تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی
زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اکثر ظاہری حالات کو دیکھ کر فوراً فیصلے کر لیتا ہے، لیکن حقیقت اکثر اس سے کہیں زیادہ گہری اور پیچیدہ ہوتی ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ کسی شخص کو اس کی ایک حرکت، ایک منظر یا ایک خبر کی بنیاد پر پرکھ لیتے ہیں اور فوراً اس کے کردار اور انجام کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔ حالانکہ اصل حقیقت صرف وہی جانتا ہے جو دلوں کے رازوں سے واقف ہے اور جس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے جو انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک شخص رات کے وقت شراب خانے میں مردہ پایا گیا اور دوسرا شخص مسجد میں وفات پا گیا۔ بظاہر دیکھنے والے فوراً یہی کہیں گے کہ مسجد میں مرنے والا یقیناً خوش نصیب ہوگا اور شراب خانے میں مرنے والا بدقسمت۔ لیکن جب اس واقعے کی حقیقت سامنے آئی تو لوگوں کے اندازے اور ان کے فیصلے بالکل الٹ ثابت ہوئے۔پہلا شخص جو شراب خانے میں مردہ پایا گیا تھا دراصل وہاں گناہ کرنے نہیں گیا تھا۔ وہ ایک نیک نیت انسان تھا جو لوگوں کو برائی سے روکنے اور انہیں اللہ کی طرف بلانے کے لیے وہاں پہنچا تھا۔ اس کے دل میں یہ جذبہ تھا کہ شاید اس کی بات سے کسی کا دل بدل جائے اور کوئی گناہ کی زندگی چھوڑ کر نیکی اور اصلاح کی راہ اختیار کر لے۔وہ شخص وہاں موجود لوگوں کو نصیحت کر رہا تھا اور انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ شراب انسان کی عقل، صحت اور زندگی تینوں کو تباہ کر دیتی ہے۔ وہ ان سے کہہ رہا تھا کہ زندگی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور اسے گناہوں میں ضائع کرنا انسان کے اپنے لیے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ اسی دوران اس کی زندگی کا وقت پورا ہو گیا اور وہ وہیں دنیا سے رخصت ہو گیا۔دوسری طرف وہ شخص جو مسجد میں مرا ہوا پایا گیا، اس کے بارے میں سب نے یہی گمان کیا کہ شاید وہ عبادت کے لیے آیا ہوگا۔ مسجد میں وفات پانا بظاہر ایک بڑی سعادت سمجھی جاتی ہے اور لوگ فوراً اس کے بارے میں اچھی رائے قائم کرنے لگے۔ بعض لوگوں نے تو یہ تک کہنا شروع کر دیا کہ اس کی موت یقیناً ایک نیک انسان کی موت ہوگی۔لیکن جب اس کی حقیقت معلوم ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ شخص عبادت یا نیکی کے ارادے سے مسجد نہیں آیا تھا۔ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ نمازیوں کے جوتے چوری کرے اور اس سے کچھ پیسے حاصل کرے۔ وہ رات کے وقت اسی نیت سے مسجد میں داخل ہوا تھا تاکہ کسی کو پتا بھی نہ چلے اور وہ آسانی سے اپنا کام کر سکے۔یہ واقعہ ہمیں ایک بہت بڑی حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ انسان کا ظاہر ہمیشہ اس کے باطن کی مکمل ترجمانی نہیں کرتا۔ بسا اوقات ایک نیک عمل کے پیچھے بری نیت چھپی ہوتی ہے اور کبھی کسی مشکل یا مشتبہ جگہ پر جانے کے پیچھے بہت پاکیزہ مقصد ہوتا ہے۔ اس لیے صرف ظاہری منظر دیکھ کر فیصلہ کرنا ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔ہم انسان عام طور پر ظاہری چیزوں کو دیکھ کر فوری فیصلے کر لیتے ہیں۔ ہم کسی کو مسجد میں دیکھ کر اسے فوراً نیک اور پرہیزگار سمجھ لیتے ہیں اور کسی کو کسی بری جگہ پر دیکھ کر اسے گناہگار قرار دے دیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے اور اصل معاملہ انسان کی نیت اور مقصد پر منحصر ہوتا ہے۔اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی کے دل کا حال جاننے کا دعویٰ نہ کریں۔ دلوں کے راز صرف اللہ ہی جانتا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ کون کس نیت سے کیا کام کر رہا ہے۔ انسان چاہے کتنا ہی سمجھدار کیوں نہ ہو، وہ کسی کے دل کے اندر جھانک کر اس کی نیت کو مکمل طور پر نہیں جان سکتا۔
قرآن اور حدیث میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان کو دوسروں کے بارے میں بدگمانی سے بچنا چاہیے۔ کیونکہ بہت سی بدگمانیاں حقیقت کے خلاف ہوتی ہیں اور انسان کو گناہ میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ جب ہم کسی کے بارے میں بلاوجہ برا گمان قائم کرتے ہیں تو ہم نہ صرف اس کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں بلکہ اپنے کردار کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔انسان کے اعمال کی اصل بنیاد اس کی نیت ہوتی ہے۔ نیت اگر خالص اور صاف ہو تو چھوٹا سا عمل بھی اللہ کے ہاں بہت بڑا بن جاتا ہے۔ اسی طرح اگر نیت خراب ہو تو بڑا اور بظاہر نیک نظر آنے والا عمل بھی اپنی اصل قدر کھو دیتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں نیت کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں کسی کے انجام کے بارے میں حتمی رائے دینے سے بچنا چاہیے۔ جنت اور جہنم کا فیصلہ کرنا انسان کا کام نہیں ہے بلکہ یہ اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی رحمت کا مستحق ہے اور کون اس کے انصاف کا سامنا کرے گا۔اکثر اوقات ہم کسی کو دیکھ کر فوراً کہہ دیتے ہیں کہ یہ شخص جنتی ہوگا یا یہ جہنمی ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کا آخری انجام کیا ہوگا، یہ صرف اللہ کے علم میں ہے۔ ہم نہ کسی کے دل کا حال جانتے ہیں اور نہ اس کے آخری لمحات کی کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں۔اس دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو بظاہر بہت نیک نظر آتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں تکبر، حسد یا ریاکاری موجود ہوتی ہے۔ اسی طرح بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بظاہر عام یا گناہگار نظر آتے ہیں لیکن ان کے دل اللہ کے سامنے جھکے ہوتے ہیں اور وہ اندر ہی اندر توبہ اور ندامت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں اصل قدر دل کی کیفیت اور نیت کی سچائی کی ہوتی ہے۔ وہ انسان کے ظاہر سے زیادہ اس کے باطن کو دیکھتا ہے اور اسی بنیاد پر اس کا فیصلہ کرتا ہے۔ اسی لیے ہمیں بھی لوگوں کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے اور جلد بازی سے بچنا چاہیے۔یہ واقعہ ہمیں عاجزی اور انکساری کا سبق بھی دیتا ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ کسی کے دل کا حال نہیں جان سکتا تو اس کے اندر دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرنے کی عادت کم ہو جاتی ہے۔ وہ زیادہ محتاط اور نرم دل بن جاتا ہے۔انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی اصلاح پر زیادہ توجہ دے۔ دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے اگر ہم اپنے عیبوں کو دیکھیں اور انہیں درست کرنے کی کوشش کریں تو نہ صرف ہماری اپنی زندگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ پورا معاشرہ بھی مثبت تبدیلی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔دوسروں کے بارے میں سخت فیصلے کرنے سے اکثر دلوں میں نفرت اور دوری پیدا ہوتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے بدگمان ہو جاتے ہیں اور معاشرے میں اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔ جبکہ اسلام محبت، رحم اور برداشت کا درس دیتا ہے۔
اگر کوئی شخص غلط راستے پر بھی ہو تو اس کے لیے ہدایت کی دعا کرنی چاہیے۔ کیونکہ اللہ جسے چاہے ہدایت دے سکتا ہے اور جسے چاہے گمراہی سے نکال کر سیدھی راہ پر لا سکتا ہے۔ کسی کو ہمیشہ کے لیے برا سمجھ لینا بھی ایک بڑی غلطی ہو سکتی ہے۔تاریخ میں بے شمار ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں بڑے گناہگار سمجھے جانے والے لوگ بعد میں نیکی اور تقویٰ کی مثال بن گئے۔ اسی طرح بعض لوگ ابتدا میں نیک نظر آتے تھے لیکن بعد میں گمراہ ہو گئے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کا انجام ہمیشہ غیر یقینی ہوتا ہے۔اسی لیے عقل اور ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ انسان کسی کے بارے میں آخری فیصلہ نہ دے۔ ہمارا کام صرف نصیحت کرنا، اچھا نمونہ پیش کرنا اور لوگوں کے لیے خیر کی دعا کرنا ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے دل اور انجام کا فیصلہ ہمارے اختیار میں نہیں۔جنت اور جہنم کے فیصلے اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ کون کس نیت سے جیا، کس نیت سے اس نے عمل کیے اور کس حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔ اسی لیے ہمیں ہمیشہ عاجزی کے ساتھ یہ ماننا چاہیے کہ اصل فیصلہ کرنے والا صرف وہی ہے جو ہر چیز کا مکمل علم رکھتا ہے۔
Latest Posts
