مضمون : زندگی اصل سرمایہ

تحریر۔۔۔تنزیلہ رحمٰن ( جام پور)
امام رازی فرماتے ہیں کہ میں نے وقت اور زندگی کی اہمیت ایک برف والے سے سیکھی ۔ جو برف بیچتے ہوئے صدا لگا رہا تھا۔
“اے لوگو! رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ پگھل رہا ہے۔ رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ ( برف) پگھل رہا ہے۔”
وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا قبل اس سے کہ اس کی برف پگھل جائے۔
اسی طرح مدت عمر جو ہر انسان کو دی گئی ہے وہ بھی برف کی مانند پگھل رہی ہے۔ اگر اس کو غلط کاموں میں صرف کیا یا ضائع کر دیا تو یہ خسارہ ہی خسارہ ہے۔
جیسے سورہ العصر میں واضح فرمایا گیا ہے۔
ترجمہ: “قسم ہے زمانے کی کہ انسان خسارے میں ہے ۔”
ہم اگر رویت قلبی سے اگر غور کریں تو حقیقت عیاں ہوگی کہ ہم سب کی زندگی یوں ہی برف کی طرح پگھلتی جارہی ہے۔
کیوں نہ زندگی کی ایک ایک سانس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمان برداری میں صرف کیا جائے۔
اس میں ہمارے لیے بھی سبق ہے کہ وقت کے بے جا اور غلط استعمال سے احتراز کیا جائے اور اس رب کی فرمان برداری میں گزارا جائے جس نے اس نعمت سے ہمیں سرفراز فرمایا۔
بروز قیامت یہی وقت انسان کو لوٹایا جائے گا تو ہر وہ لمحہ حسرت کا باعث ہوگا جو ذکر الہٰی اور نیک اعمال سے خالی گزرا۔
حدیث مبارکہ میں آتا ہے ( مفہوم): ” قبریں اپنے مکینوں کے لیے اندھیروں سے بھری پڑی ہیں۔”
جو شخص نور ایمانی رکھتا ہوگا نماز ، فرائض اور نیک اعمال کرے گا اتناہی اس کی قبر روشن ہوگی۔ ایمان والوں کے دلوں سے روشنی نکلے گی۔انسان کی زندگی میں جو اندھیرے ہیں گناہ کے ہیں اور مشرک کی زندگی میں کفر وشرک اور عناد کے اندھیرے ہیں۔ ہر گناہ ایک اندھیرا ہے ، ظلم ہے اور ظلم قیامت کے روز اندھیروں کی صورت میں ہوگا۔ ہم خود دنیاوی چکا چوند اس کی خواہشات ، لذات کے پیچھے چل پڑے ہیں حالانکہ اس ( دنیا) کے بنانے والے نے خود اسے دھوکہ قرار دیا ہے۔ ہمیں ان تمام مادی اور ہر وہ چیز جو ہمیں اپنے رب سے ، قوت ایمانی سے اور مقصد حیات سے دور لے جائے اس کے چنگل سے اپنے آپ کو نکالنا ہے۔ زندگی اصل سرمایہ ہے جو ہمیں ملا ہے اس کے ایک ایک لمحہ کو ناپ تول کے استعمال کرنا ہے۔ زندگی کی کشکول کو نیک اعمال کے بھرنے سے آخرت میں فائدہ ہوگا۔ جو وقت گزر رہا ہے یہی عمر ہے۔ سب سے اہم چیز ہے بچاؤ کا طریقہ۔
وہ بھی اللہ تعالیٰ نے بتایا۔
کہ اللہ تعالیٰ کےساتھ تجارت کریں۔
دوکام کریں
ایمان کی پختگی اور اعمال صالحہ۔
اپنے ایمان کو پختہ کریں اور ساتھ عمل صالحہ کی کوشش کریں۔ وقت کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ گزاریں۔ کل کو حسرت اور پچھتاوے سے بچ جائیں گے۔
ایمان اور اعمال صالحہ ہی انسان کی کامیابی کی کلید ہیں۔
خلاصہ یہ ہوا کہ اپنے اوقات کی قدر کریں۔ زندگی کی شمع بجھنے سے پہلے خود کو نیک اور مفید کاموں میں لگائیں۔ اپنی عاقبت کو مستحضر رکھیں۔ اعمال صالحہ کا التزام کریں جو کل کو ہمارے لیے روشنی کا باعث بنیں۔ اور سرمایہ زندگی سے بھرپور استفادہ کریں۔

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow