عنوان ایک کہانی مشرف جانی کی

تحریر۔۔۔عظمی وفا سید
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات اس لیے کہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو پہچان کر ایک دوسرے کے دکھ درد کو بانٹ سکے ۔
آپس میں پیار و محبت سے رہ کر ایک دوسروں کے درد کو محسوس کر سکے۔ بقول خواجہ میر درد کے کہ
،”درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کےلیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں”
نفسا نفسی کے اس دور میں جہاں ہر کوئی ایک دوسرے بھاگ رہا ہے، ایک دوسرے کےلیے ہمدردی ،خلوص اور محبت ختم ہوچکی ہے، وہاں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جسے اس کے احساس نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ جو دوسرے درد کو اپنا درد سمجھتا ہو، غریبوں کے مدد کرنے کا جذبہ ان دل میں کوٹ کوٹ بھری ہوتی ہے۔اج جس شخصت کے بارے میں لکھ رہی ہوں میں اگر اسے” سر” کہہ دوں تو وہ کہتے ہیں کہ ” میڈم میں ایک غریب آدمی ہوں “سر” لفظ کے میں قابل نہیں ” جس کے دل میں غریبوں کے لیے ایک جذبہ موجود ہے۔ چھوٹے بچوں لڑکوں اور خاص کر کم سن لڑکیوں کو مفت تعلیم کپڑے ، بیگ، کتابیں اور بہت سی دوسرے ضروریات مہیا کیا ہے۔ کئی سالوں سے بچیوں کو مفت تعلیم دلوا رہے ہیں اور آج تک اُن کا یہ جذبہ قائم و دائم ہے۔(وائس آف کمنوٹئی) کے نام اپنا ایک ادراہ قائم کیا۔جس کو کئی برس ہوچکے ہیں۔ ان کا یہ جذبہ ان کو اس طرح کیوں محسوس ہوا؟ . ہر انسان کی زندگی کچھ ایسا واقعہ ضرور ہوتا ہے کہ ان کی زندگی بدل کر رکھ دیتی ہے ان میں سے ایک مشرف جانی صاحب ہے آئیں آگے کی کہانی ان کے زبانی سنتے ہیں۔
“میرا نام مشرف جانی ہے۔ میرا تعلق خیبر پختونخوا ضلع چار سدہ ہے۔ میرا تعلیم ماسٹر ہے۔اج سے تقریباً 13،14 سال پہلے ایک واقعے نے میری زندگی بدل کے رکھ دی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب میں ایک طالب علم تھا۔ہمارے گاؤں کے لوگ چونکہ زیادہ تر غریب لوگ ہیں۔اپنے بچوں کے خاص کر بچیوں کے تعلیم پر توجہ نہیں دیتے۔ ایک بہت پیاری اور قابل بچی تھی۔وہ چھٹی جماعت میں پڑھتی تھی۔ غربت کی وجہ سے والدین اپنی بچی کو مزید تعلیم نہیں دلوا سکتے تھے ہوا یوں کہ اس نے اپنی کم سن بچی جس کی عمر 13 برس کی تھی ان کی شادی کر دی۔ وہ بہت روئی چلائی کہ میں نے پڑھنا ہے ابھی شادی نہیں کرنی ہے۔ان کی شادی ہوگئی اور 14 سال کی عمر میں ڈلیوری کے دوران ہی یہ کم سن بچی اس جہاں فانی سے رخصت ہوگئی۔اس وقت ڈاکٹر صاحبہ نے ایک بات کہی تھی کہ” اپنی بچیوں کو تو کم از کم دس جماعتیں تو پاس کر دیا کریں” اس واقعے نے میری زندگی کے سامنے ایک مقصد رکھا۔ زمینداری کے ساتھ ساتھ پڑھائی بھی کرتا رہا۔ اس وقت بھی ہاتھ میں کچھ آتا تو ان پیسوں سے بچیوں کے لیے کتابیں اور کاپیاں خرید لیتا پھر مجھے سرکاری نوکری مل گئی ساتھ میں( وائس اپ کمیونٹی) کے نام سے ضلع چار سدہ میں ایک ادراہ قائم کیا حکومت سے رجسٹر ہے۔جو مقصد میرے دل میں تھا اس پر میں نے کام شروع کیا جس میں میرے قریبی دوستوں نے میرا حوصلہ بڑھایا اور میرا ساتھ دیا۔(الحمدللہ) آج کئی سال ہوگئے ہیں۔ ہزاروں کے تعداد میں بچیوں کو مفت تعلیم دلوایا ہے بلکہ ان کے باقی ضروریات کو بھی پورا کیا ہے۔میری زندگی جب تک ہے تب تک میرا یہی مقصد جاری رہ گا ان شاءاللہ میرا کہنا ہے کہ دوسروں کے دکھ درد کو ویسے ہی محسوس کریں جیسے خود کے درد کو محسوس کرتے ہو۔ یہی احساس ہمیں اشراف مخلوقات بناتی ہیں۔ اپنی بچیوں کے کم سنی میں شادی کرنے سے روک جائے بلکہ ان کو وہ حق دیں جو آپ اپنے بیٹوں کو دیتے ہیں۔ایک بچی اگر تعلیم یافتہ اور صحت مند ہوگی ان کا پورا خاندان تعلیم یافتہ ہوگی۔ میرا آپ لوگوں سے بس یہی کہنا ہے کہ بچیوں کو بھی پورا تعلیم دیں ” کیونکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے ۔

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow