غزل

شاعر۔۔۔۔ذوالفقار ہمدم اعوان
نگاہِ ناز سے رشتہ جو استوار رہے
سدا عروج پہ پھولوں کا کاروبار رہے
میں بڑھ رہا تھا پیچھے سے وار ہوتے رہے
مری نگاہوں سے اوجھل اگرچہ یار رہے
یہ اور بات رہی چپ کی مہر ہونٹوں پر
زمانے والوں سے شکوے تو بے شمار رہے
یہ دل رہے نہ رہے، یہ جہاں رہے نہ رہے
مگر وہ لمحۂ دیدار برقرار رہے
تری گلی کی زیارت ہو ہر گھڑی جو نصیب
یہی دعا میرے لب پہ بار بار رہے
چراغِ جاں کو جلاؤ کہ روشنی پھیلے
تمام شہر کا اطراف تابدار رہے
چھپا کے رکھنا محبت میں بغضِ اعظم ہے
یہ دل کہ چاہے جسے اس پہ آشکار رہے
دعائیں مانگتا رہتا ہوں میں خدا کے حضور
کہ میرے دل میں تری یاد برقرار رہے
ہنسے ضرور تھے لیکن ترے ہی ساتھ ہنسے
تمام عمر ترے بعد سوگوار رہے
وہ جس کو لینے سے اہلِ شہر دشمن ہیں
مرے لبوں پہ وہی نام بار بار رہے
فنا کے بعد بھی خوشبو رہے وفاؤں کی
مرا وجود ہواؤں میں برقرار رہے
چلے بھی جاؤ تو دل کو سکوں میسر ہو
مرا مزاج تو آئے تو خوشگوار رہے
ترے بغیر یہ دنیا لگے اداس نگر
خدا کرے کہ زمانے کو مجھ سے پیار رہے
مرے قلم سے نکلتے رہیں ترانے ترے
یہ دل تو دل ہے مری جان بھی نثار رہے
کمانِ غیر سے بے شک ہزاروں تیر چلیں
تری دعاؤں کا اطراف میں حصار رہے
یہ آنکھ نم نہ ہو تیری جدائیوں کے بعد
خیال و خواب میں حاصل مجھے قرار رہے
محبتوں کا مسافر تمام عمر رہوں
ترے دیار کے پھیروں پہ اختیار رہے
ٹکا کے سر کو جو شانے سے سو گیا کوئی
خدا کرے کہ سلامت یہ اعتبار رہے
ہنسی خوشی سے رخصت تو کر کے آئے تھے
پر اس کے بعد بہت دیر اشکبار رہے
یتیم بچوں کی دولت پہ تھی نظر سب کی
کہاں کہاں سے محبت کے دعوےدار آئے

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow