تحریر۔۔۔ عبدالجبارسلہری
پاکستان میں سیاسی جماعتیں ہمیشہ سے اپنی نظریاتی اور عملی حیثیت کے لحاظ سے اہم رہی ہیں، لیکن جب بات مذہبی جماعتوں کی ہو، تو ان کا کردار مختلف پہلوؤں سے بہت گہرا ہوتا ہے۔ ان جماعتوں میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی حیثیت نمایاں ہے۔جمعیت علمائے اسلام ایک مذہبی اور سیاسی جماعت ہے جو پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ اور مذہبی طبقے کی سیاست کی حمایت میں ہمیشہ فعال رہی ہے۔ اس جماعت کا کردار وقتاً فوقتاً اہمیت اختیار کرتا رہا ہے اور اس میں نوجوانوں کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوئی۔ خصوصاً سیالکوٹ جیسے اہم شہر میں، جہاں کی سیاست میں ایک خاص نوعیت کا تاثر موجود ہے، نوجوانوں نے جمعیت علمائے اسلام کو فعال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستان کی موجودہ سیاسی اور سماجی فضا میں نوجوانوں کا کردار بہت اہم ہو چکا ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جو تعلیم یافتہ اور دنیا کے جدید رجحانات سے باخبر ہے، ہمیشہ سیاسی جماعتوں میں ایک متحرک قوت کے طور پر ابھری ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو نہ صرف معاشرتی مسائل کو سمجھتا ہے، بلکہ ملک کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ سیالکوٹ میں بھی یہی صورتحال ہے، جہاں مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے جے یو آئی کی طرف رجوع کیا اور اسے اپنے سیاسی عمل کا حصہ بنایا۔سیالکوٹ کی سیاسی تاریخ ہمیشہ سے مختلف جماعتوں کے درمیان معرکہ آرائی کا میدان رہی ہے، اور یہاں کی عوام نے سیاسی طور پر اہم فیصلے کیے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے حوالے سے اس شہر کی تاریخ کو دیکھیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس جماعت نے اس شہر میں اپنے سیاسی اثرورسوخ کو مستحکم کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ، یہاں کی عوامی سطح پر جے یو آئی کا کوئی خاص مقام نہ رہا ہے اور مذہبی جذبات کی حامل جماعت ہونے کی وجہ سے سیالکوٹ میں اس کا ایک مضبوط ووٹ بینک بھی نہ رہا ہے۔اگرچہ ماضی میں اس جماعت کا سیاسی اثر کمزور ہوا، مگر حالیہ دنوں میں نوجوانوں نے اس جماعت کی فعالیت میں ایک نئی روح پھونکی ہے۔ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی آگاہی اور ان کا جے یو آئی کی طرف بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذہبی جماعتیں اب اپنے پیغام کو جدید طریقوں سے عوام تک پہنچانے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔نوجوانوں کے سیاسی شعور کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات ضروری ہے کہ سیالکوٹ جیسے شہر میں جہاں کاروباری، تعلیمی اور سماجی سرگرمیاں بہت زیادہ ہیں، یہاں کے نوجوانوں میں جے یو آئی کی سیاسی فکر کو سمجھنے کی ایک بڑھتی ہوئی لہر دیکھنے کو ملی ہے۔ یہ لہر جے یو آئی کے اجتماعی پیغام کی کامیاب تشہیر کا نتیجہ ہے، جس میں جماعت نے نوجوانوں کو ایک طاقتور اور بااثر سیاسی آواز بنانے کی کوشش کی ہے۔جے یو آئی کے نوجوان رہنما مولانا عثمان معاویہ صاحب نے اپنے سیاسی پیغامات کو جدید میڈیا کے ذریعے نوجوانوں تک پہنچایا، اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس طرح، جے یو آئی نے نوجوانوں میں ایک نظریاتی فہم پیدا کیا جو انہیں مذہبی سیاست کی طرف راغب کرتا ہے۔ نوجوانوں نے اس جماعت کے پروگرامز، سیمینارز، اور اجتماعات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اور ان کی سیاست میں حصہ داری نے جے یو آئی کو سیالکوٹ میں دوبارہ فعال کیا۔اگر ہم جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کا جائزہ لیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ان وسائل نے نوجوانوں کو ایک نیا پلیٹ فارم دیا ہے، جہاں وہ اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں۔ سیالکوٹ میں جے یو آئی نے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا ہے تاکہ نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کر سکے۔ جے یو آئی کے رہنماؤں نے فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر اپنی سیاسی سرگرمیاں بڑھائیں، جس سے سیالکوٹ کے نوجوانوں میں جماعت کے پیغام کی پزیرائی ہوئی۔اس کے علاوہ، جے یو آئی نے اپنی سیاسی تحریک کو اور بھی زیادہ فعال کرنے کے لیے نوجوانوں کو مختلف فورمز پر تربیت دینے کا عمل شروع کیا۔ ان تربیتی پروگرامز میں نوجوانوں کو نہ صرف سیاسی مہارتیں سکھائی گئیں بلکہ انہیں ملک کی موجودہ سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر بھی آگاہ کیا گیا، تاکہ وہ ایک معلوماتی اور موثر سیاسی ایجنڈا تیار کر سکیں۔سیالکوٹ میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے جے یو آئی کے مؤقف کو اپنایا اور اس کے نظریات کو اپنے سیاسی عمل کا حصہ بنایا۔ ان نوجوانوں کی حمایت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے اپنی تمام تر توانائی جے یو آئی کی طرف لگائی اور اس کے پیغام کو اپنے حلقوں تک پہنچایا۔ اس کے علاوہ، ان نوجوانوں نے انتخابی مہموں میں حصہ لیا اور جماعت کی کامیابی کے لیے زمین پر کام کیا۔سیالکوٹ کے نوجوانوں کی جے یو آئی کے حق میں بڑھتی ہوئی حمایت نے جماعت کو سیالکوٹ میں مزید فعال اور متحرک کر دیا۔ اس کے نتیجے میں سیالکوٹ میں جے یو آئی کی سیاسی پوزیشن میں اضافہ ہوا، اور اس جماعت نے نہ صرف سیاسی میدان میں اپنی موجودگی کو مستحکم کیا بلکہ مذہبی اور سماجی حوالے سے بھی اپنی اہمیت میں اضافہ کیا۔جمعیت علمائے اسلام سیالکوٹ کے نوجوان رہنماؤں اور اکابر جیسے استاذ العلماء محترم مفتی عارف صاحب، جناب مفتی الیاس صاحب ، مولانا نور الحسن، حافظ اکبر صاحب نے اپنی محنت، جذبے اور کارکردگی سے اس جماعت کو ایک نیا عروج بخشا۔ ان نوجوان رہنماؤں کی قیادت میں، جمعیت علمائے اسلام نے نہ صرف مقامی سطح پر اپنی موجودگی کو مستحکم کیا بلکہ قومی سطح پر بھی ایک موثر سیاسی اور دینی قوت کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔ ان کی جدوجہد اور خدمات نے جماعت کو نوجوانوں میں مقبول بنایا اور دینی، سیاسی میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کیں۔سیالکوٹ میں جے یو آئی کے فعال ہونے میں نوجوانوں کی سیاسی شراکت داری کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ یہ نوجوانوں کا عزم تھا جس نے جے یو آئی کو سیالکوٹ میں ایک نئی سیاسی حقیقت بنا دیا۔ ان نوجوانوں نے اپنی جماعت کے سیاسی ایجنڈے کے مطابق مقامی سطح پر کام کیا، اور اس کے نتیجے میں جے یو آئی نے نہ صرف سیالکوٹ کی سیاست میں قدم جمایا بلکہ اس کے اثرات صوبائی اور قومی سطح تک محسوس کیے گئے۔سیالکوٹ میں جمعیت علمائے اسلام کی فعالیت کو نوجوانوں کی حمایت اور ان کی سرگرم شرکت کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں۔ اس شہر میں جے یو آئی کی کامیابی کی داستان دراصل ان نوجوانوں کی سیاسی بصیرت اور جذبے کا ثمر ہے، جنہوں نے اپنے وقت کا بہترین استعمال کرتے ہوئے جماعت کی حیثیت کو دوبارہ مستحکم کیا۔آج کے نوجوان نہ صرف سیاسی طور پر باخبر ہیں بلکہ اپنے ملک کے مستقبل کی تشکیل میں بھی ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ جے یو آئی کو سیالکوٹ میں فعال کرنے میں ان نوجوانوں کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، کیونکہ یہ وہ نسل ہے جس نے اپنی جماعت کو ایک نئے عہد میں داخل کرایا اور اسے کامیابی کی راہ پر گامزن کیا۔
Latest Posts
