ازقلم: ڈاکٹر شاہد ایم شاہد
دنیا میں ہر انسان کی اپنی اپنی پسند اور ناپسند ہے۔البتہ میرا پسندیدہ مشغلہ کتاب دوستی ہے۔میں اس سے بے پناہ محبت رکھتا ہوں۔ مجھے جب بھی فرصت کے لمحات میسر آتے ہیں۔ میں اپنی دل چسپی کے مطابق کتاب کا انتخاب کرتا ہوں۔ اسے بڑی محبت اور عقیدت سے پڑھتا ہوں۔کتاب کا مطالعہ میرے دل و دماغ کی زمین زرخیز بناتا ہے۔ جیسے جیسے میں اوراق پلٹتا جاتا ہوں۔ میں وسیع النظری اور وسیع القلبی کا ہنر سیکھتا جاتا ہوں۔ کتاب مجھے ایک ایسے ماحول میں لے جاتی ہے۔جہاں زندگی کی رونق ، علم کی پیاس اور الفاظ کی بہتات شامل ہے۔میں ایک ایک لفظ کو چنتا جاتا ہوں۔وہ میری رگ رگ میں سما جاتا ہے۔مجھے طاقت اور شعور بخشتا ہے ۔ تاریکی سے آزاد کرتا ہے۔میرے چہرے سے فکروں کی گرد جڑھ جاتی ہے۔اپنے جسم و روح میں ایک نئی طاقت محسوس کرتا ہوں جو مجھے پرواز پر مجبور کرتی ہے۔ مجھے کئی ممالک کی تہذیب و تمدن سمجھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ثقافتوں کی پہچان مل جاتی ہے۔ نئے نئے علوم سے واقفیت حاصل ہو جاتی ہے۔ مطالعہ کے باعث میں ان ممالک کی سیر کر لیتا ہوں جہاں وسائل میری دسترس سے باہر ہیں۔ یہ مطالعہ کا فیض ہے کہ میری روح ان جگہوں کے بھی سیر کر لیتی ہے۔جہاں میں جسمانی طور پر حاضر نہیں ہو سکتا۔یہ سب کچھ خاموشی کے عالم میں پروان چڑھتا ہے۔لیکن اس حقیقت کے پیچھے میرے تجسس کی ایک داستان ہے جو علم و ادب کے سفر میں رہنمائی کرتی ہے۔کتابیں علوم کی بہترین ترجمان ہیں۔ ان کتابوں کا ایک بڑا خزانہ لائبریریوں میں جمع ہے۔مگر افسوس ہے اس خزانے کو دیمک لگا ہوا ہے۔ کوئی وہاں جانے کی زحمت نہیں کرتا۔ شاید دنیا میں مصروفیت اس قدر بڑھ چکی ہے جہاں لائبریریوں تک رسائی ناممکن ہو گئی ہے۔وقت کی تیز رفتاری کے باعث کتاب دوستی کا ماحول خطرے میں پڑ گیا ہے۔ سستی اور کاہلی نے انسانوں کو ایک ایسے ماحول میں پھینک دیا ہے۔جہاں وہ ہوٹلوں کے مزے دار کھانے کھا کر خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں۔ یہ زندگی کا عجیب وہم و غم ہے جو اندر ہی اندر مطالعہ کے نمکیات چاٹ جاتا ہے۔اگرچہ علم کے دروازے تو ہر سمت سے کھلے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سمت سے کون داخل ہوتا ہے۔ اگر ہمارے گھروں میں چھوٹی چھوٹی لائبریریاں ہیں۔ تو یہ متلاشیان علم کی سنجیدہ روایت کا خوب صورت گلدستہ ہے۔ جس کی خوشبو کے باعث قلب و دماغ معطر ہوتا ہے۔ دلوں کی زمین زرخیز ہوتی ہے۔ پرواز میں تیزی آتی ہے۔
مطالعہ کی بھوک اور پیاس زندگی کے مقصد کو بامعنی بنا دیتی ہے۔ اگر ہم تنہائی کا شکار ہیں ، دنیا سے اکتا چکے ہیں، بیزار ہو چکے ہیں ،طرح طرح کے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو چکے ہیں،تو ہمارے پاس زندگی کو استحکام بخشنے کے لیے ابھی بھی امید باقی ہے۔ کتاب اٹھائیے۔اسے اپنا دوست بنا لیجئے۔ جو خاموشی کے عالم میں بہترین دوست ہے اور ہجوم کے عالم میں بھی۔سفر میں بھی رہنما ہے اور گھر کے کمرے میں بھی۔اس کے برعکس الجھنیں، تنہائیاں ، پریشانیاں اور غم ہماری اپنی اختراع ہیں۔روح کو اداسی کے ماحول سے نکالنے کے لیے کتاب دوستی انسان کو دور اندیش بنا دیتی ہے۔ایسے زاویے اور سمت عطا کر دیتی ہے جہاں انسان رسائی سے قاصر ہے۔
چلو آج اپنے اپنے اذہان و قلوب کو زرخیز بنانے کے لیے کتاب دوستی کا عہد و پماں کرتے ہیں۔ تاکہ اس عمل کو دنیا میں عام کر کے مقصد کا ایک نیا دروازہ کھولیں تاکہ اندر باہر آنے کے مواقع میسر آ سکیں۔آپ اس موقع سے یکساں فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔تو پھر دیر کس بات کی۔آج ہی تھوڑا سا وقت نکال کر کتاب پڑھنا شروع کر دیں۔زندگی خود بخود گواہ بن کر تہذیب و تمدن کا گہوارہ بن جائے گی۔
