از قلم: عرفانیہ تبسّم
کبھی کبھی میں یہ سوچتی ہوں کہ اگر ختمِ نبوت کا عقیدہ نہ ہوتا تو آج امتِ مسلمہ کس حال میں ہوتی؟ کیا ہمارا دین اسی مضبوطی، یقین اور وحدت کے ساتھ قائم رہ پاتا یا مختلف دعوؤں، خود ساختہ نظریات اور جھوٹے مدعیانِ نبوت کے درمیان بکھر کر رہ جاتا؟
کیا قرآنِ کریم کا یہ اعلان “الیوم أکملت لکم دینکم” اپنی معنویت کے ساتھ باقی رہ سکتا؟ در حقیقت عقیدہ ختمِ نبوت وہ عظیم نعمت ہے جس نے دینِ اسلام کو قیامت تک کے لیے مکمل اور محفوظ بنا دیا ہے۔
ختمِ نبوت محض ایک نظریہ یا عقیدہ نہیں بلکہ اسلام کی اساس اور ایمان کا پہلا پہرہ ہے۔ یہ وہ مضبوط قفل ہے جس نے دین کو ہر قسم کی تحریف، آمیزش اور جھوٹے دعوؤں سے محفوظ رکھا اگر یہ قفل نہ ہوتا تو ہر دور میں کوئی نہ کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کر کے دین کی اصل روح کو مسخ کرنے کی کوشش کرتا اور یوں اسلام اپنی خالص صورت کھو بیٹھتا۔
تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ جب بھی کسی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، امت نے اس کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جھوٹے مدعیانِ نبوت کے خلاف سب سے پہلے صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے تلوار اٹھائی۔ یہ محض ایک سیاسی یا وقتی معاملہ نہیں تھا بلکہ ایمان کا سوال تھا، عقیدے کی حفاظت کا تقاضا تھا۔ اسی لیے انہوں نے اپنے آرام، اپنی جانوں اور اپنی خواہشات کو قربان کر کے اس عقیدے کی حفاظت کی۔
صدیوں سے امتِ مسلمہ نے ہر دور میں اپنے خون سے اس عقیدے کی آبیاری کی ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو قربانیوں کے تیل سے روشن رکھا گیا ہے اور یہی چراغ آج بھی ہمارے ایمان کو روشنی عطا کرتا ہے۔
آج کے دور میں اگرچہ فتنوں کی شکلیں بدل چکی ہیں مگر ان کی حقیقت وہی ہے۔ جدید زمانے میں ایمان پر حملہ تلوار سے نہیں بلکہ فکر، نظریے اور الفاظ کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ اب جھوٹے مدعیان نبوت شاید پہلے کی طرح کھل کر سامنے نہیں آتے لیکن ان کے نظریات کو فروغ دینے والے لوگ رواداری، آزادیٔ اظہار اور روشن خیالی کے خوبصورت نعروں کے پردے میں ہمارے عقائد کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایسے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ختمِ نبوت کی اس مضبوط ڈھال کے بغیر چھوڑ دیں گے؟ کیا ہم انہیں ایسے ماحول میں پروان چڑھنے دیں گے جہاں حق اور باطل کی تمیز دھندلا جائے؟
ہرگز نہیں! یہ صرف علما یا مدارس کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اس عقیدے کی حفاظت کریں بلکہ یہ ہر اس مسلمان کی ذمہ داری ہے جو کلمۂ طیبہ پڑھتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی اس عقیدے کو سمجھیں، اس پر کامل یقین رکھیں اور اپنی نسلوں کو بھی اس کی اہمیت سے آگاہ کریں۔
ختمِ نبوت ہماری پہچان ہے، ہمارا ایمان ہے اور ہماری روح کا چراغ ہے۔ یہ وہ سرحد ہے جس کے بغیر دین کی حفاظت ممکن نہیں۔ جب تک یہ پہرہ قائم ہے، اسلام اپنی اصل صورت میں باقی رہے گا۔
یاد رکھیے، “لا نبی بعدی” صرف چند الفاظ نہیں بلکہ ایک ایسا ابدی اعلان ہے جس نے نبوت کے دروازے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا اور ہمیں قیامت تک کے لیے قرآن و سنت کا مکمل اور محفوظ نظام عطا کیا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس عقیدے کو صرف زبان تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے دلوں میں زندہ کریں، اپنے اعمال میں ظاہر کریں اور اپنی گفتگو میں اس کی سچائی کو اجاگر کریں۔ یہی ہمارے ایمان کی مضبوطی اور امت کی بقا کا ضامن ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ختمِ نبوت کے عقیدے کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، ہمیں اس کی حفاظت کرنے والوں میں شامل کرے اور ہمیں اسی ایمان پر ثابت قدم رکھتے ہوئے دنیا سے رخصت فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
