توہمات پرستی

ماہ نور کنول
انسان جب کسی چیز کو سمجھ نہیں پاتا تو وہ اسے مان لیتا ہے، اور جب مان لیتا ہے تو آہستہ آہستہ وہ یقین بن جاتی ہے۔ اسی یقین کی ایک شکل توہم ہے۔ توہم دراصل ایک ایسا خیال ہوتا ہے جس کی کوئی مضبوط دلیل نہیں ہوتی، مگر انسان اسے سچ سمجھنے لگتا ہے۔ اور جب یہی ایک خیال بڑھ کر کئی شکلیں اختیار کر لے تو وہ توہمات بن جاتے ہیں ،یعنی بے بنیاد عقائد کا ایک پورا سلسلہ، جو انسان کی سوچ اور فیصلوں کو اپنے قابو میں لے لیتا ہے۔
یہ توہمات کبھی چھوٹی چھوٹی باتوں سے شروع ہوتے ہیں۔ کوئی کالی بلی راستہ کاٹ جائے تو قدم رک جاتے ہیں، کوئی چھینک دے تو ارادے بدل جاتے ہیں، کوئی دن منحوس قرار دے دیا جاتا ہے، اور کوئی لمحہ بدقسمتی کی علامت بن جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ سب کہاں سے آیا، سوال یہ ہے کہ ہم نے اسے سچ کیوں مان لیا؟
؎ وہم کی دیوار خود ہی کھڑی کی ہم نے
پھر اسی سائے سے ڈرتے بھی رہے عمر بھر
حقیقت یہ ہے کہ توہمات کا تعلق تقدیر سے کم اور انسان کے اندر موجود خوف سے زیادہ ہوتا ہے۔ جب انسان کو اپنے حالات پر قابو نہیں ملتا، جب وہ غیر یقینی کا شکار ہوتا ہے، تو وہ کسی نہ کسی چیز کو سبب بنا لیتا ہے—چاہے وہ حقیقت نہ بھی ہو۔ یوں وہ اپنے خوف کو ایک شکل دے دیتا ہے، تاکہ اسے سمجھ سکے، مگر دراصل وہ خود کو ایک نئے اندھیرے میں دھکیل دیتا ہے۔
توہمات انسان کو وقتی سہارا دیتے ہیں، مگر اس کی سوچ کو محدود کر دیتے ہیں۔ وہ اسے سوال کرنے سے روکتے ہیں، سچ تلاش کرنے سے دور رکھتے ہیں۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان اپنی عقل کے بجائے وہم کے مطابق فیصلے کرنے لگتا ہے۔
؎ یقین کمزور ہو تو وہم مضبوط ہو جاتے ہیں
اور انسان سچ کے ہوتے ہوئے بھی بھٹک جاتا ہے
یہ مسئلہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورے معاشرے میں پھیل جاتا ہے۔ ایک شخص کا ڈر دوسرے تک منتقل ہوتا ہے، اور یوں ایک پوری نسل ان بے بنیاد باتوں کو حقیقت سمجھ کر جینے لگتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ترقی رک جاتی ہے، سوچ محدود ہو جاتی ہے، اور انسان اپنے ہی بنائے ہوئے خوف کا قیدی بن جاتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ اس سب سے بچا کیسے جائے؟ توہمات کو چھوڑا کیسے جائے؟ سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ انسان سوال کرنا سیکھے۔ ہر اس بات کو سچ نہ مانے جو بغیر دلیل کے اسے سکھا دی گئی ہو۔ جب آپ سوال کرتے ہیں تو سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق واضح ہونے لگتا ہے۔
دوسرا قدم علم ہے۔ علم وہ روشنی ہے جو ہر وہم کو ختم کر دیتی ہے۔ جتنا انسان سیکھتا ہے، سمجھتا ہے، اتنا ہی وہ بے بنیاد باتوں سے دور ہوتا جاتا ہے۔ جہالت توہمات کو جنم دیتی ہے، اور علم انہیں ختم کر دیتا ہے۔
تیسرا اور سب سے اہم قدم مضبوط یقین ہے۔ جب انسان کا یقین سچ پر، حقیقت پر اور اپنے رب پر مضبوط ہو جائے، تو وہ کسی بے بنیاد چیز سے نہیں ڈرتا۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی واقعہ کسی بلی، کسی دن یا کسی اشارے سے نہیں بلکہ ایک مکمل نظام کے تحت ہوتا ہے۔
؎ سچ کا یقین ہو دل میں تو ڈر باقی نہیں رہتا
وہم کے سائے پھر قریب نہیں آتے۔
خود پر اعتماد۔ جب انسان اپنے فیصلوں پر یقین کرنا سیکھ لیتا ہے، تو وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے متاثر نہیں ہوتا۔ وہ ہر واقعے کو عقل اور سمجھ کے ساتھ دیکھتا ہے، نہ کہ ڈر کے ساتھ۔
توہمات کو چھوڑنا ایک دن کا کام نہیں، یہ ایک عمل ہے—آہستہ آہستہ سوچ کو بدلنے کا، خود کو آزاد کرنے کا۔ آخر میں بات بہت سادہ ہے… توہمات ہمیں بچاتے نہیں، وہ ہمیں روکتے ہیں۔ وہ ہمیں حقیقت سے دور اور خوف کے قریب لے جاتے ہیں۔
؎ قید وہ نہیں جو دیواروں میں ہو
قید وہ ہے جو وہم کی صورت دل میں بس جائے

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow