شہنشاہِ تعمیر و ترقی۔۔۔ میاں منظور احمد وٹو

تحریر۔۔۔رفیع صحرائی
وہ علم و فن کا پیمبر ادب کا گہوارا
سیاہیوں سے بھی شبنم نکھارنے والا
اسے تھی خبر کہ طوفاں کے بعد کیا ہو گا
سمندروں میں بھی کشتی اتارنے والا
جب میں اپنے ممدوح میاں منظور احمد وٹو کی حیاتِ گزشتہ پر نظر دوڑاتا ہوں توحیرت کدوں کے بے شمار در وا ہو جاتے ہیں۔بی ڈی ممبری سے وزارتِ اعلیٰ کے منصبِ جلیلہ تک رسائی کا سفر، پھر دو وفاقی وزارتیں، خدمات کا طویل سفر اور شہنشاہِ تعمیر و ترقی کا خطاب۔ شاید اس میں ان کی تاریخ پیدائش کا کرشمہ بھی شامل ہے۔ 14 اگست کو پاکستان کی تشکیل کا معجزہ رونما ہوا، 14اگست ہی اس کرشمہ ساز اور معجز نما شخصیت کا یومِ پیدائش ٹھہرا۔ پاکستان عالمِ اسلام کا سرخیل بنا، میاں منظور احمد وٹو اپنی بصیرت اور سیاسی بصارت کے طفیل بامِ عروج پر پہنچے۔ ہاں مگر یہ بات کہنے کی حد تک ہی آسان ہے۔ میاں منظور احمد وٹو گیلی زمین کھود کر فرہاد نہیں بنے، انہیں اقتدار کی شیریں کے حصول کے لیے جفاکش کوہکن بننا پڑا۔ اپنے تیشیکی دھار کو ہمہ وقت آبدار رکھنا پڑا۔ البتہ ایک بہت بڑا فرق ان میں اور فرہاد میں یہ رہا کہ فرہاد جان لیوا کوہ کنی کے بعد بھی نامراد ہی رہا مگر میاں منظور احمد وٹو اپنے تیشے کے استعمال یعنی محنت کے ساتھ ساتھ بصیرت اور بصارت کو بھی بروئے کار لائے جس کے نتیجے میں اقتدار کی شیریں منزل بن کر ان کے قدموں میں بچھ گئی۔ یہ وہ اعزاز ہے کہ جس کے حصول کے لیے خاک در خاک بھی ہونا پڑتا ہے۔
میاں منظور احمد وٹو سیاست میں ایک بہت بڑے ریفارمر کے طور پر سامنے آئے۔ دیکھا جائے تو سیاست میاں منظور احمد وٹو کے لیے بڑی نفع بخش رہی، مگر یہ نفع معاشی لحاظ سے نہیں بلکہ شہرت اور نیک نامی کی صورت میں انہیں ملا۔
1983ء میں میاں منظور وٹو پہلی دفعہ چیئرمین ضلع کونسل بنے تو ضلع اوکاڑا میں تعمیر و ترقی کا انقلاب برپا ہو گیا۔ آپ کی ترجیحات میں پہلے نمبر پر تعلیم تھی۔ پرائمری ایجوکیشن کے فروغ کے لیے آپ نے خصوصی دلچسپی لی۔ بیشمار نئے سکولز کا قیام عمل میں لایا گیا، سینکڑوں سکولوں کی نئی عمارتیں تعمیر کی گئیں اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ضلع پنجاب کے ٹاپ فائیو اضلاع میں شامل ہو گیا۔
دوسرے نمبر پر آپ کی ترجیح صحت کا شعبہ تھی۔ دور دراز علاقوں میں ہسپتالوں کا جال بچھ گیا۔ کسانوں کے لیے منڈیوں تک رسائی آسان بنانے کی خاطر گاؤں گاؤں سڑکیں تعمیر ہو گئیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے نیت کو بھاگ لگایا اور آپ ایم پی اے منتخب ہونے کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی بن گئے۔ یوں خدمات کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا۔ حلقہ احباب بھی بڑھ گیا جس نے آگے چل کر میاں منظور وٹو کے لیے ترقی کی راہیں مزید ہموار کر دیں۔
آپ کی وجہ سے ضلع اوکاڑا خصوصاً تحصیل دیپال پور کے بے روزگار نوجوانوں کی قسمت کا ستارا چمک گیا۔ بے شمار نوکریاں دلانا آپ کے کریڈٹ پر ہے۔ بطور وزیرِ اعلیٰ صوبہ پنجاب کے پرائمری سکولوں کے لیے انگلش ٹیچرز کی پچاس ہزار نئی آسامیوں کی آپ نے منظوری دی جن پر بی اے پاس نوجوانوں کو بطور انگلش ٹیچر بھرتی کیا گیا۔ صوبہ پنجاب میں معیاری تعلیم کے فروغ اور بے روزگاری میں کمی لانے کی یہ ایک کامیاب عملی کوشش تھی۔
میاں منظور وٹو اپنے سیاسی کیریئر میں اس حقیقت کو بہت اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، دوسروں کے پیچھے چلنے والا پیچھے ہی رہ جاتا ہے یا مزید پیچھے کر دیا جاتا ہے۔ یہاں ہر ایک کو پانی کے لیے اپنا کنواں خود کھودنا پڑتا ہے۔ خطروں کا یہ کھلاڑی میدانِ کارزار میں کود پڑا۔ ریس میں بڑے بڑے جہاز شامل تھے مگر انہوں نے اللّٰہ کے بھروسے پر اپنی کشتی سمندر میں اتار دی۔ یہ مقولہ سچ ثابت ہوا کہ قسمت بہادروں کا ساتھ دیا کرتی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو اس ریس میں کامیاب ٹھہرے۔ وزارتِ اعلیٰ کا تاج ان کے سر پر سج گیا۔ اس منصب کو شایانِ شان حق دار مل گیا۔ حق تو یہ ہے کہ میاں منظور احمد وٹو نے وزیرِ اعلیٰ بننے کا حق ادا کر دیا۔
بلا شبہ یہ میاں منظور وٹو کے عروج کی انتہا تھی۔ میاں صاحب نے موقع سے بھر پور فائدہ اٹھایا۔ پنجاب بھر میں عمومی اور ضلع اوکاڑا میں خصوصی ترقی کا نیا دَور شروع ہو گیا۔ کہیں نوجوان نسل کے لیے سٹیڈیم تعمیر ہوئے تو کہیں کالجز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ کہیں گرڈ سٹیشنز منظوری ہوئی تو کہیں اعلیٰ معیار کی پختہ سڑکیں معرضِ وجود میں آ گئیں مگر طبیعت تھی کہ خدمت کے کاموں سے سیر ہی نہیں ہوتی تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میاں صاحب اپنے آفس میں بیٹھے ہوتے، مختلف وفود ملاقات کو پہنچتے، بات چیت جاری رہتی، ساتھ ساتھ فائلیں بھی دیکھتے جاتے۔ لوگوں کے ذاتی مسائل کی شنوائی بھی جاری رہتی اور ان کے حل کے اقدامات بھی ہوتے رہتے مگر جونہی کوئی اجتماعی کام میاں صاحب کے نوٹس میں لایا جاتا، آپ عینک کے اوپر سے تجویز دینے والے کو دیکھتے، سامنے پڑی فائل کو بند کر دیتے، قلم ایک طرف رکھ دیتے، عینک اتار کر میز پر رکھتے اور پوری توجہ سے ہمہ تن گوش ہو جاتے۔ یہی نہیں، مجوزہ منصوبے کے ایک ایک پہلو پر بات کرتے جزئیات طے کی جاتیں اور پھر موقع پر ہی اس منصوبے کی تکمیل کے احکام بھی جاری کر دیتے۔
عام لوگوں کی بھلائی اور خدمت آپ کا نصب العین رہا۔ دل تھا کہ خدمت سے بھرتا ہی نہ تھا۔ بعض اوقات کچھ کام چاہتے ہوئے بھی نہ کر پاتے کہ قانونی ضابطے آڑے آ جاتے، مگر لیڈرہمیشہ لیڈر ہی ہوتا ہے۔ جذبے سچے ہوں تو راہیں نکل ہی آتی ہیں۔ خدمات کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے میاں منظور احمد وٹو کی رہنمائی میں ان کی والدہ محترمہ امیر بیگم کے نام سے آپ کی ہونہار بیٹی محترمہ روبینہ شاہین کی سربراہی میں امیربیگم ویلفیئر ٹرسٹ کا قیام عمل میں لایا گیا اور یوں نہ صرف عوامی بھلائی کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا بلکہ میاں منظور وٹو نے سماجی خدمات کے لیے غیر سیاسی پلیٹ فارم سے اپنے خاندان کے دیگر افراد کو بھی شامل کر لیا۔ خصوصاً آپ کی قابلِ فخر بیٹی روبینہ شاہین وٹو نے انسانوں اور انسانیت کی بھلائی کے لیے وہ گراں قدر خدمات سر انجام دیں کہ جس کی مثال ملنا ممکن نہیں۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال دیپال پور میں گردوں کے ڈائیلسز کے لیے مکمل سہولیات اور مشینری کی فراہمی ایسا عظیم کارنامہ ہے جو ان کی تمام نیکیوں پر بھاری ہے۔ اس ٹرسٹ کے تحت ضلع بھر کے گاؤں گاؤں اور قصبات میں چلنے والے واٹر فلٹریشن پلانٹس عوام کے لیے بہت بڑی نعمت ثابت ہو رہے ہیں۔ اسی ٹرسٹ کے تحت دور دراز دیہات میں سکولز قائم کیے گئے ہیں جہاں بچے اور بچیاں نہ صرف مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں بلکہ وردی اور شوز بھی انہیں سکولز کی طرف سے مہیا کیے جاتے ہیں۔ اس ٹرسٹ کی طرف سے ٹیلنٹڈ طلبہ کو ہر سال لاکھوں روپے کے نہ صرف وظائف دیے جاتے ہیں بلکہ ان کی تعلیم کی تکمیل تک تمام اخراجات برداشت کر کے مستحق اور نادار طلبہ کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو آسان بنا دیا گیا ہے۔ اب تک تین ہزار سے زائد غریب بچیوں کی شادی بھی اس ٹرسٹ کے کریڈٹ پر ہے۔ ان بچیوں کو مکمل جہیز کے ساتھ میاں منظور وٹو نے خود باپ کی طرح رخصت کیا ہے۔
ایک وقت ایسا بھی آیا کہ 2008ء میں میاں منظور احمد وٹو خود اور ان کے صاحبزادے میاں خرم جہانگیر وٹو ایم این اے جبکہ ان کی صاحبزادی، محترمہ روبینہ شاہین وٹو ایم پی اے منتخب ہوئیں۔ میاں منظور وٹو وفاقی وزیر دفاع اور وزیر برائے گلگت بلتستان کے مناصب پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔
آج کل میاں منظور وٹو ضعیف العمری کے سبب سیاست میں بہت زیادہ متحرک نہیں ہیں تاہم ان کے بیٹے میاں معظم جہاں زیب وٹو اور میاں خرم جہانگیر وٹو
پوری تن دہی سے ان کے سیاسی مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
یوں تو وقت نے پیدا کیے ہیں لوگ بڑے
وہ ایک شخص مگر آسمان قامت ہے۔

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow