
آبنائے ہرمز جو بیشتر دنیا کی معیشت میں ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے یہود نصاریٰ کی ایران پر جارحیت کے سبب اس وقت بندش کا شکار ہے اور اس بندش کے اثرات پوری دنیا محسوس کر رہی ہے۔ ٹرمپ نے اس اہم بحری گزرگاہ کو کھلوانے کے لیے دنیا بھر سے بحری جہازوں کی مدد مانگی ہے تاکہ تیل کی ترسیل کو محفوظ بنایا جا سکے مگر حیرت انگیز طور پر ابھی تک کسی بھی بڑے ملک نے اس درخواست پر حامی نہیں بھری۔ فرانس، جاپان، برطانیہ، اسپین اور آسٹریلیا جیسے قریبی اتحادیوں کا انکار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اب دنیا امریکہ کی یکطرفہ جنگوں کا ایندھن بننے کے لیے تیار نہیں۔برطانیہ اپنے اندرونی سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کی وجہ سے نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔آسٹریلیا بحر ہند میں اپنی سرحدوں کی حفاظت کو ترجیح دے رہا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے جھگڑے سے دور رہنا چاہتا ہے۔
سپین یورپی یونین کی متفقہ پالیسی کے بغیر کسی بھی فوجی مہم جوئی کا حصہ بننے سے انکاری ہے۔
بین الاقوامی میڈیا اس وقت اس بحران کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق یورپی ممالک اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے بحری جہاز بھیجے تو وہ ایران کے ساتھ ایک ایسی جنگ میں براہِ راست فریق بن جائیں گے جس کا کوئی واضح انجام نظر نہیں آتا۔ دوسری جانب الجزیرہ اور عرب میڈیا کا موقف ہے کہ امریکہ اپنی ہزیمت کا بدلہ لینے کے لیے عرب ممالک پر ڈرون حملے کر رہا ہے اور ان کا ملبہ ایران پر ڈال کر خطے میں اپنے اسلحے کی فروخت بڑھانا چاہتا ہے۔ ایران نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی عرب ملک کے خلاف جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتا اور یہ تمام کارروائیاں امریکہ کی اپنی پیدا کردہ ہیں۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کے کل تیل کا تقریباً 20 سے 25 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ چین، بھارت اور جاپان جیسے ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے اسی گزرگاہ کے محتاج ہیں۔ اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک سو پچاس ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے جو پوری دنیا میں ایک ایسا معاشی سونامی لائے گی جس پر قابو پانا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔
روس اور چین اس بحران کو خطے میں امریکی اثر و رسوخ کم کرنے کے موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ روسی میڈیا کے مطابق ماسکو نے ایشیائی ممالک کو رعایتی نرخوں پر تیل کی فراہمی اور متبادل زمینی راستوں کے استعمال کی پیشکش کی ہے تاکہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم کیا جا سکے۔ چین اپنے ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو’ کے تحت ایسی راہداریاں مستحکم کر رہا ہے جو خلیج میں کسی بھی ناگہانی صورتحال کی صورت میں اس کی معیشت کو سہارا دے سکیں۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔پاکستان کے پاس اس وقت متبادل کیا ہے؟ پیٹرول کی قیمتیں پہلے ہی تین سو بیس روپے سے تجاوز کر چکی ہیں اور عالمی منڈی میں قیمتوں کا یہ اتار چڑھاؤ ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا کر رہا ہے۔ حکومت اس وقت روس کے ساتھ طویل مدتی سستے تیل کے معاہدوں پر کام کر رہی ہے اور ساتھ ہی شمسی و بادی توانائی کے منصوبوں کو تیز کرنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی مقامی کوئلے کی پیداوار اور گرین انرجی کے منصوبوں کو بروقت مکمل کر لے تو وہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اس اتار چڑھاؤ سے خود کو کافی حد تک محفوظ کر سکتا ہے۔
اگر اتحادی ممالک نے امریکہ کی مدد نہ کی اور ٹرمپ انتظامیہ نے طاقت کا استعمال جاری رکھا تو سمندری انارکی پھیلنے کا خدشہ ہے جس سے نہ صرف تیل کی سپلائی متاثر ہوگی بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کا درآمدی بل ان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو نگل جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی برادری ہوش کے ناخن لیتی ہے یا یہ ضد پوری دنیا کو ایک عظیم معاشی بحران کی نذر کر دیتی ہے۔
Latest Posts
