تحریر: آمنہ منظور
ہمارا شہر؛ جو صبح سے رات روشنی سے نہایا اور خوشی میں ڈوبا رہتا تھا، چند ہی دنوں میں کھنڈر بن گیا۔ شہر میں اب صرف دو عمارتیں ہی باقی تھیں ایک مشرق کی سمت میں اور ایک مغرب میں۔ روز رات کو میزائل ہمارے سروں کے اوپر سے گزرتے اور آس پاس کے شہروں کو نشانہ بناتے۔
ایک ماہ قبل میں شہر کے مغربی حصے میں رہتی تھی اس کو نشانہ بنایا گیا تو میرے گھر والے کھو گئے میں نے بہت ڈھونڈا مگر مجھے نہیں ملے۔ کچھ اجنبی لوگوں نے مجھے تنہا پایا تو اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔ ایک خاتون نے کہا کہ اس کی بیٹی اس سے جدا ہو گئی ہے تو میں اب اس کی بیٹی ہوں۔سب کہنے لگے کہ یہاں خطرہ زیادہ ہے ہمیں مشرقی حصے کی طرف جانا چاہیے۔ میں ان کے ساتھ چلی گئی اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ مشرقی حصہ بھی زیادہ دیر تک محفوظ نہ رہا۔ دو دن کے بعد یہاں بھی حملے شروع ہو گئے۔جو خاتون مجھے اپنی بیٹی بنا کر لائی تھیں وہ بھی اس حملے میں کہیں کھو گئیں۔میں بھی زخمی ہوگئی تھی۔میرا پاؤں بری طرح زخمی تھا میں چل بھی نہیں پا رہی تھی۔پہلے جب مجھے ذرا سی چوٹ لگتی تھی تو ہمارے گھر میں کہرام مچ جاتا تھا۔ میں بھی بہت روتی تھی، سب بہت فکر مند ہوتے اور میرا خیال رکھتے تھے۔ اب مجھے اتنی گہری چوٹ لگی لیکن کوئی بھی نہیں تھا جو میرے لیے فکر مند ہوتا اور نہ کوئی دوا تھی۔میرے زخم سے خون بہتا رہا اور پھر خود ہی جمنے لگا۔ میں جس عمارت میں رہائش پزیر تھی اس کے ہال میں پانچ خاندان اور میری طرح کے چند لاوارث بچے رہ رہے تھے۔ میں چار دن سے بھوکی تھی۔ رات کے وقت آسمان پہ طیاروں اور میزائلوں کی گھن گرج تھی۔ میں نے کھڑکی کے پار دیکھا تو آسمان پہ میزائلوں کے شعلوں کی قوسِ قزح بن رہی تھی۔سب سہمے ہوئے تھے۔ اچانک زور دار دھماکہ ہوا اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔وہ شیشہ جس کے پار میں دیکھ رہی تھی وہ بھی ٹوٹ کر بکھرا اور اس کے ٹکڑے نیچے فرش پہ لیٹی ایک میری ہی ہم عمر اور لاوارث بچی کے بدن میں پیوست ہو گئے۔ وہ تڑپی اور پھر ساکت ہوگئی۔ وہ چیخ نہ سکی کیوں کہ ہم سب اتنے بھوکے تھے کہ ہماری آوازیں غائب ہو چکی تھیں۔ چیخنے چلانے کی بھی طاقت نہیں تھی۔ سب کہنے لگے کہ ہمارے قریب ہی میزائل داغا گیا ہے یہاں خطرہ ہے ہمیں ابھی نکلنا ہوگا۔ اس بچی کو وہیں پہ چھوڑ کر سب باہر کے طرف بھاگنے لگے۔ میں بالکل نڈھال ہو چکی تھی، چلنا بھی دشوار تھا۔ سب کو دیکھتے ہوئے میں بھی پاؤں گھسیٹتی ہوئی عمارت سے باہر نکلی ابھی چند قدم ہی چلی تھی کہ میں وہیں منہ کے بل گر گئی۔ میں اوندھی گری ہوئی ہی سر اٹھا کر لمبی سڑک پہ ننگے پاؤں بھاگتے لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔سب زندگی بچانے کی تگ و دو کر رہے تھے جب کہ زندگی کا کوئی سامان نہیں تھا۔ موت سے بدتر زندگی تھی۔ میں نے دور تک انھیں بھاگتے دیکھا پھر آسمان نے ایک اور آگ برسائی اور ان سب کے وجود فضا میں بکھرنے لگے۔ زندگی کی چاہ میں بھاگنے والے موت کی آغوش میں جا چکے تھے۔ میں نے ہمت جمع کی اٹھی اور دیوار کا سہارا لے کر بیٹھ گئی۔میں نے زمین پہ انگلی چلائی اور ایک لفظ لکھا، ”کیوں؟“
میری زندگی اس کیوں کے ارد گرد گھومتی ہے۔ میں تو بہت خوش تھی میرے ماں،باپ اور چھوٹا بھائی سب اپنے کام سے کام رکھنے والے لوگ تھے، امن اور محبت کی باتیں کرنے والے لوگ۔۔۔ان سے کس کی دشمنی ہو سکتی ہے؟ مجھ سے کس کی دشمنی ہے؟ میں کیوں بھاگ رہی ہوں اور کب تک بھاگوں گی؟ میں کس سے بچ رہی ہوں؟ میں تو ابھی صرف پنجم جماعت کی طالبہ ہوں میں نے تو یہی سیکھا کہ سب کا خیال رکھنا چاہیے، احترام کرنا چاہیے۔ میں نے تو کسی کو نقصان نہیں پہنچایا میں نے تو کرسٹینا کی بلی کو زخمی دیکھ کر اس کی بھی پٹی کی تھی۔ اسکول میں بھی سب میرے دوست تھے پھر میں اپنی جان کس سے بچا رہی ہوں؟
بہت جلد آسمان سے پھر آگ برسے گی پھر میں اور میرا ”کیوں“ فضا میں تحلیل ہو جائیں گے۔
Latest Posts
