طاق راتوں کی فضیلت

از قلم: شبنم رانا ہڈالی
رمضان المبارک کا مہینہ اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ جب اپنے آخری عشرے میں داخل ہوتا ہے، تو مومنین کے قلوب میں ایک عجیب سی تڑپ اور ولولہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ عشرہ ”نجات“ کا ہے اور اس نجات کا سب سے قیمتی اثاثہ وہ ”طاق راتیں“ ہیں جنہیں ربِ ذوالجلال نے پوری انسانیت کے لیے رشد و ہدایت اور مغفرت کا ذریعہ بنایا۔ ان راتوں کی فضیلت محض اس لیے نہیں کہ یہ رمضان کا حصہ ہیں بلکہ اس لیے ہے کہ ان میں ایک ایسی رات چھپی ہے جسے کائنات کی سب سے عظیم کتاب، قرآنِ مجید نے ”لیلتہ القدر“ کا نام دیا اور اسے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا۔
حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: ”لیلتہ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (21، 23، 25، 27 اور 29) میں تلاش کرو۔“ حکمتِ الٰہی نے اس عظیم رات کو کسی ایک مخصوص تاریخ میں مقید نہیں کیا بلکہ اسے پانچ راتوں میں پوشیدہ رکھا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بندہ صرف ایک رات کی رسمی عبادت پر اکتفا نہ کرے بلکہ اپنے رب کی محبت میں پانچوں راتیں بیدار رہ کر گزارے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی جوہر شناس کسی قیمتی ہیرے کی تلاش میں پوری کان کی خاک چھانتا ہے۔ ان راتوں کی تلاش دراصل بندے کے اپنے خالق سے عشق کا امتحان ہے۔
قرآنِ مجید کی سورۃ القدر میں اس رات کی عظمت کے بارے میں فرمایا گیا: ”لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے.“ ایک ایسی رات جس میں جبرائیلِ امین فرشتوں کے لشکر کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں اور کائنات کے ذرے ذرے پر سلامتی کا نزول ہوتا ہے۔ یہ محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ یہ ایک موقع ہے اپنی تقدیر بدلنے کا۔ ہزار مہینے (تقریباً 83 سال) کا اجر ایک رات میں سمیٹ لینا اللّٰہ کی طرف سے اس امت کے لیے وہ شارٹ کٹ ہے جو پچھلی امتوں کے پاس نہیں تھا۔
ہمارا آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب رب کی رحمتیں اپنے عروج پر ہوتی ہیں، تب ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ جیسے ہی 21 ویں شب کا آغاز ہوتا ہے، ہمارے بازار آباد اور مصلے ویران ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم نئے کپڑوں، جوتوں اور عید کی تیاریوں میں اتنے مگن ہوتے ہیں کہ یہ بھول جاتے ہیں کہ شاید یہ ہماری زندگی کا آخری موقع ہو۔ کیا عید کی مصنوعی خوشیاں اس حقیقی سکون کا نعم البدل ہو سکتی ہیں جو طاق راتوں کے پچھلے پہر رب کے سامنے گرنے والے ایک آنسو میں پوشیدہ ہے؟
طاق راتوں کی فضیلت صرف تسبیح گھمانے میں نہیں بلکہ اپنے اندر کے انسان کو بیدار کرنے میں ہے۔ اپنے دل سے کینہ اور بغض نکالیں کیونکہ بغض رکھنے والے کی دعا ان راتوں میں بھی قبول نہیں ہوتی۔سچی توبہ کریں۔ وہ ندامت جو انسان کو اللّٰہ کے سامنے جھکا دے اسے ولی بنا دیتی ہے۔ کثرت سے مسنون دعا پڑھیں: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي۔
​طاق راتیں ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ وقت ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل رہا ہے۔ یہ پانچ راتیں سال کے باقی 360 دنوں پر بھاری ہیں۔ اگر ہم نے ان راتوں میں بھی اپنے رب کو نہ منایا، تو ہم سے بڑا محروم کوئی نہ ہوگا۔
آئیے، ان قیمتی لمحات کو سوشل میڈیا، فضول گفتگو اور بازاروں کی نذر کرنے کے بجائے بندگی کی نذر کریں تاکہ جب عید کا چاند نظر آئے تو ہمارے پاس صرف نئے کپڑے ہی نہ ہوں، بلکہ ایک پاکیزہ روح اور بخشا ہوا وجود بھی ہو۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow