ایم فل اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی سفارشات

حمید علی
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) ایک اہم ادارہ ہے۔ یہ ادارہ یونیورسٹیوں کے نظام کو منظم کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ڈگریوں کا معیار اچھا ہو۔ ایم فل اور 18 سالہ تعلیم کے بارے میں ایچ ای سی نے کچھ سخت قواعد بنائے ہیں۔ بعض لوگ ان قواعد کو زیادہ سخت سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ سختی ہمارے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔ایم فل کو 18 سالہ تعلیم کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ طالب علم پہلے چار سالہ بی ایس کرے، پھر ایم فل میں داخلہ لے۔ ایم فل میں داخلے کے لیے اچھے نمبرز یا سی جی پی اے کی شرط ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ داخلہ ٹیسٹ اور انٹرویو بھی لیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ صرف وہی طلبہ آگے آئیں جو سنجیدہ ہوں اور پڑھائی میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ایم فل میں صرف کلاسیں نہیں ہوتیں بلکہ تحقیق بھی کرنی پڑتی ہے۔ طالب علم کو ایک مقالہ (تھیسس) لکھنا ہوتا ہے۔ اس مقالے میں وہ کسی موضوع پر گہرائی سے تحقیق کرتا ہے۔ ایچ ای سی نے یہ شرط رکھی ہے کہ تھیسس کی جانچ بیرونی ماہر کرے، تاکہ تحقیق کا معیار برقرار رہے۔ یہ قدم اس لیے اہم ہے تاکہ کسی قسم کی جانبداری نہ ہو اور کام منصفانہ طور پر چیک ہو۔کچھ طلبہ کو شکایت ہوتی ہے کہ قواعد سخت ہیں اور تھیسس لکھنا مشکل کام ہے۔ لیکن اگر معیار کم کر دیا جائے تو ڈگری کی اہمیت بھی کم ہو جائے گی۔ اعلیٰ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری لینا نہیں بلکہ علم حاصل کرنا اور تحقیق سیکھنا ہے۔ اگر ہم آسانی کے لیے معیار گرا دیں گے تو ہماری ڈگری کی قدر کم ہو جائے گی، خاص طور پر بیرون ملک۔ایچ ای سی نے سرقہ (نقل) کے خلاف بھی سخت قانون بنایا ہے۔ تھیسس جمع کروانے سے پہلے اسے سافٹ ویئر سے چیک کیا جاتا ہے تاکہ کسی اور کا کام کاپی نہ کیا گیا ہو۔ یہ قانون اس لیے ضروری ہے تاکہ ایمانداری کو فروغ دیا جا سکے۔ اگر نقل کی اجازت ہو تو تعلیم کا مقصد ختم ہو جاتا ہے اور ہمارے اداروں کی ساکھ خراب ہوتی ہے۔اساتذہ کے لیے بھی کچھ شرائط رکھی گئی ہیں۔ ایم فل کے طلبہ کی نگرانی وہی استاد کر سکتا ہے جو خود اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو اور تحقیق کا تجربہ رکھتا ہو۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ طالب علم کو بہتر رہنمائی ملتی ہے۔ اگر استاد خود تحقیق سے ناواقف ہو تو وہ طالب علم کی درست مدد نہیں کر سکتا۔18 سالہ تعلیم کا نظام دنیا کے کئی ممالک میں رائج ہے۔ جب پاکستان میں بھی یہی نظام اپنایا گیا تو اس کا مقصد یہ تھا کہ ہماری ڈگریاں عالمی معیار کے مطابق ہوں۔ اس سے پاکستانی طلبہ کو بیرون ملک پی ایچ ڈی میں داخلہ لینے میں آسانی ہوتی ہے۔ اگر ہمارا نظام کمزور ہو تو بیرونی جامعات ہماری ڈگری کو اہمیت نہیں دیں گی۔ایچ ای سی کی سختی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یونیورسٹیوں میں تحقیق کا رجحان بڑھا ہے۔ طلبہ اور اساتذہ مل کر تحقیقی کام کرتے ہیں۔ اس سے نئے خیالات سامنے آتے ہیں اور ملک کو فائدہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم اپنے مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں، چاہے وہ تعلیم کے ہوں، معیشت کے یا سائنسی میدان کے۔یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ سختی کا مطلب ظلم یا رکاوٹ ڈالنا نہیں ہے۔ اصل مقصد معیار کو بہتر بنانا ہے۔ جب طلبہ محنت کرتے ہیں اور تحقیق کے اصول سیکھتے ہیں تو وہ مستقبل میں کامیاب بنتے ہیں۔ ایک مضبوط تعلیمی نظام ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایچ ای سی کے ایم فل اور 18 سالہ تعلیم کے قواعد بظاہر سخت ضرور ہیں، لیکن یہ ہمارے فائدے کے لیے ہیں۔ اگر ہم اعلیٰ تعلیم کا معیار بہتر رکھنا چاہتے ہیں تو کچھ اصولوں پر سختی ضروری ہے۔ یہی سختی ہماری ڈگریوں کو عزت دیتی ہے اور پاکستان کو علمی دنیا میں مضبوط مقام دلانے میں مدد دیتی ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow