تحریر۔۔۔خاکسار احمد منیب ( یو- کے)
الفاظ کے سنگلاخ در وبست، معانی کے جنگلات، فصاحت و بلاغت کے باغات اور انحراف و اعتقاد کے بہتے ہوئے آب شار ۔۔۔ ! گویا ہر ایک ذائقہ ” پس حجاب میں موجود ہے۔
اقدار و ر سوم، روایت و تلخابہ حیات ، روزمرہ پیش آنے والے واقعات کو بھی ایسی جدت کے ساتھ بیان کرنا کہ ان کے اندر ایک اور جہان معانی پیدا ہو جائیں ہنی انصاری ان تجربات میں دوبارہ کامیاب رہی ہیں۔ یہ دوسرا مجموعہ ہے جو احباب کے ہاتھوں میں ہے۔ پہلے مجموعہ نے مقبولیت حاصل کی اور مقبولیت ہی اہمیت کا پتہ دیتی ہے۔ ایک یونیورسٹی میں اس پر مقالہ لکھا گیا جو اس کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سوچنے والا ذہن ایک ہی ہے اور لکھنے والا قلم بھی وہی ہے لیکن مختلف النوع مضامین، جدت طرازی، ندرت بیانی، ہر ایک بات کو نئے زاویہ سے لینا اور بیان کرنا وغیرہ یہ وہ خوبیاں ہیں جو عصر حاضر کے دیگر افسانچہ و افسانہ نگاروں سے محترمہ ہنی انصاری صاحبہ کو ممتاز کرتی ہیں اس پر مستزاد یہ کہ انتہائی مختصر اور کم الفاظ کا استعمال کر کے ہر ایک چیز کو با معنی کر دینا اور انتہائی مختصر تحریر میں بھی مطلب براری پوری طرح آشکار کر دینا وہ انفرادیت ہے جو پس حجاب میں نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
کچھ افسانچے اور افسانے پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ جیسے حقیقت کے کچھ خواب ہیں جو ہنی نے دیکھے اور پس حجاب سے خیالات کی آبشار اور الفاظ کی کہکشاں اُمڈتی چلی آرہی ہے جس میں ایک اور خواب کو مجسم کرنے کی لاشعوری کوشش شعور کے منشور سے گزر رہی ہے۔ ہر افسانچے اور افسانے کو پڑھ کر لگتا ہے کہ لکھنے والے نے لکھنا شروع کیا اور جب بات مکمل ہو گئی تو اسپ قلم خود بخود رک گیا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ کوئی افسانچہ انتہائی مختصر ہے اور کوئی افسانچہ لمبا ہے جسے چھوٹا افسانہ بھی کہا جا سکتا ہے اور کوئی درمیانے سائز کا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی خواب ہے جو پس حجاب حقیقت میں تحریر کو ڈھالتا یا حقیقت کو خواب دکھاتا اور قیمتی موتیوں کو ایک کہکشاں کی صورت تیز رفتار پہاڑی ندی کی طرح بہا کر قارئین کے سامنے لے آتا ہے، اسی لیے اس مجموعے کا نام رکھا گیا ہے : پس حجاب!! زمانہ کے بے ثباتی، لوگوں کی خود غرضی، افلاس اور مجبور مخلوق کی نمائندگی، تکبر اور انانیت جیسے اخلاق سیئہ کا بیان اور اس کے بالمقابل اخلاق حسنہ کی نمو کاری اور ہر موضوع پر مختصر تحریر سجانے کا ملکہ ، پس حجاب کی مصنفہ میں اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ مذہبی اقدار ہوں یا قومی اور معاشی و معاشرتی پہلو گویا کوئی بھی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا گیا اور ہر ایک مسئلہ کی نمائندگی میں کوئی نہ کوئی تحریر موجود ہے اور تو اور بین السطور مافی بطن مصنفہ بھی جا بہ جا نظر آتا ہے۔
دو ایک تحریرات پڑھتے ہوئے احساس ہوا کہ جیسے یہ کسی بہترین ڈرامے کا پلاٹ ہے۔ میرے خیال میں اس مرکزی خیال پر اگر کوئی ڈرامہ بنایا جائے تو بہت مقبول ہوں گے۔ نثر میں نغمگی کا عنصر بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ان شاءاللہ! مجھے یقین ہے کہ یہ مجموعہ مقبولیت کے اعتبار سے پہلے مجموعہ سے بھی بڑھ جائے گا اور نمایاں کامیابیاں اور ترقیات حاصل کرے گا۔ آمین
Latest Posts
