ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

تحریر ایم صہیب اعوان علوی اسلام آباد۔
سیدہ،طاہرہ،عفیفہ،بنت صدیق اکبر صدیقہ،نبی کی ذوجہ،نبی کی رفقیہ،امہات المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا — علم، عصمت اور صداقت کا روشن مینار17 رمضان المبارک یومِ وصال،اسلام کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگی خود ایک درسگاہ ہے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مبارک ہستی بھی انہی میں سے ہے۔ آپ سیدہ، طاہرہ، عفیفہ، بنتِ صدیقِ اکبر اور محبوبۂ رسول ﷺ تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ مقام عطا فرمایا جس کی مثال رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔خانوادۂ صدق و ایمان،آپ رضی اللہ عنہا خلیفۂ اول ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ جس گھر میں قرآن اتر رہا ہو، جہاں ایمان و ایثار کی خوشبو بسی ہو، وہاں سے اٹھنے والی بیٹی یقیناً غیر معمولی ہوگی۔ آپ نے بچپن ہی سے سچائی، دیانت اور قربانی کا ماحول دیکھا۔قرآن کی روشنی میں مقام،ام المؤمنین کی عظمت کا سب سے بڑا ثبوت قرآنِ کریم کی وہ آیات ہیں جو واقعۂ افک کے بعد نازل ہوئیں۔سورۃ النور، آیت 11:۔ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ ۚ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُم بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُم مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ ۚ وَالَّذِي تَوَلَّىٰ كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ۔،ترجمہ:بیشک جو لوگ یہ بہتان لے کر آئے ہیں وہ تم ہی میں سے ایک گروہ ہیں۔ اسے اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر شخص کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا، اور جس نے اس میں بڑا حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔سورۃ النور، آیت 26:۔الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ۖ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ ۚ أُولَـٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ،،ترجمہ:ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے، اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔ یہ لوگ ان باتوں سے بری ہیں جو (بہتان لگانے والے) کہتے ہیں، ان کے لیے مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔
یہ آیات رہتی دنیا تک اعلان کرتی رہیں گی کہ ام المؤمنین کی عصمت پر خود ربِ کائنات نے مہرِ تصدیق ثبت فرمائی۔
علم و فقہ میں مقام،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی ذہانت عطا فرمائی تھی۔ تقریباً 2210 احادیث آپ سے مروی ہیں۔ بڑے جلیل القدر صحابہؓ دینی مسائل میں آپ سے رجوع کرتے۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ آپ کی فقاہت کے معترف تھے۔ آپ نہ صرف احادیث بیان کرتیں بلکہ ان کی تشریح بھی فرماتیں۔ آپ کا گھر علمِ نبوت کا مرکز تھا۔عبادت اور تقویٰ،آپ رضی اللہ عنہا راتوں کو طویل قیام کرتیں، کثرت سے روزے رکھتیں اور بے شمار صدقات دیتیں۔ دنیا کی آسائشوں سے بے نیاز رہیں۔ آپ کا دل آخرت کی فکر سے لبریز تھا۔سیرتِ نبوی ﷺ کی امین،
رسول اللہ ﷺ کی گھریلو زندگی، اخلاق، عبادات اور معاملات کا سب سے مستند بیان ہمیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے ملا۔ اگر آپ کی روایات نہ ہوتیں تو سیرتِ نبوی کا ایک بڑا حصہ ہم تک نہ پہنچ پاتا۔آپ نے دین کو صرف سیکھا نہیں بلکہ اسے محفوظ بھی کیا۔وصال اور دائمی یاد17 رمضان المبارک 58 ہجری کو آپ کا وصال ہوا۔ آپ کو جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کا انتقال امت کے لیے ایک عظیم علمی نقصان تھا، مگر آپ کی تعلیمات آج بھی زندہ ہیں۔موجودہ دور کے لیے پیغام،عورت کا اصل مقام علم اور کردار میں ہے۔صبر اور اللہ پر توکل ہر آزمائش میں کامیابی کی کنجی ہے۔جھوٹ اور بہتان وقتی شور تو پیدا کرتے ہیں مگر سچائی ہمیشہ غالب رہتی ہے۔دین کی خدمت علم، اخلاق اور عمل سے ہوتی ہے۔ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مبارک زندگی قیامت تک کے لیے چراغِ ہدایت ہے۔ ان کا علم، ان کی حیا، ان کی وفاداری اور ان کی سچائی ہر مسلمان عورت بلکہ ہر مسلمان مرد کے لیے مشعلِ راہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ام المؤمنین کی سیرت سے حقیقی سبق لینے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے صدقے ہمارے ایمان کو تازگی بخشے۔ آمین۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow