرآن کی خدمات کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔پروگرام کا اختتام دعائے سلام پر ہوا جس کے ساتھ ہی یہ بابرکت، یادگار اور روح افزا محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔
Latest Posts
