تحریر۔۔۔آمینہ یونس سکردو بلتستان
اگر انسان تخلیقِ انسان پر غور کرے تو وہ اپنے انسان ہونے پر نازاں ہوا کرے۔ کبھی کبھی انسان کہتا ہے:
”کاش میں فرشتہ ہوتا۔“
لیکن انسان یہ کیوں نہیں کہتا؟ ”الحمدللہ اللہ نے مجھے فرشتہ نہیں بلکہ انسان بنایا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
”میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔“ البقرہ:30
یہ دیکھو کہ انسان سے اللہ کی محبت کس قدر عظیم ہے کہ اس نے اسے اپنا خلیفہ مقرر کیا اور تمام فرشتوں سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرایا۔ انسان کی فضیلت میں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔
پھر ہم کیوں یہ کہتے ہیں کہ ”کاش ہم فرشتہ ہوتے“؟ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم انسان اللہ کے نزدیک کتنا افضل اور بلند مقام رکھتے ہیں۔ اس کے پیچھے ایک عظیم راز پوشیدہ ہے؛ انسانوں میں وہ انسان پیدا ہونا تھا جس کا نور اللہ نے کائنات سے پہلے پیدا فرمایا تھا۔ اسی نور کی بدولت جنت میں فرشتوں نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا اور اسی نور کی بدولت اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا۔
دیکھو! کیا تم نے غور کیا کہ اللہ تعالیٰ کتنا بہترین کارساز اور خوبصورت منصوبہ ساز ہے؟ وہ ہر چیز کو حکمت اور محبت سے تخلیق کرتا ہے۔ جیسے ایک انسان اپنی زندگی کے لیے منصوبہ بندی کرتا ہے، پڑھائی کرتا ہے، نوکری حاصل کرتا ہے، شادی کرتا ہے اور گھر بساتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے بھی انسان کو اپنی محبت اور رحمت کے تحت تخلیق کیا۔
لوگو! غور کرو، غور کرو۔
اگر غور کرو تو کائنات کی تخلیق کی وجہ پردہ در پردہ تم پر کھلتی چلی جائے گی۔ تم حیرت میں ڈوب جاؤ گے اور یہ حقیقت تم پر عیاں ہو جائے گی کہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت نورِ مصطفیٰ ﷺ ہے؛ جس کے سبب انسان کو فضیلت ملی اور کائنات کو وجود ملا۔
یا محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
تیری محبت خدا کو پانے کا راز ہے۔ تیرا عشق ہی ہماری کامیابی ہے اور تیرے ذکر میں اللہ کی خوشی ہے۔
اللہم صلی علیٰ محمد وآلہ محمد۔
Latest Posts
