کیمیکل ملا دودھ کا پھیلتا جال ۔ ذمہ دار کون اور کب تک ؟

پاکپتن شریف، جو اپنی روحانی نسبتوں اور پاکیزگی کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے، وہاں سے حالیہ دنوں میں ایک ایسی لرزہ خیز خبر سامنے آئی جس نے نہ صرف انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا بلکہ پنجاب کے پورے انتظامی اور نگرانی کے ڈھانچے کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایک خفیہ چھاپے کے دوران ایک ایسے دودھ یونٹ کا انکشاف ہوا جہاں گائے یا بھینس کا نام و نشان تک نہ تھا، بلکہ وہاں خطرناک کیمیکلز، ڈٹرجنٹ پاؤڈر ، یوریا اور مضرِ صحت تیل کے ذریعے مصنوعی دودھ تیار کیا جا رہا تھا۔ یہ “سفید زہر” روزانہ ہزاروں لیٹر کی مقدار میں مارکیٹ میں سپلائی ہو رہا تھا، جسے معصوم بچے، بوڑھے اور بیمار غذا سمجھ کر استعمال کر رہے تھے۔ مگر اس واقعے کا سب سے خوفناک پہلو یہ نہیں کہ یہ جرم پکڑا گیا، بلکہ اصل تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ موت کا کاروبار آخر کب سے جاری تھا اور کس کی چھتری تلے پھل پھول رہا تھا؟
ذرائع اور ابتدائی تحقیقات سے جو معلومات سامنے آ رہی ہیں، وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہیں۔ یہ غیر قانونی دھندہ صرف پاکپتن کے ایک مخصوص یونٹ تک محدود نہیں ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کے مختلف اضلاع اور دیہی علاقوں میں اس نوعیت کے درجنوں یونٹس خاموشی سے موت بانٹ رہے ہیں۔ یہ ایک باقاعدہ منظم مافیا ہے جس نے انسانی زندگیوں کی قیمت پر منافع کمانے کا فن سیکھ لیا ہے۔ جب ایک چھوٹے سے شہر کے مضافات میں روزانہ ہزاروں لیٹر کیمیکل ملا دودھ تیار ہو کر بڑے شہروں کی منڈیوں تک پہنچ سکتا ہے، تو پورے صوبے کی سطح پر اس گھناؤنے کاروبار کے حجم کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ یہ محض ایک اتفاقیہ جرم نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا معاشی اور انسانی قتلِ عام ہے۔
یہاں یہ سوال اٹھانا ناگزیر ہے کہ یہ کاروبار کتنے عرصے سے جاری تھا؟ اطلاعات کے مطابق یہ یونٹ کئی سالوں سے بلا روک ٹوک کام کر رہا تھا۔ اب ذرا تصور کیجیے کہ ان سالوں کے دوران کتنا زہر عوام کی رگوں میں اتارا جا چکا ہوگا؟ اس طویل عرصے میں متعلقہ ادارے، خصوصاً پنجاب فوڈ اتھارٹی، محکمہ صحت اور مقامی انتظامیہ کہاں سو رہے تھے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک اتنی بڑی مشینری، جہاں روزانہ ٹینکرز کی آمد و رفت ہو اور بڑے پیمانے پر کیمیکلز منگوائے جا رہے ہوں، وہ حکومتی اہلکاروں کی نظروں سے اوجھل رہے؟ اگر ان کی نظر اس پر نہیں پڑی تو یہ ان کی مجرمانہ غفلت اور نااہلی ہے، اور اگر وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش تھے، تو یہ اس سے بھی بڑا جرم یعنی “ملی بھگت” ہے۔
اس واقعے کا ایک اور پہلو اس مافیا کی بے خوفی اور دیدہ دلیری ہے۔ کارروائی کے دوران جب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے چھاپہ مارا تو انہیں شدید مزاحمت اور ہاتھا پائی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ عناصر کتنے بااثر ہیں اور انہیں کس قدر طاقتور پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ مزاحمت دراصل قانون کو چیلنج کرنے کے مترادف تھی۔ یہاں ایک تلخ حقیقت جنم لیتی ہے کہ اگر یہ معاملہ میڈیا کی نظر میں نہ آتا یا عوام میں اس کا شور نہ مچتا، تو کیا یہ آپریشن اپنے منطقی انجام تک پہنچ پاتا؟ بہت زیادہ امکان یہی ہے کہ ماضی کی طرح چند روز کی بندش کے بعد یہ دھندہ دوبارہ اسی آب و تاب سے شروع کر دیا جاتا۔
یہ پوری صورتحال ہمارے ادارہ جاتی نظام کی قلعی کھولتی ہے۔ اگر باقاعدہ معائنے کا کوئی شفاف نظام موجود ہوتا، تو یہ یونٹ برسوں تک کیسے بچا رہ سکتا تھا؟ کیا معائنے صرف کاغذی کارروائی اور “سب اچھا ہے” کی رپورٹ تک محدود ہیں؟ اگر کسی ادارے کا اہلکار کسی دکان یا فیکٹری کا دورہ کرتا ہے اور اسے وہاں موت کا سامان نظر نہیں آتا، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ نظام کا حصہ نہیں بلکہ اس مافیا کا آلہ کار بن چکا ہے۔ اس اجتماعی ناکامی کی ذمہ داری صرف ان ملزمان تک محدود نہیں کی جا سکتی جو موقع پر پکڑے گئے، بلکہ اس میں وہ تمام مہرے شامل ہیں جنہوں نے اس نظام کو مفلوج کیے رکھا۔
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اس سوال کا دو ٹوک جواب تلاش کریں: اس سب کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ کیا صرف وہ مزدور جو بھٹیوں پر کیمیکل ابال رہے تھے؟ ہرگز نہیں۔ اصل ذمہ دار وہ سرمایہ کار ہیں جو ان یونٹس کو فنڈ کرتے ہیں، وہ سپلائرز ہیں جو صنعتی کیمیکلز کو انسانی خوراک میں شامل کرنے کے لیے فراہم کرتے ہیں، اور وہ افسران ہیں جنہوں نے اپنی جیبیں بھرنے کے لیے عوام کی صحت کا سودا کیا۔ جب تک احتساب کا کوڑا صرف چھوٹے ملازمین پر برستا رہے گا اور “بڑے مگرمچھ” صاف بچ نکلیں گے، تب تک ایسے واقعات بار بار ہماری اخلاقیات کا جنازہ نکالتے رہیں گے۔ اگر فوڈ اتھارٹی کے اہلکاروں کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو ان کے خلاف مقدمات درج ہونے چاہئیں اور انہیں عبرت کا نشان بنانا چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی افسر اپنی کرسی کا غلط استعمال نہ کر سکے۔
طبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو کیمیکل ملا دودھ محض ملاوٹ نہیں بلکہ “سلو پوائزننگ” ہے۔ یہ زہر انسانی گردوں کو ناکارہ بناتا ہے، جگر کو جلا دیتا ہے اور معدے کے کینسر جیسے لاعلاج امراض کا سبب بنتا ہے۔ ہمارے ملک میں پہلے ہی صحت کی سہولیات کا فقدان ہے، اور اوپر سے اس طرح کے انسانی دشمن کاروبار ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں ہولناک اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ خاص طور پر وہ مائیں جو اپنے شیر خوار بچوں کو دودھ پلاتی ہیں، انہیں کیا معلوم کہ وہ ان کی نشوونما نہیں کر رہیں بلکہ انہیں معذوری اور موت کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ یہ ایک انسانی المیہ ہے جسے نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔
عوامی ردعمل اس وقت عروج پر ہے، اور لوگ بجا طور پر پوچھ رہے ہیں کہ “آخر کب تک؟” کیا ہر بار کسی بڑے حادثے یا انکشاف کے بعد ہی انتظامیہ کی آنکھ کھلے گی؟ کیا ہم صرف ایک واقعے پر مٹی ڈالنے کے ماہر ہو چکے ہیں؟ عوامی غصہ اس بات کی علامت ہے کہ اب لوگ نظام سے مایوس ہو رہے ہیں۔ اگر اب بھی اصلاح نہ کی گئی تو یہ بے اعتمادی ریاست کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ صرف ایک چھاپے کی کہانی نہیں بلکہ پورے سماج کے لیے ایک آئینہ ہے۔ یہ آئینہ ہمیں دکھا رہا ہے کہ ہوسِ زر نے ہمیں کس قدر اندھا کر دیا ہے کہ ہم اپنے ہی بھائیوں، بہنوں اور بچوں کے حلق میں زہر اتارتے ہوئے ذرا نہیں ہچکچاتے۔ حکومت کو چاہیے کہ محض وقتی کارروائیوں کے بجائے ایک ایسا خودکار اور شفاف نظام مانیٹرنگ قائم کرے جہاں سفارش اور رشوت کی گنجائش نہ ہو۔ کیمیکلز کی سپلائی چین کو ٹریس کیا جائے اور خوراک کی حفاظت سے متعلق قوانین کو مزید سخت کیا جائے۔
پاکپتن کا یہ واقعہ ایک وارننگ ہے—اگر ہم نے اب بھی اپنے ترجیحات درست نہ کیں اور مجرموں کو کیفرِ کردار تک نہ پہنچایا، تو یاد رکھیے کہ یہ سفید زہر کل کسی اور کے نہیں بلکہ ہمارے اپنے گھر کی دہلیز تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے لیے اس معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے، اور یہ پیغام صرف باتوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے واضح ہونا چاہیے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow